Showing posts with label جینا قریشی. Show all posts
Showing posts with label جینا قریشی. Show all posts

Monday, 4 May 2026

یہ زلیخا مزاج روح مری

 یہ زلیخا مزاج رُوح مِری

وقتِ دیدار جھُومتی ہو گی

آج تہمت نئی لگی مجھ پر

آج حُجرے میں روشنی ہو گی

دل طوافِ حبیب میں گُم ہے

رُوح سجدے میں گر پڑی ہو گی

Sunday, 31 December 2023

مرحبا مرحبا مجتبیٰ محترم

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مرحبا مرحبا مجتبیٰﷺ محترم

سید الانبیاءﷺ والضحیٰ محترم

صاحبِ عز و شان، ارجمند محترم

رب کے محبوب صلِ علیﷺ محترم

بھیجتا ہے خدا خود درودﷺ و سلام

جن و انس و ملائک فدا محترم

Monday, 7 November 2022

دیکھ مسافر تیرا جو کچھ بھی ہے مجھ میں وہ سب لے جا

 دیکھ مسافر

تیرا جو کچھ بھی ہے مجھ میں

وہ سب لے جا

بوسیدہ اس بنجر تن میں سانسیں ہیں ناں

سانسیں لے جا

ہجر زدہ ان خواب کشیدہ آنکھوں میں

Friday, 17 September 2021

محبوب بھی تو دلدار بھی تو

 محبوب بھی تُو

دلدار بھی تُو

میرے سینے کی جھنکار بھی تُو

تُو قبلہ بھی ہے، کعبہ بھی

تُو مندر ہے، بت خانہ بھی

تُو راز ہے بے خود ہستی کا

Tuesday, 7 September 2021

حسرتوں کے ہزار پھولوں کا

 حسرتوں کے ہزار پھولوں کا

دل ہے گویا مزار پھولوں کا

موسمِ گل ہے اور شبِ ہجراں

کیا کریں سوگوار پھولوں کا

ہم تِرا ذکر چھیڑنے کے لیے

ذکر کرتے ہیں یار پھولوں کا

Tuesday, 24 August 2021

ہر شام شفق پر میں بھٹکوں ہر رات ستارہ ہو جاؤں

 ہر شام شفق پر میں بھٹکوں, ہر رات ستارہ ہو جاؤں

جو کنکر بن کر چبھتا ہے وہ خواب تمہارا ہو جاؤں

مِرے اشک تمہاری آنکھوں میں اک روز کبھی رستہ پا لیں

تم ڈوب کے مجھ میں یوں ابھرو میں ندی کنارہ ہو جاؤں

پھر قطرہ قطرہ بہہ جائے تری باتوں سے تری آنکھوں سے

تِرا دل ایسے پانی کر دوں میں برف انگارہ ہو جاؤں

Tuesday, 27 July 2021

یہ عشق اگر ایسا پراسرار نہ ہوتا

 یہ عشق اگر ایسا پُر اسرار نہ ہوتا 

منصور کبھی کوئی سر دار نہ ہوتا 

زنجیر زنی ہوتی نہ ہر سانس میں میری 

دل درد کا ایسے جو علمدار نہ ہوتا 

پھر چاند نہیں کرتا کبھی اشک فشانی 

گر ٹُوٹے ستاروں کا عزادار نہ ہوتا 

Sunday, 11 July 2021

تجھ سے منسوب رہوں تیری کہی جاؤں پیا

 تجھ سے منسوب رہوں تیری کہی جاؤں پیا

تِری نسبت سے لکھی اور پڑھی جاؤں پیا

جُھومتی پھرتی ہواؤں کی طرح سے میں بھی

چُوم کر لمس تِرا مست ہوئی جاؤں پیا

رات کی رانی بنوں اور کِھلی جاؤں پیا

تِری آہٹ کا سماعت میں کوئی در جو کُھلے

Saturday, 10 July 2021

مرے بعد سانسیں بھی کھویا کرے گا

 مِرے بعد سانسیں بھی کھویا کرے گا

تُو بارِ غمِ عشق ڈھویا کرے گا

میسر تجھے ہر خوشی ہو گی لیکن

مجھے یاد کر کے تُو رویا کرے گا

میں صحنِ گُلستاں میں جب نہ ملوں گی

تُو پھولوں کے دامن بِھگویا کرے گا

یہ منصوری سا من میرا بہت ہی سرکش ہوا ہے اب

 یہ منصوری سا من میرا

بہت ہی سرکش ہوا ہے اب

کہ ہو کر خود سے بے گانہ

سبُو اک تھام لیتا ہے

تیرا ہی نام لیتا ہے

حسیں پونم کی راتوں میں

Friday, 9 July 2021

بیڑی نہیں پیروں میں کلائی میں کڑا ہے

 بیڑی نہیں پیروں میں کلائی میں کڑا ہے

قیدی یہ تِرے عشق میں مسرور بڑا ہے

ہے جس کی سخاوت کا بڑا چرچا جہاں میں

کاسہ لیے ہاتھوں میں تِرے در پہ کھڑا ہے

مجھ پر بھی کوئی رنگ چڑھائے تو میں جانوں

اجمیر🕌 کے والی کا سُنا شُہرہ بڑا ہے

ان کی چشم کرم کی عطا ہو گئی

 ان کی چشمِ کرم کی عطا ہو گئی 

زخمِ دل کو مِرے پھر شفا ہو گئی

پہلے اک آئینہ تھی میں اس کے لیے

ٹُوٹ کر ہر طرف، ہر جگہ ہو گئی

آنسوؤں سے فلک پر سـتارے بنے

میرے کاجل سے شب یہ سیہ ہو گئی

Thursday, 8 July 2021

عیسیٰ نفس مرے چارہ گر

 عیسیٰ نفس، مِرے چارہ گر 


جو مریض ہوں تو دوا ملے

تِری اک نظر سے شفا ملے

مِری بات سُن، مجھے پھر سے چُن

عیسیٰ نفس، مِرے چارہ گر 


جینا قریشی

ترے عشق کی پڑ گئی مار پیا

 تِرے عشق کی پڑ گئی مار پیا 

میں روئی زار و زار  پیا 

تُو دل لے کے دُکھ دیتا ہے 

یہ کیسا ہے بیوپار پیا؟ 

مجھے عشق اُڑائے پھرتا ہے 

اِس پار کبھی اُس پار پیا 

کبھی جو ملتا تو پوچھتی میں

 کبھی جو ملتا

تو پوچھتی میں

گلاب موسم کی خواہشوں میں

عذاب رُت سے اُلجھنے والے

ندیم میرے

ازل سے دل میں مقیم میرے