Showing posts with label جوش ملیح آبادی. Show all posts
Showing posts with label جوش ملیح آبادی. Show all posts

Saturday, 7 February 2026

لوگ ہم سے روز کہتے ہیں یہ عادت چھوڑئیے

 زعفرانی کلام


لوگ ہم سے روز کہتے ہیں یہ عادت چھوڑئیے

یہ تجارت ہے خلافِ آدمیت، چھوڑئیے

اس سے بد تر لت نہیں ہے کوئی یہ لت چھوڑئیے

روز اخباروں میں چھپتا ہے کہ رشوت چھوڑئیے


کس کو سمجھائیں، اسے کھو دیں تو پھر پائیں گے کیا

ہم اگر رشوت نہیں لیں گے تو پھر کھائیں گے کیا

Friday, 12 July 2024

جس وقت اک گروہ شریر و جفا شعار

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جس وقت اک گروہِ شریر و جفا شعار

جباّر و قہر بار و ستم گار و ہرزہ کار

خود بین و خود فریب و خود آرا و خود شمار

باطل نواز و خانہ بر انداز و حق شکار

دامانِ صلح و جَیبِ اماں پھاڑنے لگے

ہر بام پر جُنوں کے علَم گاڑنے لگے

Friday, 17 November 2023

اے محمد اے سوار توسن وقت رواں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اے محمدﷺ، اے سوارِ توسنِ وقتِ رواں

اے محمدﷺ، اے طبیبِ فطرت و نباضِ جاں

اے محمدﷺ، اے فقیہِ نفس و نقادِ جہاں

موت کو تُو نے وہ بخشی آب و تابِ جاوداں

زندگانی کے پجاری موت پر مرنے لگے

لوگ پیغامِ اجل کی آرزو کرنے لگے

Saturday, 29 July 2023

ہاں اے حسین تشنہ و رنجور السلام

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


ہاں اے حسینِؑ تشنہ و رنجُور، السّلام

اے مہمانِ عرصۂ بے نُور، السّلام

اے شمعِ حلقۂ شبِ عاشُور، السّلام

اے سینۂ حیات کے ناسُور، السّلام

اے ساحلِ فُرات کے پیاسے تِرے نثار

اے آخری نبیؐ کے نواسے تِرے نثار

Wednesday, 26 July 2023

اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزم کافری

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

شمعِ ہدایت

اے کہ تِرے جلال سے ہِل گئی بزمِ کافری​

رعشۂ خوف بن گیا رقصِ بُتانِ آذرِی​

خُشک عرب کی ریگ سے لہر اُٹھی، نیاز کی​

قُلزمِ نازِ حُسن میں، اُف ری تِری شناوری​

اے کہ تِرا غُبارِ راہ، تابشِ رُوئے ماہتاب​

اے کہ تِرا نشان پا، نازِشِ مہرِ خاوری

Sunday, 23 July 2023

تو نے حسین دہر کو ششدر بنا دیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


تُو نے حُسینؑ دہر کو ششدر بنا دیا​

طوفاں کو ناؤ، سیل کو لنگر بنا دیا​

ان تلخیوں کو قند بنایا جو زہر تھیں​

پھر مُسکرا کے قندِ مُکرر بنا دیا​

مولا حبیب ابنِ مظاہر کے شیب کو​

تُو نے شبابِ قاسمؑ و اکبرؑ بنا دیا

Saturday, 22 July 2023

حسین ابن علی دنیا کو حیراں کر دیا تو نے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


حسینؑ ابنِ علیؑ دنیا کو حیراں کر دیا تُوؑ نے​

سرابِ تشنگی کو آبِ حیواں کر دیا تو نے​

نظر ڈالی تو ذروں کو جواہر میں بدل ڈالا​

قدم رکھا تو شعلوں کو گُلستاں کر دیا تو نے​

تِریؑ کشتئ جاں کو غرق کرنے جب بڑھا طوفاں​

تو خود طوفاں کو غرقِ کشتئ جاں کر دیا تو نے

Friday, 21 July 2023

وہ رات جب امام کی گونجی تھی یہ صدا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


وہ رات جب امام کی گونجی تھی یہ صدا

اے دوستانِ صادق و یارانِ با صفا

باقی نہیں رہا ہے کوئی اور مرحلہ

اب سامنا ہے موت کا اور صرف موت کا

آنے ہی پر بلائیں ہیں اب تحت و فوق سے

جانا جو چاہتا ہے، چلا جائے شوق سے

Thursday, 6 July 2023

جوش ملیح آبادی (شخصی و علمی تعارف و حالات زندگی)

 جوش ملیح آبادی

جوش ملیح آبادی 5 دسمبر 1898 کو متحدہ ہندوستان کے مردم خیز خطے ملیح آباد، لکھنؤ کے محلہ مرزا گنج کے ایک علمی اور متمول آفریدی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام شبیر احمد خاں تھا، جسے بعد میں بدل کر شبیر حسن خاں کر لیا گیا، جوش ملیح آبادی آپ کا قلمی نام ہے۔ جوش صاحب نے تقسیم ہند کے بعد بھارت سے ہجرت کر کے 1958 میں کراچی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ جوش صاحب آخری عمر میں کراچی سے اسلام آباد منتقل ہو گئے تھے، جہاں غزل، نظم، نعت اور مرثیہ نگاری کے اس شہنشاہ نے 22 فروری 1982 کو اس جہانِ فانی کو الوداع کہا، آپ کو اسلام آباد میں ہی سپردِ خاک کیا گیا۔

Wednesday, 14 June 2023

اے مسلمانو مبارک ہو نویدِ فتح یاب

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اے مسلمانو! مبارک ہو نویدِ فتح یاب

