Showing posts with label حسن نعیم. Show all posts
Showing posts with label حسن نعیم. Show all posts

Saturday, 1 January 2022

ہوا میں رقصاں ہیں دل کے پرزے، خرد کے طوفاں کا سلسلہ ہے

 ہوا میں رقصاں ہیں دل کے پرزے، خرد کے طوفاں کا سلسلہ ہے

جنوں کی بستی اجڑ چکی ہے، وفا کے شہروں میں زلزلہ ہے

تمام صحرا نواز لوٹے،۔ سبھوں نے کنجِ چمن بسایا

مگر جو صرصر سے تھی شکایت، وہی صبا سے انہیں گلہ ہے

میں جس کو وحشت میں ڈھونڈتا تھا ہر ایک جنگل ہر ایک قریہ

وہ مصلحت کا لبادہ اوڑھے، صفِ عدو کے قریں ملا ہے

Thursday, 4 November 2021

اس میکدے میں عشق، وہ تنہا شراب ہے

 اس میکدے میں عشق، وہ تنہا شراب ہے

پینا ہے جس کا زہر،۔ نہ پینا عذاب ہے

سب سے مزے کی نیند، مری شب کی نیند تھی

سب سے حسین خواب، مرے دن کا خواب ہے

پریوں کے روپ رنگ، نہ شہزادیوں سے ڈھنگ

لاکھوں میں پھر بھی ایک وہی انتخاب ہے

Sunday, 17 October 2021

وہ جو درد تھا ترے عشق کا وہی حرف حرف سخن میں ہے

 وہ جو درد تھا تِرے عشق کا وہی حرف حرف سخن میں ہے

وہی قطرہ قطرہ لہو بنا،۔ وہی ریزہ ریزہ بدن میں ہے

وہ نسیم جانے کہاں گئی، وہ گلاب جانے کدھر کھلے

کوئی آگ پچھلی بہار کی مِرے قلب میں نہ چمن میں ہے

یہی وقت سیل رواں لیے مِری کشتیوں کو ڈبو گیا

کوئی لہر آب حیات کی ابھی گنگ میں نہ جمن میں ہے

Tuesday, 6 July 2021

خیر سے دل کو تری یاد سے کچھ کام تو ہے

 خیر سے دل کو تِری یاد سے کچھ کام تو ہے

وصل کی شب نہ سہی ہجر کا ہنگام تو ہے

نُورِ افلاک سے روشن ہو شبِ غم کہ نہ ہو

چاند تاروں سے مِرا نامہ و پیغام تو ہے

کم نہیں اے دلِ بے تاب! متاعِ اُمید

دستِ میخوار میں خالی ہی سہی جام تو ہے

Friday, 14 May 2021

کسی حبیب نے لفظوں کا ہار بھیجا ہے

 کسی حبیب نے لفظوں کا ہار بھیجا ہے

بسا کے عطر میں دل کا غُبار بھیجا ہے

ہوئی جو شام تو اپنا لباس پہنا کر

شفق کو جیسے دمِ انتظار بھیجا ہے

کسی نے ڈوبتی صبحوں تڑپتی شاموں کو

غزل کے جام میں شب کا خُمار بھیجا ہے

Wednesday, 12 May 2021

وہ بھی کہتا تھا کہ اس غم کا مداوا ہی نہیں

 وہ بھی کہتا تھا کہ اس غم کا مداوا ہی نہیں 

دل جلانے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں 

زورِ وحشت بھی اگر کم ہو تو چلنا ہے مدام 

سر چھپانے کے لیے دشت میں سایہ ہی نہیں 

جل کے ہم راکھ ہوئے ہیں کہ بنے ہیں کندن 

جوہری بن کے کسی شخص نے پرکھا ہی نہیں 

Tuesday, 11 May 2021

جب کبھی میرے قدم سوئے چمن آئے ہیں

 جب کبھی میرے قدم سوئے چمن آئے ہیں

اپنا دُکھ درد لیے سرو و سمن آئے ہیں

پاؤں سے لگ کے کھڑی ہے یہ غریب الوطنی

اس کو سمجھاؤ کہ ہم اپنے وطن آئے ہیں

جھاڑ لو گردِ مسرت کو، بٹھا لو دل میں

بھُولے بھٹکے ہوئے کچھ رنج و محن آئے ہیں

Sunday, 9 May 2021

جبر شہی کا صرف بغاوت علاج ہے

 جبرِ شہی کا صرف بغاوت علاج ہے

اپنا ازل سے ایک حسینی مزاج ہے

آگے تو زہرِ عشق میں سب زہر تھے گھُلے

اب شاعری کی جان رگِ احتجاج ہے

عالی نظر کے شعر پہ تیکھے مباحثے

بے نور عالموں کا مرض لا علاج ہے

Sunday, 11 April 2021

کچھ اصولوں کا نشہ تھا کچھ مقدس خواب تھے

 کچھ اصولوں کا نشہ تھا کچھ مقدس خواب تھے

ہر زمانے میں شہادت کے یہی اسباب تھے

کوہ سے نیچے اتر کر کنکری چُنتے ہیں اب

عشق میں جو آبجو تھے جنگ میں سیلاب تھے

ساز و ساماں تھے ظفر کے پر وہ شب میں لٹ گئے

خاک و خوں کے درمیاں کچھ خواب کچھ کم خواب تھے