عاشق وہ کیا جو دل سے کسی کے اتر گیا
جیتا بھی گر رہا تو یہ سمجھو کہ مر گیا
رنجش ذرا سی ان سے ہوئی تھی جو شام کو
اس کا اثر نہ دل سے مِرے تا سحر گیا
پھر جب انہوں نے صبح کو خود ہی منا لیا
اک بار سا تھا دل پہ مِرے سو اتر گیا
دیوانگانِ عشق کا اللہ رے مزاج
معشوق سے بھی تن کے ملے گرچہ سر گیا
بجلی سی اک چمک کے مِرے دل پہ گر پڑی
پہلو سے شب جو اٹھ کے وہ زریں کمر گیا
کرنے چلے تھے عشق میں میرا مقابلہ
دو روز ہی میں پھول سا چہرہ اتر گیا
اس تمکنت پسند سے کس کو تھی یہ امید
دل ہی تو ہے نوازشِ پیہم سے ڈر گیا
جانے کی میں نے ان کو اجازت تو دی ضرور
پر کیا بتاؤں دل پہ جو عالم گزر گیا
ناگفتنی تھی شیخ کی حالت بہت مگر
صحبت میں میکشوں کی جو بیٹھا سدھر گیا
اللہ رے فیضِ حسن کہ میں ان کی بزم میں
آیا تو بے خبر تھا مگر با خبر گیا
ایسا کچھ انقلابِ زمانہ ہوا جلیل
شیرازۂ حیات ہی سارا بکھر گیا
جلیل قدوائی
No comments:
Post a Comment