لو وہ نازل ہو رہی ہے چرخ سے اُم الکتاب

وہ اُٹھے تاریکیوں کے بامِ گردُوں سے حجاب

وہ عرب کے مطلعِ روشن سے اُبھرا آفتاب


گُم ضیائے صُبح میں ‌شب کا اندھیرا ہو گیا

وہ کلی چٹکی، کِرن پُھوٹی، سویرا ہو گیا

Saturday, 16 July 2022

تو اگر سیر کو نکلے تو اجالا ہو جائے

 تُو اگر سیر کو نکلے تو اُجالا ہو جائے


سُرمئ شال کا ڈالے ہوئے ماتھے پہ سِرا

بال کھولے ہوئے، صندل کا لگائے ٹیکا

یوں جو ہنستی ہوئی تُو صبح کو آ جائے ذرا

باغِ کشمیر کے پھولوں کو اچنبھا ہو جائے

 تُو اگر سیر کو نکلے تو اُجالا ہو جائے


لے کے انگڑائی جو تُو گھاٹ پہ بدلے پہلو

Friday, 2 October 2020

روح شاعر آج پھر ہے وجد میں آئی ہوئی

 جامن والیاں


روحِ شاعر آج پھر ہے وجد میں آئی ہوئی

آم کے باغوں پہ ہے کالی گھٹا چھائی ہوئی

مست بھنورا گونجتا پھرتا ہے کوہ و دشت پر

روح پھرتی ہے کسی وحشی کی گھبرائی ہوئی

خارِ صحرا فیضِ ابر و باد سے نکھرے ہوئے

خاکِ گلشن موجِ ابر و بُو سے اترائی ہوئی

Tuesday, 29 September 2020

گداز دل سے باطن کا تجلی زار ہو جانا

 گدازِ دل سے باطن کا تجلی زار ہو جانا

محبت اصل میں ہے روح کا بیدار ہو جانا

نویدِ عیش سے اے دل ذرا ہُشیار ہو جانا

کسی تازہ مصیبت کے لیے تیار ہو جانا

وہ ان کے دل میں شوقِ خود نمائی کا خیال آنا

وہ ہر شے کا تبسم کے لیے تیار ہو جانا

Wednesday, 23 September 2020

مجھ سے ساقی نے کہی رات کو کیا بات اے جوش

مجھ سے ساقی نے کہی رات کو کیا بات اے جوش

یعنی اضداد ہیں پروردۂ یک ذات اے جوش

مست و بے گانہ گزر جا کرۂ خاکی سے

یہ تو ہے رہگزرِ سیلِ خیالات اے جوش

اور تو اور، خود انسان بہا جاتا ہے

کتنا پر ہول ہے طوفانِ روایات اے جوش

گل ہو گیا زمین پہ اوہام کا چراغ

 منقبت بر مولائے کائنات علی کرم اللہ وجہہ


گُل ہو گیا زمین پہ اوہام کا چراغ

تشکیک سے یقین کو حاصل ہوا فراغ

جھوما نسیمِ عقل سے نوعِ بشر کا باغ

اترا دماغ دل میں تو دل بن گیا دماغ

اوجِ خِرد پہ صبح کی سرخی عیاں ہوئی

یہ آئے تو حریمِ نظر میں اذاں ہوئی

Monday, 21 September 2020

آ کہ پھر آج ہم آہنگ ہوئی ہے لب جو

 آ کہ پھر آج ہم آہنگ ہوئی ہے لبِ جُو

نے کی لے، چاند کی تنویر، صبا کی خوشبو

منعقد پھر سے کروں محفلِ جمشید و قباد

دو گھڑی صدر نشینی پہ جو آمادہ ہو تُو

وقتِ کُن جو دلِ یزداں میں ہوا تھا غلطاں

میرے دل میں بھی وہی آ کے جگا دے جادو

وفا کے پیمان سب بھلا کر

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

خدا کے قاتل 


وفا کے پیمان سب بھلا کر 

جفائیں کرتے وفا کے قاتل 

رسولؐ حق کے جو امتی ہیں 

وہی ہیں آل عبا کے قاتل 

یہ اس کی اپنی ہی مصلحت ہے 

وہ جسم رکھتا نہیں ہے، ورنہ 

Sunday, 14 June 2020

کیوں ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونج رہی ہیں تکبیریں

کیوں ہند کا زنداں کانپ رہا ہے، گونج رہی ہیں تکبیریں
اکتائے ہیں شاید کچھ قیدی، اور توڑ رہے ہیں زنجیریں
بھوکوں کی نظر میں بجلی ہے توپوں کے دہانے ٹھنڈے ہیں
تقدیر کے لب کو جنبش ہے،۔ دم توڑ رہی ہیں تدبیریں
آنکھوں میں گدا کی سرخی ہے بے نور ہے چہرہ سلطاں کا
تخریب نے پرچم کھولا ہے، سجدے میں پڑی ہیں تدبیریں

Thursday, 9 January 2020

گریہ مسرت

گریۂ مسرت

نازنین و عفیف اک بیوی
یادِ شوہر میں سست بیٹھی تھی
غمزدہ، مضمحل پریشاں حال
شکل غمگین، پُرشکن خط و خال
سوزِ ہجراں کی آنچ سینے میں
پھر وہ برسات کے مہینے میں

یقین ڈوب گیا تو گماں سے کیا ہو گا

یقین ڈوب گیا تو گماں سے کیا ہو گا
زمیں سے جو نہ ہوا، آسماں سے کیا ہو گا
مزا تو جب ہے کہ نظمِ چمن پہ چھا جاؤ
شکایتِ روشِ باغباں سے کیا ہو گا
بہار، خونِ جگر سے اُگے تو بات بنے
نوائے شکوۂ جورِ خزاں سے کیا ہو گا