اس لیے آتے ہیں سیلاب مِری آنکھوں میں
جاگتے رہتے ہیں کچھ خواب مری آنکھوں میں
یہ محبت کے بڑے خاص سبق ہوتے ہیں
تم نے دیکھے ہیں جو آداب مری آنکھوں میں
میں وہ صحرا جہاں اُمید نہیں بارش کی
ڈُوبتے جاتے ہیں سیراب مری آنکھوں میں
اس لیے آتے ہیں سیلاب مِری آنکھوں میں
جاگتے رہتے ہیں کچھ خواب مری آنکھوں میں
یہ محبت کے بڑے خاص سبق ہوتے ہیں
تم نے دیکھے ہیں جو آداب مری آنکھوں میں
میں وہ صحرا جہاں اُمید نہیں بارش کی
ڈُوبتے جاتے ہیں سیراب مری آنکھوں میں
اک اجنبی سے پیار کیا ہائے کیا کِیا
خود دل کو تار تار کیا ہائے کیا کیا
دل کو سکوتِ درد پہ مائل بھی کر لیا
آنکھوں کو آبشار کیا ہائے کیا کیا
جب دل مِرا ہر ایک تمنا سے بھر گیا
پھر تیرا انتظار کیا ہائے کیا کیا
دل میں آسیبِ تمنّا کو چُھپانے والے
ساتھ میں رو لے کبھی مجھ کو رُلانے والے
لاکھ تعویذ بندھے، خوب دعائیں مانگیں
مگر آئے ہی نہیں لوٹ کے آنے والے
کیا گزرتی ہے مِرے دل پہ جُدائی میں تِری
تجھ کو احساس بھی ہے چھوڑ کے جانے والے
دوست آنے میں بڑی دیر لگا دی تم نے
دل دُکھانے میں بڑی دیر لگا دی تم نے
مجھ کو دنیا سے گئے ایک زمانہ گزرا
غم منانے میں بڑی دیر لگا دی تم نے
اپنا دل ہم تو ہتھیلی پہ لیے بیٹھے تھے
آزمانے میں بڑی دیر لگا دی تم نے