Tuesday, 11 July 2023

محبوب ستمگر یوں کسی کا وی نہ ہووے

 محبوب ستمگر یوں کسی کا وی نہ ہووے

دے زخم جگر اور کہے اچھا وی نہ ہووے

کاٹے سے کب کٹتی ہیں ہجر کی گھڑیاں

ہر سانس دعا ہے کوئی تنہا وی نہ ہووے

تجھے تو چاہیۓ ہے، اور ایسا چاہیۓ ہے

تُو جس سے باتیں کرے، رشتہ وی نہ ہووے

عجب خواہش ہے تِری ہاتھ پکڑ کر مرا چلنا

اس پہ یہ کہ شہر میں چرچا وی نہ ہووے

یہ کیسی مسیحائی ہے کیا نام دوں اس کو

زخم اچھا وی نہ ہووے، گہرا وی نہ ہووے

ہوں جیسے تِری قربت میں بچے کی طرح رویا

اس درجہ کوئی عشق میں اندھا وی نہ ہووے

یہ کیسے حالات میں مجھے چھوڑ گیا تُو؟

کوئی جائے کہاں سامنے گر رستہ وی نہ ہووے

خلیل بیچ بھنور جیسے اس نے ہاتھ چھڑایا

خدارا کسی کے ساتھ کبھی ایسا وی نہ ہووے


خلیل احمد 

No comments:

Post a Comment