Showing posts with label طاہر راجپوت. Show all posts
Showing posts with label طاہر راجپوت. Show all posts

Friday, 14 April 2023

موت سے بات چیت ممکن نہیں

 مشابہت

پنجرے میں بیٹھی مرغیاں 

اور ہسپتال کی گزرگاہوں میں بیٹھے لوگ کتنے ملتے ہیں

مفاہمت

موت سے بات چیت ممکن نہیں 

خوف میں کوئی نغمہ نہیں گایا جاتا 

Saturday, 4 March 2023

وہاں رہو جہاں تمہاری محبوب عورت رہتی ہو

 محبوب جگہ


وہاں رہو 

جہاں کے رستے تمہیں زبانی یاد ہوں

اور جس راستے سے چاہے گھر آ سکو

وہاں رہو

جہاں بے دھڑک بات کر سکو 

Saturday, 17 December 2022

ٹوٹی نیند کا ڈر رات سے جاگا شخص جانتا ہے

 رات سے جاگا شخص 


رات ایک عورت کے ساتھ سونا 

سو نہ پانا 

اس کے ہونٹوں کو چومنا 

چوم نہ سکنا

اسے اسی برہنہ حالت میں چھوڑ کے 

Monday, 25 July 2022

تم ایک کھوئی ہوئی نسل ہو گمشدہ لوگ

 تم ایک کھوئی ہوئی نسل ہو


گمشدہ لوگ اتنی تعداد میں

اتنی تیزی سے جوان ہوتے ہوئے

شہر کی گلیاں تمہارے قدموں سے بھر گئی ہیں

تم اتنی تیزی سے اِدھر اُدھر جا رہے ہو

تم کہیں نہیں جا رہے ہو

Saturday, 2 April 2022

مرے ہوئے لوگ مل جاتے ہیں کسی اخبار کے پرانے کاغذ میں

 مرے ہوئے لوگ


مرے ہوئے لوگ مل جاتے ہیں

کسی اخبار کے پرانے کاغذ میں 

بلیک اینڈ وائٹ فلم کے کسی سین میں 

جو اب دیکھی نہیں جاتی 

جس میں ہیرو کہتا ہے

Friday, 1 April 2022

خوبصورت عورت پہ لکھی نظم کبھی ضائع نہیں جاتی

 ایک خوبصورت عورت پہ لکھی نظم 

کبھی ضائع نہیں جاتی

 وہ نہ کبھی بوڑھی ہوتی ہے 

ہر نوجوان لڑکے میں وہ اپنا 

ہم عمر تلاش کر لیتی ہے 

ایک اجلی صبح پہ لکھی نظم 

Thursday, 31 March 2022

باہر دیکھو کون مرا ہے گولیوں کو رک جانے دو

 تھکا ہوا دریا


باہر دیکھو کون مرا ہے؟

"ذرا رک جاؤ" 

گولیوں کو رک جانے دو

برستی بارش اور چلتی گولیوں کے درمیان 

باہر نہیں نکلنا چاہئے

Tuesday, 29 March 2022

پولیگیمی آف لو تم کہاں بچھڑ گئی تھی

 پولیگیمی آف لو


تم کہاں بچھڑ گئی تھی

کالی آنکھوں کے گرد بلیک ہول کی راکھ بچھا کر

کالے بال کھولے

اس تاریکی میں کس کو شکار کرو گی 

محبت یا سیکس

جہاں سے ہم جدا ہوئے وہاں جدائی بنتی نہیں تھی

 جہاں سے ہم جدا ہوئے


جیسے

ارتقا کی بھول بھلیوں میں 

ایک نوع دوسری سے جدا ہوتی ہے

جیسے

ہومو سیپینز سے نےاندرلز جدا ہوئے 

اور بڑے ببونز سے ہمارے جیسے انسان 

Monday, 28 March 2022

ماں جو بیوی تھی ماں پہلے بیوی تھی

 ماں جو بیوی تھی


گلی میں پیار سے دیکھتی گمنام حسینہ 

ہماری کمزوریوں سے واقف ہے 

وہ ہمیں اپنے جال میں بن لے گی 

ہم اس لمحے کی قید میں ہیں

وہ جانتی ہے کہ اس کی غفلت ہماری جان لے گی