ہمارے پر ہیں شکستہ اڑان باقی ہے
نیا ہے عزم سفر آن بان باقی ہے
تمہارا فیصلہ منظور ہو مجھے کیسے
ابھی تو ہونے کو میرا بیان باقی ہے
یہ کم نہیں کہ زمانے میں آج زندہ ہوں
کہ دو جہاں میں مرا مہربان باقی ہے
ہمارے پر ہیں شکستہ اڑان باقی ہے
نیا ہے عزم سفر آن بان باقی ہے
تمہارا فیصلہ منظور ہو مجھے کیسے
ابھی تو ہونے کو میرا بیان باقی ہے
یہ کم نہیں کہ زمانے میں آج زندہ ہوں
کہ دو جہاں میں مرا مہربان باقی ہے
اے خیال یار جب تک ساتھ تو چلتا رہا
آندھیوں میں بھی چراغ زندگی جلتا رہا
مسکرا کر میں کٹھن راہوں پہ بھی
کھلنے والوں کو میرا یہ حوصلہ کھلتا رہا
پھوٹتے ہی آبلے پاؤں کے مٹ جائے کا سوز
میں اسی امید پر کانٹوں پہ بھی چلتا رہا
تم نہیں ہو ساتھ تو سارا جہاں تنہا لگے
یہ زمیں تنہا لگے،۔ یہ آسماں تنہا لگے
جب سے دل کو آ گیا تیرے نہ آنے کا یقیں
حسرتوں کی بھیڑ میں اب یہ مکاں تنہا لگے
کون جانے وحشتِ دل کو ہے کس کا انتظار
ہیں ہزاروں پھول پھر بھی گلستاں تنہا لگے
زندگی کیوں ہوئی وقف غم و آلام نہ پُوچھ
مجھ سے اے دوست مِرے عشق کا انجام نہ پوچھ
کون ہے کس نے بنا رکھا ہے دیوانہ مجھے
ہمنشیں عقل سے پہچان، مگر نام نہ پوچھ
اس کی ناکام تمنا کو سمجھ اے صیاد
مُرغِ دل آ گیا کیوں خود ہی تہ دام نہ پوچھ