Showing posts with label مینک اکبرآبادی. Show all posts
Showing posts with label مینک اکبرآبادی. Show all posts

Monday, 19 January 2026

ہمارے پر ہیں شکستہ اڑان باقی ہے

 ہمارے پر ہیں شکستہ اڑان باقی ہے

نیا ہے عزم سفر آن بان باقی ہے

تمہارا فیصلہ منظور ہو مجھے کیسے

ابھی تو ہونے کو میرا بیان باقی ہے

یہ کم نہیں کہ زمانے میں آج زندہ ہوں

کہ دو جہاں میں مرا مہربان باقی ہے

Monday, 12 May 2025

اے خیال یار جب تک ساتھ تو چلتا رہا

 اے خیال یار جب تک ساتھ تو چلتا رہا

آندھیوں میں بھی چراغ زندگی جلتا رہا

مسکرا کر میں کٹھن راہوں پہ بھی

کھلنے والوں کو میرا یہ حوصلہ کھلتا رہا

پھوٹتے ہی آبلے پاؤں کے مٹ جائے کا سوز

میں اسی امید پر کانٹوں پہ بھی چلتا رہا

Sunday, 4 April 2021

تم نہیں ہو ساتھ تو سارا جہاں تنہا لگے

تم نہیں ہو ساتھ تو سارا جہاں تنہا لگے

یہ زمیں تنہا لگے،۔ یہ آسماں تنہا لگے

جب سے دل کو آ گیا تیرے نہ آنے کا یقیں

حسرتوں کی بھیڑ میں اب یہ مکاں تنہا لگے

کون جانے وحشتِ دل کو ہے کس کا انتظار

ہیں ہزاروں پھول پھر بھی گلستاں تنہا لگے

Monday, 29 March 2021

زندگی کیوں ہوئی وقف غم و آلام نہ پوچھ

زندگی کیوں ہوئی وقف غم و آلام نہ پُوچھ

مجھ سے اے دوست مِرے عشق کا انجام نہ پوچھ

کون ہے کس نے بنا رکھا ہے دیوانہ مجھے

ہمنشیں عقل سے پہچان، مگر نام نہ پوچھ

اس کی ناکام تمنا کو سمجھ اے صیاد

مُرغِ دل آ گیا کیوں خود ہی تہ دام نہ پوچھ