Friday, 11 June 2021

ہو راہزن کی ہدایت کہ راہبر کے فریب

 ہو راہ زن کی ہدایت کہ راہبر کے فریب

مِری نگاہ نے کھائے نظر نظر کے فریب

یہ بت کدہ یہ کلیسا، یہ مسجدیں یہ حرم

یہ سب فریب ہیں اور ایک سنگِ در کے فریب

سمجھ رہے تھے کہ اشکوں سے ہو گا دل ہلکا

نہ جانتے تھے کہ ہیں یہ بھی چشمِ تر کے فریب

پتہ چلا کہ ہر اک گام میں تھی اک منزل

کھلے ہیں منزل مقصود پر سفر کے فریب

انہیں کا نام محبت انہیں کا نام جنوں

مِری نگاہ کے دھوکے تِری نظر کے فریب


شوکت تھانوی

No comments:

Post a Comment