کسی حبیب نے لفظوں کا ہار بھیجا ہے
بسا کے عطر میں دل کا غُبار بھیجا ہے
ہوئی جو شام تو اپنا لباس پہنا کر
شفق کو جیسے دمِ انتظار بھیجا ہے
کسی نے ڈوبتی صبحوں تڑپتی شاموں کو
غزل کے جام میں شب کا خُمار بھیجا ہے
سجا کے دامنِ گُل کو شرارۂ نم سے
کسی نے تاجِ دلِ داغدار بھیجا ہے
کسے بلانے کو اس لالۂ وفا نے حسن
صبا کو میری طرف بار بار بھیجا ہے
حسن نعیم
No comments:
Post a Comment