Sunday, 21 June 2026

عجب تماشا سا چل رہا ہے

 عجب تماشا سا چل رہا ہے

غریب ہاتھوں کو مل رہا ہے

پنپ رہی ہے منافقت بھی

عروج پستی میں ڈھل رہا ہے

اِسی لیے تو وہ مر رہا ہے

حسد کی بھٹی میں جل رہا ہے

یہ کون تاریخ کو بدل کے

ہمارا چہرہ مسل رہا ہے

کسی کو بے جا صلیب دینا

یہ کام صدیوں سے چل رہا ہے

وہ کہہ رہا ہے اُسی کو کافر

کہ جس کے ٹکڑوں پہ پل رہا ہے

لُٹا کے تن من گنوا کے حرمت

وہ رفتہ رفتہ سنبھل رہا ہے

رہو گے خاموش تو مرو گے

یہ فیصلہ تو اٹل رہا ہے

اُسی کے جاوید شر سے بچنا

جو آستینوں میں پل رہا ہے


جاوید ڈینی ایل

No comments:

Post a Comment