فریب ذوق کو ہر رنگ میں عیاں دیکھا
جہاں جہاں تجھے ڈھونڈا وہاں وہاں دیکھا
وہی ہے دشت جنوں اور وہی ہے تنہائی
تِرے فریب کو اے گردِ کارواں دیکھا
ہے برق کو بھی کوئی لاگ نا مرادوں سے
گری تڑپ کے جہاں اس نے آشیاں دیکھا
فریب ذوق کو ہر رنگ میں عیاں دیکھا
جہاں جہاں تجھے ڈھونڈا وہاں وہاں دیکھا
وہی ہے دشت جنوں اور وہی ہے تنہائی
تِرے فریب کو اے گردِ کارواں دیکھا
ہے برق کو بھی کوئی لاگ نا مرادوں سے
گری تڑپ کے جہاں اس نے آشیاں دیکھا
حقیقت سامنے تھی اور حقیقت سے میں غافل تھا
مِرا دل تیرا جلوہ تھا، تِرا جلوہ مِرا دل تھا
ہوا نظارہ لیکن یوں کہ نظارہ بھی مشکل تھا
جہاں تک کام کرتی تھیں نگاہیں طور حائل تھا
رہا جان تمنا بن کے جب تک جان مشکل تھا
نہ تھی مشکل تو اس کے بعد پھر کچھ بھی نہ تھا دل تھا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
وہ سوچتے تھے آج جو ہوتے یہاں رسولؐ
کیا ان مطالبات کو کر لیتے وہ قبول؟
واقف ہے خود یزید ہمارا ہے کیا اصول
پھر بحث اس نے چھیڑ دی ہے ہم سے کیا فضول
کیا واقعہ نہیں ہیں ٹھکانے اب اُس کے ہوش
سمجھا تھا اس نے ہم کو بھی شاید خدا فروش
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
کہتے تھے خود رسولؐ کہ بیٹھا ہوں قبلہ رُو
مجھ سا میرے حسینؑ کو پاؤ گے ہو بہو
عادات میں کہیں سے نہیں فرق مو بمو
دیکھو مِرے حسینؑ میں مِری ہر ایک خو
میں خود کو دیکھتا ہوں تو ہوں سر بسر حسینؑ
آئینہ درمیاں ہے اِدھر میں، اُدھر حسینؑ
اب بعد فنا کس کو بتاؤں کہ میں کیا تھا
اک خواب تھا اور خواب بھی تعبیر نما تھا
اب تک وہ سماں یاد ہے جب ہوش بجا تھا
ہر شے میں مجھے لطف تھا ہر شے میں مزا تھا
تم جور و جفا مجھ پہ نہ کرتے تو برا تھا
ہوتے نہ اگر ظلم تو کیا لطف وفا تھا
دِیر میں ہے وہ نہ کعبہ میں نہ بت خانے میں ہے
ڈھونڈھتا ہوں جس کو میں وہ میرے کاشانے میں ہے
یہ تِرا حسنِ تصور تیرے کاشانے میں ہے
تُو نہ آبادی میں ہے غافل نہ ویرانے میں ہے
ہے بجائے خود زمانہ بے کسی میں مبتلا
اب مروّت کا نشاں اپنے نہ بیگانے میں ہے
اگر غم تیرا غم ہے تو کوئی غم سے رہا کیوں ہو
جسے حاصل ہو تیرا قرب وہ تجھ سے جدا کیوں ہو
یہ ہستی و عدم کیوں ہو فنا کیوں ہو بقا کیوں ہو
تمہیں تم ہو تو پھر دل میں خیال ماسوا کیوں ہو
وفا میں ہے وفائی ہے وفائی میں وفا کیسی
وفا ہو تو جفا کیوں ہو جفا ہو تو وفا کیوں ہو
ملی/قومی گیت/نغمہ
چاند روشن چمکتا ستارہ رہے
سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا رہے
چاند روشن چمکتا ستارہ رہے
سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا رہے
اس جھنڈے پہ اب قوم کی لاج ہے
اس جھنڈے پہ سب کی نظر آج ہے
ہو راہ زن کی ہدایت کہ راہبر کے فریب
مِری نگاہ نے کھائے نظر نظر کے فریب
یہ بت کدہ یہ کلیسا، یہ مسجدیں یہ حرم
یہ سب فریب ہیں اور ایک سنگِ در کے فریب
سمجھ رہے تھے کہ اشکوں سے ہو گا دل ہلکا
نہ جانتے تھے کہ ہیں یہ بھی چشمِ تر کے فریب
اسی کا نام ہے دیوانہ بننا اور بنا دینا
بتوں کے سامنے جا کر خدا کا واسطہ دینا
نگاہ شوق کا بڑھ کر نقاب رخ اٹھا دینا
تِرے جلوے کا برہم ہو کے اک بجلی گرا دینا
خدائی ہی خدا کی خاک سے انساں بنا دینا
تمہارا کھیل ہے انساں کو مٹی میں ملا دینا