Showing posts with label عامر معان. Show all posts
Showing posts with label عامر معان. Show all posts

Friday, 31 March 2023

اک منتظر شباب ہے جوبن کا منتظر

 اک منتظر شباب ہے جوبن کا منتظر

یعنی حسین خواب ہے جوبن کا منتظر

آنے لگی ہے عشق پہ میرے بہار جو

لگتا ہے اک سراب ہے جوبن کا منتظر

کھلنے کو بے قرار ہے گلشن میں تازہ گل

دیکھو عدو جناب ہے جوبن کا منتظر

Monday, 11 April 2022

یوں اکیلا ہوں اپنے یاروں میں

 یوں اکیلا ہوں اپنے یاروں میں

چاند تنہا ہو جیسے تاروں میں

عشق کا امتحان لینا ہے

کودنا ہے مجھے شراروں میں

شہر میں بس گئے ہیں اہلِ ہوس

چل کے رہتے ہیں آؤ غاروں میں

Thursday, 24 March 2022

محبت بھیک میں ملتی تو اس کو مانگ لیتے ہم

 محبت بھیک میں ملتی

تو اس کو مانگ لیتے ہم

محبت ساز گر ہوتی

تواس کو گنگناتے ہم

محبت سوز گر ہوتی

تو دل سے ہم لگا لیتے

Saturday, 29 January 2022

محبت کی نشانی ہو گئی ہے

 محبت کی نشانی ہو گئی ہے

یہ شب اس کی دیوانی ہو گئی ہے

تم آئے ہو کُھلا ہے یہ بھی عُقدہ

کہ رُت کیوں کر سہانی ہو گئی ہے

سناتا ہوں مزے لے لے کے قصے

جوانی اک کہانی ہو گئی ہے

Saturday, 22 January 2022

لاکھ بہتر ہے کہ کٹ جائے جھکایا ہوا سر

 لاکھ بہتر ہے کہ کٹ جائے جھکایا ہوا سر

مان میرا ہے یہ شانوں پہ سجایا ہوا سر

اتنا مجبور نہ کر ساری حقیقت کہہ دے

کب سے الزام پہ چپ ہے یہ ستایا ہوا سر

یہ سیاست ہے یہاں دل نہیں سر ہوتا ہے

خود مٹاتے ہیں یہاں آپ بنایا ہوا سر

Friday, 31 December 2021

طعنہ زن تھی یہ دنیا راحتوں کے موسم میں

 طعنہ زن تھی یہ دنیا راحتوں کے موسم میں

گھر سے ہم نکل آئے بارشوں کے موسم میں

ہم سا کوئی ناداں ہے، ہم سا کوئی پاگل ہے

خوابِ قصل دیکھے ہے ہجرتوں کے موسم میں

ساتھ کوئی اپنا بھی دوستوں میں دے دیتا

رو رہے تھے ہم تنہا، قہقہوں کے موسم میں

Sunday, 26 December 2021

فخر کون و مکاں شافع عاصیاں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


فخرِ کون و مکاں، شافعِ عاصیاں

حامئ بے کساں، رہبرِ انس و جاں

تاجدارِ حرم اک نظر اس طرف

ہو زیارت مقامِ شہِ دو جہاںﷺ

رحمتِ دو جہاں آپؐ کی ذات ہے

شفقتِ بے کراں، مونسِ عاجزاں

Saturday, 25 December 2021

شان نبی کی بات ہے حرمت کی بات ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


شانِ نبیؐ کی بات ہے حُرمت کی بات ہے

جو بھی لکھا وہ تیریؐ امامت کی بات ہے

رحمت ہوئی ہے دیکھ یہ رحمت عزیز پر

شانِ نبیؐ لکھی جو عبادت کی بات ہے

ہر لفظ دے رہا ہے گواہی حضورؐ کی

ہر باب میں تریؐ ہی کرامت کی بات ہے

Friday, 24 December 2021

اداس پل میری سانسوں کے چھین لے کوئی

 اداس پل میری سانسوں کے چھین لے کوئی

یہ خار بھی میری راہوں کے چھین لے کوئی

خراب کر کے جو عادت یہ چھوڑ دیتے ہیں

سکون بے وفا بانہوں کے چھین لے کوئی

یہ مجھ کو یاد دلاتے ہیں تیرے چہرے کی

یہ رنگ روپ گلابوں کے چھین لے کوئی