Tuesday, 11 July 2023

عاشق وہ کیا جو دل سے کسی کے اتر گیا

 عاشق وہ کیا جو دل سے کسی کے اتر گیا

جیتا بھی گر رہا تو یہ سمجھو کہ مر گیا

رنجش ذرا سی ان سے ہوئی تھی جو شام کو

اس کا اثر نہ دل سے مِرے تا سحر گیا

پھر جب انہوں نے صبح کو خود ہی منا لیا

اک بار سا تھا دل پہ مِرے سو اتر گیا

دیوانگانِ عشق کا اللہ رے مزاج

معشوق سے بھی تن کے ملے گرچہ سر گیا

بجلی سی اک چمک کے مِرے دل پہ گر پڑی

پہلو سے شب جو اٹھ کے وہ زریں کمر گیا

کرنے چلے تھے عشق میں میرا مقابلہ

دو روز ہی میں پھول سا چہرہ اتر گیا

اس تمکنت پسند سے کس کو تھی یہ امید

دل ہی تو ہے نوازشِ پیہم سے ڈر گیا

جانے کی میں نے ان کو اجازت تو دی ضرور

پر کیا بتاؤں دل پہ جو عالم گزر گیا

ناگفتنی تھی شیخ کی حالت بہت مگر

صحبت میں میکشوں کی جو بیٹھا سدھر گیا

اللہ رے فیضِ حسن کہ میں ان کی بزم میں

آیا تو بے خبر تھا مگر با خبر گیا

ایسا کچھ انقلابِ زمانہ ہوا جلیل

شیرازۂ حیات ہی سارا بکھر گیا


جلیل قدوائی

No comments:

Post a Comment