Showing posts with label خلیل احمد. Show all posts
Showing posts with label خلیل احمد. Show all posts

Tuesday, 11 July 2023

محبوب ستمگر یوں کسی کا وی نہ ہووے

 محبوب ستمگر یوں کسی کا وی نہ ہووے

دے زخم جگر اور کہے اچھا وی نہ ہووے

کاٹے سے کب کٹتی ہیں ہجر کی گھڑیاں

ہر سانس دعا ہے کوئی تنہا وی نہ ہووے

تجھے تو چاہیۓ ہے، اور ایسا چاہیۓ ہے

تُو جس سے باتیں کرے، رشتہ وی نہ ہووے

Saturday, 15 April 2023

سیل گریہ تھا رواں درد جب اشک بنا

 سیلِ گریہ تھا رواں درد جب اشک بنا

تم تو خاموش تھے ناں درد جب اشک بنا

آہ بھرتے ہی رہے یاد کرتے ہی رہے

عشق میں سود و زیاں درد جب اشک بنا

تیری الفت نے صنم آگ لگا رکھی ہے

دل سے اٹھتا ہے دھواں درد جب اشک بنا

Wednesday, 21 July 2021

کبھی تو آؤ مری چشم تر میں شام ڈھلے

 کبھی تو آؤ مِری چشمِ تر میں شام ڈھلے

کہ کوئی آتا نہیں اس نگر میں شام ڈھلے

میں اپنے چہرے پہ خوشیاں سجائے پھرتا ہوں

چراغ جلتے ہیں اشکوں کے گھر میں شام ڈھلے

میں بن کے چاند اسے راستہ دکھاتا رہوں

کبھی تو مجھ کو ملے وہ سفر میں شام ڈھلے

نہ آئی راس ہمیں آپ کی مسیحائی

Monday, 28 June 2021

میری دھڑکن ہو زندگی ہو تم

 میری دھڑکن ہو زندگی ہو تم

کس لیے مجھ سے اجنبی ہو تم

وقت کی بے شمار گھڑیاں ہیں

اور مِرے دل میں ہر گھڑی ہو تم

جس کو دیکھا ہے خواب میں اکثر

مجھ کو لگتا ہے بس وہی ہو تم

Friday, 25 June 2021

اجڑی ہوئی آنکھوں میں ستارے نہیں ملتے

 اجڑی ہوئی آنکھوں میں ستارے نہیں ملتے 

دریائے محبت کے کنارے نہیں ملتے 

اس دور میں اطفال کو بہلانے کی خاطر 

بارود تو ملتا ہے، غبارے نہیں ملتے 

مطلب ہو تو ہر موڑ پہ مل جاتے ہیں ہمدرد 

مشکل میں کبھی یار پیارے نہیں ملتے 

Sunday, 13 June 2021

کبھی غمگین ہوتا ہوں کبھی میں مسکراتا ہوں

 کبھی غمگین ہوتا ہوں کبھی میں مُسکراتا ہوں

تمہیں جب یاد کرتا ہوں تو خود کو بھُول جاتا ہوں

تمہیں تو دُشمنوں کی دُشمنی نے مار ڈالا ہے

مجھے دیکھو میں اپنے دوستوں سے زخم کھاتا ہوں

کبھی فُرصت ملے تو دیکھ لینا اک نظر آ کر

تمہاری یاد میں بُجھتی ہوئی شمعیں جلاتا ہوں

Friday, 11 June 2021

مجھ کو تنہائیوں سے پیار بھی ہے

 مجھ کو تنہائیوں سے پیار بھی ہے

تیرے آنے کا انتظار بھی ہے

تُو مجھے بے وفا سا لگتا ہے

تیرے وعدے پہ اعتبار بھی ہے

مدتوں بعد سر ہے سجدے میں

بے قراری بھی ہے قرار بھی ہے

Thursday, 10 June 2021

دکھوں سے اور غموں سے دوستی ہے

 دکھوں سے اور غموں سے دوستی ہے

حقیقت میں یہی تو زندگی ہے

خوشی پل بھر مگر غم زندگی بھر

خوشی سے غم زیادہ قیمتی ہے

اگر روشن ہو دل سینے کے اندر

اندھیری رات بھی پھر چاندنی ہے

Wednesday, 9 June 2021

کاش میں تجھ کو کوئی شام سہانی دیتا

 کاش میں تجھ کو کوئی شام سہانی دیتا

اپنی ناکام محبت کی نشانی دیتا

میری آنکھوں سے لہو نے بھی ٹپک پڑنا تھا

اپنے اشکوں کو اگر اور روانی دیتا

تیرے اک بال کا صدقہ بھی نہیں تھا جاناں

تجھ پہ گر وار میں اپنی یہ جوانی دیتا

Wednesday, 25 November 2020

کوئی تو چاہیے ہم کو سہارا تیرے بعد

 کوئی تو چاہیے ہم کو سہارا تیرے بعد

اداس اداس رہا شہر سارا تیرے بعد

جو آسماں پہ ہمارے لیے چمکتا تھا

وہ مجھ سے روٹھ گیا ہے ستارا تیرے بعد

لگا کے زخموں پہ مرہم تمہاری یادوں کا

کچھ ایسے دل کو مری جاں سنوارا تیرے بعد