Showing posts with label حافظ کرناٹکی. Show all posts
Showing posts with label حافظ کرناٹکی. Show all posts

Wednesday, 21 January 2026

وعدوں سے ہمیں بہلایا گیا

 وعدوں سے ہمیں بہلایا گیا

دامن میں نہ کچھ بھی آیا گیا

مانے گا وہاں کون اپنی بات

نبیوں کو جہاں جھٹلایا گیا

بے گھر ہوئے جھنڈ پرندوں کے

جب پیڑوں کو جھلسایا گیا

Wednesday, 24 September 2025

رنج و غم لاکھ ہوں مسکراتے رہو

 رنج و غم لاکھ ہوں مسکراتے رہو

دوست دشمن سے ملتے ملاتے رہو

یہ اندھیرے ہیں مہمان اک رات کے

تم مگر صبح تک جگمگاتے رہو

میں بھلانے کی کوشش کروں گا تمہیں

تم مجھے روز و شب یاد آتے رہو

Tuesday, 16 September 2025

ماؤں کو انتظار کی عادت سی ہو گئی ہے

 ماؤں کو انتظار کی عادت سی ہو گئی ہے

بچوں پہ اعتبار کی عادت سی ہو گئی ہے

اب بھیڑئیے بھی شہروں میں کرنے لگے ہیں راج

ان کو بھی اقتدار کی عادت سی ہو گئی ہے

تنہا نہ باغِ و بن میں کوئی دیکھا جا سکا

ہر گُل کو ایک خار کی عادت سی ہو گئی ہے

Friday, 13 June 2025

ہوا فتح مکہ سے اسلام روشن

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

فتحِ مکہ سے اقتباس


ہوا فتح مکہ سے اسلام روشن

نبیﷺ کی ہدایت کا پیغام روشن

قبائل کا تھا یہ ہمیشہ سے دعویٰ

بُتوں کی خُدائی کا مرکز ہے کعبہ

مسلمانوں نے کعبے پر فتح پائی

نہ کام آئی آخر بُتوں کی دُہائی

Tuesday, 28 January 2025

ہوا کفر کا دور اندھیرا عرب سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

نبیؐ کا وصال" سے اقتباس"


ہوا کفر کا دور اندھیرا عرب سے

کہ وحدت کا پھوٹا سویرا عرب سے

نبیؐ جی کہ تکمیلِ دیں کر چکے تھے

خدا کی طرف کوچ کرنے چلے تھے

ضرورت نہ تھی ان کو دنیا کی پیارے

فرائض ادا کر چکے تھے وہ سارے

Friday, 1 November 2024

یہ شہر ہے یا کوئی سانپوں کا جزیرا ہے

 یہ شہر ہے یا کوئی سانپوں کا جزیرا ہے

ہر کوئی گلے مل کر جذبات کو ڈستا ہے

انسان حقیقت میں اور اس کے سوا کیا ہے؟

مہکی ہوئی مِٹی کا معصوم سا سپنا ہے

سب دیکھتے رہتے ہیں آئینے میں چہرے کو

میں نے مِرے چہرے میں آئینے کو دیکھا ہے

Thursday, 29 August 2024

آنکھیں نکال درد کے منظر میں ڈال دے

 آنکھیں نکال، درد کے منظر میں ڈال دے

سِکّے یہ نور کے کسی چادر میں ڈال دے

یہ بوجھ لے کے پھرتا رہے گا کہاں کہاں

جتنی بھی نیکیاں ہیں سمندر میں ڈال دے

یہ نرم التماس کے لہجے کو ترک کر

وہ چیخ بن شگاف جو پتھر میں ڈال دے

Wednesday, 28 August 2024

تخت و تاج بکتے ہیں اقتدار بکتا ہے

 تخت و تاج بکتے ہیں اقتدار بِکتا ہے

مال ہے یہ بکنے کا بار بار بکتا ہے

قیمتیں بڑھاتی ہے رات بکنے والوں کی

اونچے اونچے داموں میں انتظار بکتا ہے

قیس اور رانجھا کے اشک رائیگاں ٹھہرے

ایک مسکراہٹ پر آج پیار بکتا ہے