Sunday, 14 June 2026

دل رکھتا ہے جو شخص وہ دلبر نہیں رکھتا

 دل رکھتا ہے جو شخص، وہ دلبر نہیں رکھتا

یاں تاج وہ پاتا ہے کہ جو، سر نہیں رکھتا

آلودہ فضاؤں کا اثر اس میں یہ ہوا ہے

وہ پہلی سی بُو باس، گُلِ تر نہیں رکھتا

اس نے مِرے ہاں آنے کا وعدہ تو کیا ہے

افسوس مگر یہ ہے کہ میں گھر نہیں رکھتا

اب فون پہ کر لیتا ہے دل کھول کے باتیں

اس دور کا انسان، کبوتر نہیں رکھتا

اک عرض تمنا ہے تو ملنے کی تمنا

یہ بخت مگر تیرا سخنور نہیں رکھتا


ارجمند قریشی

No comments:

Post a Comment