حسرتوں کے ہزار پھولوں کا
دل ہے گویا مزار پھولوں کا
موسمِ گل ہے اور شبِ ہجراں
کیا کریں سوگوار پھولوں کا
ہم تِرا ذکر چھیڑنے کے لیے
ذکر کرتے ہیں یار پھولوں کا
وہ کہیں بھی ہو اس کے چار طرف
ہو خدایا! حصار پھولوں کا
کیوں ستمگر ہوائیں کرتی ہیں
پیرہن تار تار پھولوں کا
کون بکھرے ہووں کا غم بانٹے
کون ہو غمگسار پھولوں کا
دل کی دنیا اجاڑ ہے مولا
کوئی موسم اتار پھولوں کا
ریت پر نام اس کا یوں جینا
جیسے نقش و نگار پھولوں کا
جینا قریشی
No comments:
Post a Comment