Showing posts with label شوکت تھانوی. Show all posts
Showing posts with label شوکت تھانوی. Show all posts

Thursday, 16 May 2024

فریب ذوق کو ہر رنگ میں عیاں دیکھا

فریب ذوق کو ہر رنگ میں عیاں دیکھا

جہاں جہاں تجھے ڈھونڈا وہاں وہاں دیکھا

وہی ہے دشت جنوں اور وہی ہے تنہائی

تِرے فریب کو اے گردِ کارواں دیکھا

ہے برق کو بھی کوئی لاگ نا مرادوں سے

گری تڑپ کے جہاں اس نے آشیاں دیکھا

Sunday, 12 May 2024

حقیقت سامنے تھی اور حقیقت سے میں غافل تھا

 حقیقت سامنے تھی اور حقیقت سے میں غافل تھا

مِرا دل تیرا جلوہ تھا، تِرا جلوہ مِرا دل تھا

ہوا نظارہ لیکن یوں کہ نظارہ بھی مشکل تھا

جہاں تک کام کرتی تھیں نگاہیں طور حائل تھا

رہا جان تمنا بن کے جب تک جان مشکل تھا

نہ تھی مشکل تو اس کے بعد پھر کچھ بھی نہ تھا دل تھا

Saturday, 29 July 2023

وہ سوچتے تھے آج جو ہوتے یہاں رسول

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


وہ سوچتے تھے آج جو ہوتے یہاں رسولؐ

کیا ان مطالبات کو کر لیتے وہ قبول؟

واقف ہے خود یزید ہمارا ہے کیا اصول

پھر بحث اس نے چھیڑ دی ہے ہم سے کیا فضول

کیا واقعہ نہیں ہیں ٹھکانے اب اُس کے ہوش

سمجھا تھا اس نے ہم کو بھی شاید خدا فروش

Friday, 28 July 2023

کہتے تھے خود رسول کہ بیٹھا ہوں قبلہ رو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


کہتے تھے خود رسولؐ کہ بیٹھا ہوں قبلہ رُو

مجھ سا میرے حسینؑ کو پاؤ گے ہو بہو

عادات میں کہیں سے نہیں فرق مو بمو

دیکھو مِرے حسینؑ میں مِری ہر ایک خو

میں خود کو دیکھتا ہوں تو ہوں سر بسر حسینؑ

آئینہ درمیاں ہے اِدھر میں، اُدھر حسینؑ

Monday, 26 June 2023

اب بعد فنا کس کو بتاؤں کہ میں کیا تھا

 اب بعد فنا کس کو بتاؤں کہ میں کیا تھا

اک خواب تھا اور خواب بھی تعبیر نما تھا

اب تک وہ سماں یاد ہے جب ہوش بجا تھا

ہر شے میں مجھے لطف تھا ہر شے میں مزا تھا

تم جور و جفا مجھ پہ نہ کرتے تو برا تھا

ہوتے نہ اگر ظلم تو کیا لطف وفا تھا

Sunday, 18 June 2023

دیر میں ہے وہ نہ کعبہ میں نہ بتخانے میں ہے

 دِیر میں ہے وہ نہ کعبہ میں نہ بت خانے میں ہے

ڈھونڈھتا ہوں جس کو میں وہ میرے کاشانے میں ہے

یہ تِرا حسنِ تصور تیرے کاشانے میں ہے

تُو نہ آبادی میں ہے غافل نہ ویرانے میں ہے

ہے بجائے خود زمانہ بے کسی میں مبتلا

اب مروّت کا نشاں اپنے نہ بیگانے میں ہے

Saturday, 18 February 2023

اگر غم تیرا غم ہے تو کوئی غم سے رہا کیوں ہو

 اگر غم تیرا غم ہے تو کوئی غم سے رہا کیوں ہو

جسے حاصل ہو تیرا قرب وہ تجھ سے جدا کیوں ہو

یہ ہستی و عدم کیوں ہو فنا کیوں ہو بقا کیوں ہو

تمہیں تم ہو تو پھر دل میں خیال ماسوا کیوں ہو

وفا میں ہے وفائی ہے وفائی میں وفا کیسی

وفا ہو تو جفا کیوں ہو جفا ہو تو وفا کیوں ہو

Saturday, 13 August 2022

چاند روشن چمکتا ستارہ رہے سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا رہے

 ملی/قومی گیت/نغمہ


چاند روشن چمکتا ستارہ رہے

سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا رہے

چاند روشن چمکتا ستارہ رہے

سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا رہے


اس جھنڈے پہ اب قوم کی لاج ہے

اس جھنڈے پہ سب کی نظر آج ہے

Friday, 11 June 2021

ہو راہزن کی ہدایت کہ راہبر کے فریب

 ہو راہ زن کی ہدایت کہ راہبر کے فریب

مِری نگاہ نے کھائے نظر نظر کے فریب

یہ بت کدہ یہ کلیسا، یہ مسجدیں یہ حرم

یہ سب فریب ہیں اور ایک سنگِ در کے فریب

سمجھ رہے تھے کہ اشکوں سے ہو گا دل ہلکا

نہ جانتے تھے کہ ہیں یہ بھی چشمِ تر کے فریب

Friday, 2 December 2016

اسی کا نام ہے دیوانہ بننا اور بنا دینا

 اسی کا نام ہے دیوانہ بننا اور بنا دینا

بتوں کے سامنے جا کر خدا کا واسطہ دینا

نگاہ شوق کا بڑھ کر نقاب رخ اٹھا دینا

تِرے جلوے کا برہم ہو کے اک بجلی گرا دینا

خدائی ہی خدا کی خاک سے انساں بنا دینا

تمہارا کھیل ہے انساں کو مٹی میں ملا دینا