محبوب ستمگر یوں کسی کا وی نہ ہووے
دے زخم جگر اور کہے اچھا وی نہ ہووے
کاٹے سے کب کٹتی ہیں ہجر کی گھڑیاں
ہر سانس دعا ہے کوئی تنہا وی نہ ہووے
تجھے تو چاہیۓ ہے، اور ایسا چاہیۓ ہے
تُو جس سے باتیں کرے، رشتہ وی نہ ہووے
عجب خواہش ہے تِری ہاتھ پکڑ کر مرا چلنا
اس پہ یہ کہ شہر میں چرچا وی نہ ہووے
یہ کیسی مسیحائی ہے کیا نام دوں اس کو
زخم اچھا وی نہ ہووے، گہرا وی نہ ہووے
ہوں جیسے تِری قربت میں بچے کی طرح رویا
اس درجہ کوئی عشق میں اندھا وی نہ ہووے
یہ کیسے حالات میں مجھے چھوڑ گیا تُو؟
کوئی جائے کہاں سامنے گر رستہ وی نہ ہووے
خلیل بیچ بھنور جیسے اس نے ہاتھ چھڑایا
خدارا کسی کے ساتھ کبھی ایسا وی نہ ہووے
خلیل احمد
No comments:
Post a Comment