وعدوں سے ہمیں بہلایا گیا
دامن میں نہ کچھ بھی آیا گیا
مانے گا وہاں کون اپنی بات
نبیوں کو جہاں جھٹلایا گیا
بے گھر ہوئے جھنڈ پرندوں کے
جب پیڑوں کو جھلسایا گیا
وعدوں سے ہمیں بہلایا گیا
دامن میں نہ کچھ بھی آیا گیا
مانے گا وہاں کون اپنی بات
نبیوں کو جہاں جھٹلایا گیا
بے گھر ہوئے جھنڈ پرندوں کے
جب پیڑوں کو جھلسایا گیا
رنج و غم لاکھ ہوں مسکراتے رہو
دوست دشمن سے ملتے ملاتے رہو
یہ اندھیرے ہیں مہمان اک رات کے
تم مگر صبح تک جگمگاتے رہو
میں بھلانے کی کوشش کروں گا تمہیں
تم مجھے روز و شب یاد آتے رہو
ماؤں کو انتظار کی عادت سی ہو گئی ہے
بچوں پہ اعتبار کی عادت سی ہو گئی ہے
اب بھیڑئیے بھی شہروں میں کرنے لگے ہیں راج
ان کو بھی اقتدار کی عادت سی ہو گئی ہے
تنہا نہ باغِ و بن میں کوئی دیکھا جا سکا
ہر گُل کو ایک خار کی عادت سی ہو گئی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
فتحِ مکہ سے اقتباس
ہوا فتح مکہ سے اسلام روشن
نبیﷺ کی ہدایت کا پیغام روشن
قبائل کا تھا یہ ہمیشہ سے دعویٰ
بُتوں کی خُدائی کا مرکز ہے کعبہ
مسلمانوں نے کعبے پر فتح پائی
نہ کام آئی آخر بُتوں کی دُہائی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نبیؐ کا وصال" سے اقتباس"
ہوا کفر کا دور اندھیرا عرب سے
کہ وحدت کا پھوٹا سویرا عرب سے
نبیؐ جی کہ تکمیلِ دیں کر چکے تھے
خدا کی طرف کوچ کرنے چلے تھے
ضرورت نہ تھی ان کو دنیا کی پیارے
فرائض ادا کر چکے تھے وہ سارے
یہ شہر ہے یا کوئی سانپوں کا جزیرا ہے
ہر کوئی گلے مل کر جذبات کو ڈستا ہے
انسان حقیقت میں اور اس کے سوا کیا ہے؟
مہکی ہوئی مِٹی کا معصوم سا سپنا ہے
سب دیکھتے رہتے ہیں آئینے میں چہرے کو
میں نے مِرے چہرے میں آئینے کو دیکھا ہے
آنکھیں نکال، درد کے منظر میں ڈال دے
سِکّے یہ نور کے کسی چادر میں ڈال دے
یہ بوجھ لے کے پھرتا رہے گا کہاں کہاں
جتنی بھی نیکیاں ہیں سمندر میں ڈال دے
یہ نرم التماس کے لہجے کو ترک کر
وہ چیخ بن شگاف جو پتھر میں ڈال دے
تخت و تاج بکتے ہیں اقتدار بِکتا ہے
مال ہے یہ بکنے کا بار بار بکتا ہے
قیمتیں بڑھاتی ہے رات بکنے والوں کی
اونچے اونچے داموں میں انتظار بکتا ہے
قیس اور رانجھا کے اشک رائیگاں ٹھہرے
ایک مسکراہٹ پر آج پیار بکتا ہے