اک منتظر شباب ہے جوبن کا منتظر
یعنی حسین خواب ہے جوبن کا منتظر
آنے لگی ہے عشق پہ میرے بہار جو
لگتا ہے اک سراب ہے جوبن کا منتظر
کھلنے کو بے قرار ہے گلشن میں تازہ گل
دیکھو عدو جناب ہے جوبن کا منتظر
اک منتظر شباب ہے جوبن کا منتظر
یعنی حسین خواب ہے جوبن کا منتظر
آنے لگی ہے عشق پہ میرے بہار جو
لگتا ہے اک سراب ہے جوبن کا منتظر
کھلنے کو بے قرار ہے گلشن میں تازہ گل
دیکھو عدو جناب ہے جوبن کا منتظر
یوں اکیلا ہوں اپنے یاروں میں
چاند تنہا ہو جیسے تاروں میں
عشق کا امتحان لینا ہے
کودنا ہے مجھے شراروں میں
شہر میں بس گئے ہیں اہلِ ہوس
چل کے رہتے ہیں آؤ غاروں میں
محبت بھیک میں ملتی
تو اس کو مانگ لیتے ہم
محبت ساز گر ہوتی
تواس کو گنگناتے ہم
محبت سوز گر ہوتی
تو دل سے ہم لگا لیتے
محبت کی نشانی ہو گئی ہے
یہ شب اس کی دیوانی ہو گئی ہے
تم آئے ہو کُھلا ہے یہ بھی عُقدہ
کہ رُت کیوں کر سہانی ہو گئی ہے
سناتا ہوں مزے لے لے کے قصے
جوانی اک کہانی ہو گئی ہے
لاکھ بہتر ہے کہ کٹ جائے جھکایا ہوا سر
مان میرا ہے یہ شانوں پہ سجایا ہوا سر
اتنا مجبور نہ کر ساری حقیقت کہہ دے
کب سے الزام پہ چپ ہے یہ ستایا ہوا سر
یہ سیاست ہے یہاں دل نہیں سر ہوتا ہے
خود مٹاتے ہیں یہاں آپ بنایا ہوا سر
طعنہ زن تھی یہ دنیا راحتوں کے موسم میں
گھر سے ہم نکل آئے بارشوں کے موسم میں
ہم سا کوئی ناداں ہے، ہم سا کوئی پاگل ہے
خوابِ قصل دیکھے ہے ہجرتوں کے موسم میں
ساتھ کوئی اپنا بھی دوستوں میں دے دیتا
رو رہے تھے ہم تنہا، قہقہوں کے موسم میں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
فخرِ کون و مکاں، شافعِ عاصیاں
حامئ بے کساں، رہبرِ انس و جاں
تاجدارِ حرم اک نظر اس طرف
ہو زیارت مقامِ شہِ دو جہاںﷺ
رحمتِ دو جہاں آپؐ کی ذات ہے
شفقتِ بے کراں، مونسِ عاجزاں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
شانِ نبیؐ کی بات ہے حُرمت کی بات ہے
جو بھی لکھا وہ تیریؐ امامت کی بات ہے
رحمت ہوئی ہے دیکھ یہ رحمت عزیز پر
شانِ نبیؐ لکھی جو عبادت کی بات ہے
ہر لفظ دے رہا ہے گواہی حضورؐ کی
ہر باب میں تریؐ ہی کرامت کی بات ہے
اداس پل میری سانسوں کے چھین لے کوئی
یہ خار بھی میری راہوں کے چھین لے کوئی
خراب کر کے جو عادت یہ چھوڑ دیتے ہیں
سکون بے وفا بانہوں کے چھین لے کوئی
یہ مجھ کو یاد دلاتے ہیں تیرے چہرے کی
یہ رنگ روپ گلابوں کے چھین لے کوئی