Sunday, 21 June 2026

بادل بارش سرد ہوائیں میں اور تو

 بادل بارش سرد ہوائیں میں اور تُو

کالی اور گھنگھور گھٹائیں میں اور تو

نفرت سے بے نور ہوئے اس عالم میں

چاہت کی انمول ضیائیں میں اور تو

تُو مجھ سے میں تجھ سے لے لوں غم تیرے

اک دُوجے کی کریں دُعائیں میں اور تو

اپنے اپنے دل میں لے کر بیٹھے ہیں

بے مہر و بے درد انائیں میں اور تو

ہر سُو کر دیں پیار کے ہم مینار کھڑے

نفرت کی دیوار گرائیں میں اور تو

سب ہیں بے حِس، بے اعتماد جمال یہاں

کس کو اپنا حال سُنائیں میں اور تو


جمال عبدالناصر

No comments:

Post a Comment