Showing posts with label اعتزاز احسن. Show all posts
Showing posts with label اعتزاز احسن. Show all posts

Saturday, 7 October 2023

شہادتوں کے تقابل سے کچھ ملا تو نہ تھا

 شہادتوں کے تقابل سے کچھ ملا تو نہ تھا

کِیا تھا جبر عدالت نے، فیصلہ تو نہ تھا

کشان،۔ گپتا،۔ غزنی،۔ مغل و درانی

بجنگ آئے تھے، مذہب سے واسطہ تو نہ تھا

بہت سے شہر بسے تھے ہماری دھرتی پر

پر ایک دوجے کو جانے کا راستہ تو نہ تھا

Sunday, 2 October 2022

کارگر پس پردہ یوں تھی انگلیاں اس کی

 کارگر پسِ پردہ یوں تھی اُنگلیاں اُس کی

آدمی جو لگتے تھے وہ تھے پُتلیاں اس کی

آہنی ہتھیلی پر مخملیں تھا دستانہ

اک نظر سے اوجھل تھی، اک ادا عیاں اس کی

دُھوپ کی تمازت سے سُوکھتا گیا دریا

ریت پر مریں آخر ساری مچھلیاں اس کی

Monday, 19 September 2022

وہ بت پرست تھا لیکن خدا سے ڈرتا تھا

 وہ بُت پرست تھا، لیکن خدا سے ڈرتا تھا

عجیب شخص تھا ہر انتہا سے ڈرتا تھا

وہ جس نے مٹی میں روندا تھا شاہ کے خیمے کو

وہ شہ سوار بھی اک بادشاہ سے ڈرتا تھا

جو سازشوں کی وساطت سے بادشاہ بنا

شہِ سپاہ، وہ اپنی سپاہ سے ڈرتا تھا

Saturday, 17 September 2022

میری ماں تیرے بیٹوں نے کیا کر دیا

 دھرتی ماں


بیٹا: میری ماں تیرے بیٹوں نے کیا کر دیا

درسگاہیں تیری قتل گاہیں بنیں

خوں کی ہولی ترے در پہ کھیلی گئی

تیرے گھر قاتلوں کی پناہیں بنیں

میری ماں تیری چادر کے ٹکڑے ہوئے

تجھ کو زخمی کیا تیری اولاد نے

Friday, 16 September 2022

فصیل شہر پہ تنہا کھڑا ہوں

 فصیلِ شہر پہ تنہا کھڑا ہوں 

عدو کے لشکروں کو تک رہا ہوں

شہر سویا ہوا ہے دن دیہاڑے

قیامت کی علامت دیکھتا ہوں

کسی بھی گھر کو دروازہ نہیں ہے

میں کیسے شہر میں پیدا ہوا ہوں

Thursday, 6 May 2021

کل آج اور کل اعتزاز احسن کی شہرہ آفاق مکمل نظم

کل آج اور کل


عہد جوانی میں دیکھے تھے ایسے ایسے خواب سہانے

ان خوابوں میں ہم لکھتے تھے اکثر خوشیوں کے افسانے

ایک نئی دنیا کی کہانی ایک نئی دنیا کے ترانے

ایسی دنیا جس میں کوئی بھوک نہ جھیلے دکھ نہ جانے

ہم سمجھے تھے سب نے دیکھے اس دھرتی کے درد انجانے

ہم سمجھے تھے  سب نکلیں گے غربت کے سب پاپ مٹانے

Saturday, 17 April 2021

لے گا اور کیا ظالم امتحان شیشے کا

 لے گا اور کیا ظالم امتحان شیشے کا

انگلیوں پہ ہیرے کی، ہے نشان شیشے کا

پتھروں سے ڈرتا ہوں، آندھیوں سے ڈرتا ہوں

جب سے میں نے ڈالا ہے اک مکان شیشے کا

بے کراں سمندر میں مختصر جزیرہ ہے

کشتیاں ہیں پتھر کی، بادبان شیشے کا