محبوب ستمگر یوں کسی کا وی نہ ہووے
دے زخم جگر اور کہے اچھا وی نہ ہووے
کاٹے سے کب کٹتی ہیں ہجر کی گھڑیاں
ہر سانس دعا ہے کوئی تنہا وی نہ ہووے
تجھے تو چاہیۓ ہے، اور ایسا چاہیۓ ہے
تُو جس سے باتیں کرے، رشتہ وی نہ ہووے
محبوب ستمگر یوں کسی کا وی نہ ہووے
دے زخم جگر اور کہے اچھا وی نہ ہووے
کاٹے سے کب کٹتی ہیں ہجر کی گھڑیاں
ہر سانس دعا ہے کوئی تنہا وی نہ ہووے
تجھے تو چاہیۓ ہے، اور ایسا چاہیۓ ہے
تُو جس سے باتیں کرے، رشتہ وی نہ ہووے
سیلِ گریہ تھا رواں درد جب اشک بنا
تم تو خاموش تھے ناں درد جب اشک بنا
آہ بھرتے ہی رہے یاد کرتے ہی رہے
عشق میں سود و زیاں درد جب اشک بنا
تیری الفت نے صنم آگ لگا رکھی ہے
دل سے اٹھتا ہے دھواں درد جب اشک بنا
کبھی تو آؤ مِری چشمِ تر میں شام ڈھلے
کہ کوئی آتا نہیں اس نگر میں شام ڈھلے
میں اپنے چہرے پہ خوشیاں سجائے پھرتا ہوں
چراغ جلتے ہیں اشکوں کے گھر میں شام ڈھلے
میں بن کے چاند اسے راستہ دکھاتا رہوں
کبھی تو مجھ کو ملے وہ سفر میں شام ڈھلے
نہ آئی راس ہمیں آپ کی مسیحائی
میری دھڑکن ہو زندگی ہو تم
کس لیے مجھ سے اجنبی ہو تم
وقت کی بے شمار گھڑیاں ہیں
اور مِرے دل میں ہر گھڑی ہو تم
جس کو دیکھا ہے خواب میں اکثر
مجھ کو لگتا ہے بس وہی ہو تم
اجڑی ہوئی آنکھوں میں ستارے نہیں ملتے
دریائے محبت کے کنارے نہیں ملتے
اس دور میں اطفال کو بہلانے کی خاطر
بارود تو ملتا ہے، غبارے نہیں ملتے
مطلب ہو تو ہر موڑ پہ مل جاتے ہیں ہمدرد
مشکل میں کبھی یار پیارے نہیں ملتے
کبھی غمگین ہوتا ہوں کبھی میں مُسکراتا ہوں
تمہیں جب یاد کرتا ہوں تو خود کو بھُول جاتا ہوں
تمہیں تو دُشمنوں کی دُشمنی نے مار ڈالا ہے
مجھے دیکھو میں اپنے دوستوں سے زخم کھاتا ہوں
کبھی فُرصت ملے تو دیکھ لینا اک نظر آ کر
تمہاری یاد میں بُجھتی ہوئی شمعیں جلاتا ہوں
مجھ کو تنہائیوں سے پیار بھی ہے
تیرے آنے کا انتظار بھی ہے
تُو مجھے بے وفا سا لگتا ہے
تیرے وعدے پہ اعتبار بھی ہے
مدتوں بعد سر ہے سجدے میں
بے قراری بھی ہے قرار بھی ہے
دکھوں سے اور غموں سے دوستی ہے
حقیقت میں یہی تو زندگی ہے
خوشی پل بھر مگر غم زندگی بھر
خوشی سے غم زیادہ قیمتی ہے
اگر روشن ہو دل سینے کے اندر
اندھیری رات بھی پھر چاندنی ہے
کاش میں تجھ کو کوئی شام سہانی دیتا
اپنی ناکام محبت کی نشانی دیتا
میری آنکھوں سے لہو نے بھی ٹپک پڑنا تھا
اپنے اشکوں کو اگر اور روانی دیتا
تیرے اک بال کا صدقہ بھی نہیں تھا جاناں
تجھ پہ گر وار میں اپنی یہ جوانی دیتا
کوئی تو چاہیے ہم کو سہارا تیرے بعد
اداس اداس رہا شہر سارا تیرے بعد
جو آسماں پہ ہمارے لیے چمکتا تھا
وہ مجھ سے روٹھ گیا ہے ستارا تیرے بعد
لگا کے زخموں پہ مرہم تمہاری یادوں کا
کچھ ایسے دل کو مری جاں سنوارا تیرے بعد