لاکھ بہتر ہے کہ کٹ جائے جھکایا ہوا سر
مان میرا ہے یہ شانوں پہ سجایا ہوا سر
اتنا مجبور نہ کر ساری حقیقت کہہ دے
کب سے الزام پہ چپ ہے یہ ستایا ہوا سر
یہ سیاست ہے یہاں دل نہیں سر ہوتا ہے
خود مٹاتے ہیں یہاں آپ بنایا ہوا سر
جلد بازی میں کہاں خوفِ خدا رہتا ہے
ہوش کھو دے نہ کہیں جوش میں آیا ہوا سر
فلسفہ حق کا مٹانا نہیں ممکن اے غنیم
کتنے لوگوں میں بٹا ایک مٹایا ہوا سر
عامر معان
No comments:
Post a Comment