یہ زلیخا مزاج رُوح مِری
وقتِ دیدار جھُومتی ہو گی
آج تہمت نئی لگی مجھ پر
آج حُجرے میں روشنی ہو گی
دل طوافِ حبیب میں گُم ہے
رُوح سجدے میں گر پڑی ہو گی
یہ زلیخا مزاج رُوح مِری
وقتِ دیدار جھُومتی ہو گی
آج تہمت نئی لگی مجھ پر
آج حُجرے میں روشنی ہو گی
دل طوافِ حبیب میں گُم ہے
رُوح سجدے میں گر پڑی ہو گی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مرحبا مرحبا مجتبیٰﷺ محترم
سید الانبیاءﷺ والضحیٰ محترم
صاحبِ عز و شان، ارجمند محترم
رب کے محبوب صلِ علیﷺ محترم
بھیجتا ہے خدا خود درودﷺ و سلام
جن و انس و ملائک فدا محترم
دیکھ مسافر
تیرا جو کچھ بھی ہے مجھ میں
وہ سب لے جا
بوسیدہ اس بنجر تن میں سانسیں ہیں ناں
سانسیں لے جا
ہجر زدہ ان خواب کشیدہ آنکھوں میں
محبوب بھی تُو
دلدار بھی تُو
میرے سینے کی جھنکار بھی تُو
تُو قبلہ بھی ہے، کعبہ بھی
تُو مندر ہے، بت خانہ بھی
تُو راز ہے بے خود ہستی کا
حسرتوں کے ہزار پھولوں کا
دل ہے گویا مزار پھولوں کا
موسمِ گل ہے اور شبِ ہجراں
کیا کریں سوگوار پھولوں کا
ہم تِرا ذکر چھیڑنے کے لیے
ذکر کرتے ہیں یار پھولوں کا
ہر شام شفق پر میں بھٹکوں, ہر رات ستارہ ہو جاؤں
جو کنکر بن کر چبھتا ہے وہ خواب تمہارا ہو جاؤں
مِرے اشک تمہاری آنکھوں میں اک روز کبھی رستہ پا لیں
تم ڈوب کے مجھ میں یوں ابھرو میں ندی کنارہ ہو جاؤں
پھر قطرہ قطرہ بہہ جائے تری باتوں سے تری آنکھوں سے
تِرا دل ایسے پانی کر دوں میں برف انگارہ ہو جاؤں
یہ عشق اگر ایسا پُر اسرار نہ ہوتا
منصور کبھی کوئی سر دار نہ ہوتا
زنجیر زنی ہوتی نہ ہر سانس میں میری
دل درد کا ایسے جو علمدار نہ ہوتا
پھر چاند نہیں کرتا کبھی اشک فشانی
گر ٹُوٹے ستاروں کا عزادار نہ ہوتا
تجھ سے منسوب رہوں تیری کہی جاؤں پیا
تِری نسبت سے لکھی اور پڑھی جاؤں پیا
جُھومتی پھرتی ہواؤں کی طرح سے میں بھی
چُوم کر لمس تِرا مست ہوئی جاؤں پیا
رات کی رانی بنوں اور کِھلی جاؤں پیا
تِری آہٹ کا سماعت میں کوئی در جو کُھلے
مِرے بعد سانسیں بھی کھویا کرے گا
تُو بارِ غمِ عشق ڈھویا کرے گا
میسر تجھے ہر خوشی ہو گی لیکن
مجھے یاد کر کے تُو رویا کرے گا
میں صحنِ گُلستاں میں جب نہ ملوں گی
تُو پھولوں کے دامن بِھگویا کرے گا
یہ منصوری سا من میرا
بہت ہی سرکش ہوا ہے اب
کہ ہو کر خود سے بے گانہ
سبُو اک تھام لیتا ہے
تیرا ہی نام لیتا ہے
حسیں پونم کی راتوں میں
بیڑی نہیں پیروں میں کلائی میں کڑا ہے
قیدی یہ تِرے عشق میں مسرور بڑا ہے
ہے جس کی سخاوت کا بڑا چرچا جہاں میں
کاسہ لیے ہاتھوں میں تِرے در پہ کھڑا ہے
مجھ پر بھی کوئی رنگ چڑھائے تو میں جانوں
اجمیر🕌 کے والی کا سُنا شُہرہ بڑا ہے
ان کی چشمِ کرم کی عطا ہو گئی
زخمِ دل کو مِرے پھر شفا ہو گئی
پہلے اک آئینہ تھی میں اس کے لیے
ٹُوٹ کر ہر طرف، ہر جگہ ہو گئی
آنسوؤں سے فلک پر سـتارے بنے
میرے کاجل سے شب یہ سیہ ہو گئی
عیسیٰ نفس، مِرے چارہ گر
جو مریض ہوں تو دوا ملے
تِری اک نظر سے شفا ملے
مِری بات سُن، مجھے پھر سے چُن
عیسیٰ نفس، مِرے چارہ گر
جینا قریشی
تِرے عشق کی پڑ گئی مار پیا
میں روئی زار و زار پیا
تُو دل لے کے دُکھ دیتا ہے
یہ کیسا ہے بیوپار پیا؟
مجھے عشق اُڑائے پھرتا ہے
اِس پار کبھی اُس پار پیا
کبھی جو ملتا
تو پوچھتی میں
گلاب موسم کی خواہشوں میں
عذاب رُت سے اُلجھنے والے
ندیم میرے
ازل سے دل میں مقیم میرے