اینٹھتی خواہش
اینٹھتی خواہش کے پیچ و تاب میں
مُردہ ریشوں میں جمی تاریکیاں
اک اُمڈتی روشنی نے چاٹ لیں
برف پگھلی تو وہ موجِ تُند خو
یک بہ یک اک سیلِ بے ہنگام تھی
اینٹھتی خواہش
اینٹھتی خواہش کے پیچ و تاب میں
مُردہ ریشوں میں جمی تاریکیاں
اک اُمڈتی روشنی نے چاٹ لیں
برف پگھلی تو وہ موجِ تُند خو
یک بہ یک اک سیلِ بے ہنگام تھی
نیل گگن میں بہتا سورج جب زلفیں بکھرا لے گا
کانچ کے ٹکرے چننے والا اک تصویر بنا لے گا
گھمر گھمر یہ کاٹھ کا چرخہ کتنے کج بل ڈالے گا
ریشم دھاگا تل پر آ کر ہر گتھی سلجھا لے گا
صحرا صحرا گھومنے والی، تیز ہوا کا جھونکا بھی
اک دن تیرا روپ چُرا کر اپنا شہر بسا لے گا
ٹوٹ نہ جائے آس کا بندھن پھر سے دیا جلاؤ نا
من مورکھ کو دھیرے دھیرے سب باتیں سمجھاؤ نا
اب بھی من کی دیواروں پر بیتی رات کے جالے ہیں
شیش نگر کے اندھیاروں کو سورج سے سہلاؤ نا
شام ڈھلے تو بے گھر پنچھی کس منزل کی اور چلے
بھولے بھٹکے بنجارے کو رستہ تو دِکھلاؤ نا
صیدِ بے خبر
صبح کاذب سے ذرا پہلے جو فریادیں تھمیں
رت جگوں سے مضمحل سسکی
تہِ حلقوم دب کر رہ گئی
اک شکاری نے اچٹتی آنکھ سے دیکھا مجھے
مرغزارِ ہست کی شاداب پہنائی کے بیچ
بس ایک میں
ایک پیچیدہ مگر اندھی گلی
چار سُو پھیلا ہوا گہرا اندھیرا اور میں
نیند میں چلنے کی عادت ہے عجب
سامنے کچھ بھی نہیں
بس ایک تاریکی کی منزل اور میں
جو یوں مقتل سنوارا جا رہا ہے
تو کس جانب اشارہ جا رہا ہے
سزا سُولی پہ کب تک جھولنا ہے
ہمیں کب تک اُتارا جا رہا ہے
مِری قسمت میں آخر کیا لکھا ہے
مجھے پھر سے پکارا جا رہا ہے
بے بس کا نوحہ
مِرے بدن کو ہدف بنانا تمہارا مرغوب مشغلہ ہے
مِرے محافظ! چلاؤ گولی کہ میرا سینہ تنا ہوا ہے
تمہاری وردی کے تار میں ہے مِرے ہی کھلیان کی کمائی
مِری مشقت کا چاند تارا تمہاری دستار میں جڑا ہے
مِری ہی خلعت پہن کے بیٹھے ہو مسندوں پر
ہماری سمت مت دیکھو
ہماری سمت مت دیکھو
کہ ہم سب زرد ہوتی ساعتیں ہیں
اندھیری رات کی وہ نیلگوں ساعت
جو مشتِ تیرگی میں اک ستارے کی طرح
روشن ہوئی اور جل بُجھی تھی
ہمارے ناخنوں کی مضمحل بے دھار جنبش
دراز دستوں کی سلطنت ہے
گُلِ تمنا بکھر چکا ہے
یہ شہر لاشوں سے بھر چکا ہے
دریدہ جسموں کی باس سے
پُر ہوا کی پا کوب وحشتوں نے
گلی گلی میں دُہائی دی ہے
چاند چہرہ، آس کا جلتا دِیا کچھ بھی نہیں
منزلِ شب کی مسافت کا صِلہ کچھ بھی نہیں
آگ میں نخلِ تمنا ڈھونڈنا بے سُود ہے
دشت میں ظالم بگولوں کے سوا کچھ بھی نہیں
وہ مِلا بھی تو مِری تنہائیاں بڑھ جائیں گی
حسنِ کم آمیز سے شکوہ گِلہ کچھ بھی نہیں
شہر میں آہ و بکا ہے صاحب
حشر کیسا یہ بپا ہے صاحب
کیسی افتاد پڑی ہے اب کے
فرد سے فرد جدا ہے صاحب
خوں ازل سے ہے بشر کا جاری
یہ تِری قدر و قضا ہے صاحب