Showing posts with label آفرین آفی. Show all posts
Showing posts with label آفرین آفی. Show all posts

Monday, 22 June 2026

جاگتے رہتے ہیں کچھ خواب مری آنکھوں میں

 اس لیے آتے ہیں سیلاب مِری آنکھوں میں

جاگتے رہتے ہیں کچھ خواب مری آنکھوں میں

یہ محبت کے بڑے خاص سبق ہوتے ہیں

تم نے دیکھے ہیں جو آداب مری آنکھوں میں

میں وہ صحرا جہاں اُمید نہیں بارش کی

ڈُوبتے جاتے ہیں سیراب مری آنکھوں میں

Wednesday, 14 January 2026

اک اجنبی سے پیار کیا ہائے کیا کیا

 اک اجنبی سے پیار کیا ہائے کیا کِیا

خود دل کو تار تار کیا ہائے کیا کیا

دل کو سکوتِ درد پہ مائل بھی کر لیا

آنکھوں کو آبشار کیا ہائے کیا کیا

جب دل مِرا ہر ایک تمنا سے بھر گیا

پھر تیرا انتظار کیا ہائے کیا کیا

Wednesday, 7 January 2026

دل میں آسیب تمنا کو چھپانے والے

 دل میں آسیبِ تمنّا کو چُھپانے والے

ساتھ میں رو لے کبھی مجھ کو رُلانے والے

لاکھ تعویذ بندھے، خوب دعائیں مانگیں

مگر آئے ہی نہیں لوٹ کے آنے والے

کیا گزرتی ہے مِرے دل پہ جُدائی میں تِری

تجھ کو احساس بھی ہے چھوڑ کے جانے والے

Monday, 5 April 2021

دوست آنے میں بڑی دیر لگا دی تم نے

دوست آنے میں بڑی دیر لگا دی تم نے

دل دُکھانے میں بڑی دیر لگا دی تم نے

مجھ کو دنیا سے گئے ایک زمانہ گزرا

غم منانے میں بڑی دیر لگا دی تم نے

اپنا دل ہم تو ہتھیلی پہ لیے بیٹھے تھے

آزمانے میں بڑی دیر لگا دی تم نے