زعفرانی کلام
لوگ ہم سے روز کہتے ہیں یہ عادت چھوڑئیے
یہ تجارت ہے خلافِ آدمیت، چھوڑئیے
اس سے بد تر لت نہیں ہے کوئی یہ لت چھوڑئیے
روز اخباروں میں چھپتا ہے کہ رشوت چھوڑئیے
کس کو سمجھائیں، اسے کھو دیں تو پھر پائیں گے کیا
ہم اگر رشوت نہیں لیں گے تو پھر کھائیں گے کیا