کارگر پسِ پردہ یوں تھی اُنگلیاں اُس کی
آدمی جو لگتے تھے وہ تھے پُتلیاں اس کی
آہنی ہتھیلی پر مخملیں تھا دستانہ
اک نظر سے اوجھل تھی، اک ادا عیاں اس کی
دُھوپ کی تمازت سے سُوکھتا گیا دریا
ریت پر مریں آخر ساری مچھلیاں اس کی
جبر کے دوآبے میں شہ سوار تیموری
جل جلا کے راکھ ہوئیں کتنی بستیاں اس کی
سیالکوٹ سے ٭پورن جب چلا کٹا کے ہاتھ
اعتزاز! عام ہوئیں تب تجلیاں اس کی
اعتزاز احسن
٭پورن بھگت
No comments:
Post a Comment