Saturday, 22 January 2022

لاکھ بہتر ہے کہ کٹ جائے جھکایا ہوا سر

 لاکھ بہتر ہے کہ کٹ جائے جھکایا ہوا سر

مان میرا ہے یہ شانوں پہ سجایا ہوا سر

اتنا مجبور نہ کر ساری حقیقت کہہ دے

کب سے الزام پہ چپ ہے یہ ستایا ہوا سر

یہ سیاست ہے یہاں دل نہیں سر ہوتا ہے

خود مٹاتے ہیں یہاں آپ بنایا ہوا سر

جلد بازی میں کہاں خوفِ خدا رہتا ہے

ہوش کھو دے نہ کہیں جوش میں آیا ہوا سر

فلسفہ حق کا مٹانا نہیں ممکن اے غنیم

کتنے لوگوں میں بٹا ایک مٹایا ہوا سر


عامر معان

No comments:

Post a Comment