مسافت کی گراں ہر ایک ساعت ٹُوٹ جاتی ہے
تِری چشمِ عنایت سے اذیت ٹوٹ جاتی ہے
تِری یادوں کی صورت سے نکلتی ہے عجب صورت
اُجالے یوں برستے ہیں کہ ظلمت ٹوٹ جاتی ہے
صدائے حق شناسی گشت کرتی رہتی ہے لیکن
زمانہ یہ سمجھتا ہے صداقت ٹوٹ جاتی ہے
مسافت کی گراں ہر ایک ساعت ٹُوٹ جاتی ہے
تِری چشمِ عنایت سے اذیت ٹوٹ جاتی ہے
تِری یادوں کی صورت سے نکلتی ہے عجب صورت
اُجالے یوں برستے ہیں کہ ظلمت ٹوٹ جاتی ہے
صدائے حق شناسی گشت کرتی رہتی ہے لیکن
زمانہ یہ سمجھتا ہے صداقت ٹوٹ جاتی ہے
اک خلش ہے مِرے باہر مِری دمساز گِری
کس بلندی پہ تھی جس دم مری پرواز گری
میری دہلیز پہ رکھا ہے کچھ انگاروں سا
میرے آنگن میں بھی جُھلسی ہوئی آواز گری
کسی اعزاز پہ اب سکۂ دل کیا اُچھلے
اس تواتر سے میاں! قیمتِ اعزاز گری
کوئی دو چار نہیں، محوِ تماشا سب ہیں
میرے احساس کی آواز پہ زندہ سب ہیں
کوئی جگنو کوئی تارہ کوئی سورج کوئی چاند
اور عجب بات کہ محرومِ اُجالا سب ہیں
اس جگہ بھی نہ ہوئی درد کی لذت محسوس
میں سمجھتا تھا جہاں میرے شناسا سب ہیں
عجب تھا زعم کہ بزم عزا سجائیں گے
مِرے حریف لہو کے دیئے جلائیں گے
میں تجربوں کی اذیت کسے کسے سمجھاؤں
کہ تیرے بعد بھی مجھ پر عذاب آئیں گے
بس ایک سجدۂ تعظیم کے تقابل میں
کہاں کہاں وہ جبینِ طلب جھکائیں گے
دل کی مٹی چپکے چپکے روتی ہے
یار کہیں برسات غموں کی ہوتی ہے
بے چینی میں ڈوبے جبہ اور دستار
فاقہ مستی چادر تان کے سوتی ہے
پیار محبت رشتے ناطے پیر فقیر
دیکھ غریبی کیا کیا دولت کھوتی ہے