شہادتوں کے تقابل سے کچھ ملا تو نہ تھا
کِیا تھا جبر عدالت نے، فیصلہ تو نہ تھا
کشان،۔ گپتا،۔ غزنی،۔ مغل و درانی
بجنگ آئے تھے، مذہب سے واسطہ تو نہ تھا
بہت سے شہر بسے تھے ہماری دھرتی پر
پر ایک دوجے کو جانے کا راستہ تو نہ تھا
شہادتوں کے تقابل سے کچھ ملا تو نہ تھا
کِیا تھا جبر عدالت نے، فیصلہ تو نہ تھا
کشان،۔ گپتا،۔ غزنی،۔ مغل و درانی
بجنگ آئے تھے، مذہب سے واسطہ تو نہ تھا
بہت سے شہر بسے تھے ہماری دھرتی پر
پر ایک دوجے کو جانے کا راستہ تو نہ تھا
کارگر پسِ پردہ یوں تھی اُنگلیاں اُس کی
آدمی جو لگتے تھے وہ تھے پُتلیاں اس کی
آہنی ہتھیلی پر مخملیں تھا دستانہ
اک نظر سے اوجھل تھی، اک ادا عیاں اس کی
دُھوپ کی تمازت سے سُوکھتا گیا دریا
ریت پر مریں آخر ساری مچھلیاں اس کی
وہ بُت پرست تھا، لیکن خدا سے ڈرتا تھا
عجیب شخص تھا ہر انتہا سے ڈرتا تھا
وہ جس نے مٹی میں روندا تھا شاہ کے خیمے کو
وہ شہ سوار بھی اک بادشاہ سے ڈرتا تھا
جو سازشوں کی وساطت سے بادشاہ بنا
شہِ سپاہ، وہ اپنی سپاہ سے ڈرتا تھا
دھرتی ماں
بیٹا: میری ماں تیرے بیٹوں نے کیا کر دیا
درسگاہیں تیری قتل گاہیں بنیں
خوں کی ہولی ترے در پہ کھیلی گئی
تیرے گھر قاتلوں کی پناہیں بنیں
میری ماں تیری چادر کے ٹکڑے ہوئے
تجھ کو زخمی کیا تیری اولاد نے
فصیلِ شہر پہ تنہا کھڑا ہوں
عدو کے لشکروں کو تک رہا ہوں
شہر سویا ہوا ہے دن دیہاڑے
قیامت کی علامت دیکھتا ہوں
کسی بھی گھر کو دروازہ نہیں ہے
میں کیسے شہر میں پیدا ہوا ہوں
کل آج اور کل
عہد جوانی میں دیکھے تھے ایسے ایسے خواب سہانے
ان خوابوں میں ہم لکھتے تھے اکثر خوشیوں کے افسانے
ایک نئی دنیا کی کہانی ایک نئی دنیا کے ترانے
ایسی دنیا جس میں کوئی بھوک نہ جھیلے دکھ نہ جانے
ہم سمجھے تھے سب نے دیکھے اس دھرتی کے درد انجانے
ہم سمجھے تھے سب نکلیں گے غربت کے سب پاپ مٹانے
لے گا اور کیا ظالم امتحان شیشے کا
انگلیوں پہ ہیرے کی، ہے نشان شیشے کا
پتھروں سے ڈرتا ہوں، آندھیوں سے ڈرتا ہوں
جب سے میں نے ڈالا ہے اک مکان شیشے کا
بے کراں سمندر میں مختصر جزیرہ ہے
کشتیاں ہیں پتھر کی، بادبان شیشے کا