ہوا میں رقصاں ہیں دل کے پرزے، خرد کے طوفاں کا سلسلہ ہے
جنوں کی بستی اجڑ چکی ہے، وفا کے شہروں میں زلزلہ ہے
تمام صحرا نواز لوٹے،۔ سبھوں نے کنجِ چمن بسایا
مگر جو صرصر سے تھی شکایت، وہی صبا سے انہیں گلہ ہے
میں جس کو وحشت میں ڈھونڈتا تھا ہر ایک جنگل ہر ایک قریہ
وہ مصلحت کا لبادہ اوڑھے، صفِ عدو کے قریں ملا ہے