Showing posts with label غضنفر عباس. Show all posts
Showing posts with label غضنفر عباس. Show all posts

Monday, 11 April 2022

اینٹھتی خواہش کے پیچ و تاب میں

 اینٹھتی خواہش


اینٹھتی خواہش کے پیچ و تاب میں

مُردہ ریشوں میں جمی تاریکیاں

اک اُمڈتی روشنی نے چاٹ لیں

برف پگھلی تو وہ موجِ تُند خو

یک بہ یک اک سیلِ بے ہنگام تھی

Sunday, 6 February 2022

نیل گگن میں بہتا سورج جب زلفیں بکھرا لے گا

 نیل گگن میں بہتا سورج جب زلفیں بکھرا لے گا 

کانچ کے ٹکرے چننے والا اک تصویر بنا لے گا 

گھمر گھمر یہ کاٹھ کا چرخہ کتنے کج بل ڈالے گا 

ریشم دھاگا تل پر آ کر ہر گتھی سلجھا لے گا

صحرا صحرا گھومنے والی، تیز ہوا کا جھونکا بھی

اک دن تیرا روپ چُرا کر اپنا شہر بسا لے گا

Sunday, 30 January 2022

ٹوٹ نہ جائے آس کا بندھن پھر سے دیا جلاؤ نا

 ٹوٹ نہ جائے آس کا بندھن پھر سے دیا جلاؤ نا

من مورکھ کو دھیرے دھیرے سب باتیں سمجھاؤ نا

اب بھی من کی دیواروں پر بیتی رات کے جالے ہیں

شیش نگر کے اندھیاروں کو سورج سے سہلاؤ نا

شام ڈھلے تو بے گھر پنچھی کس منزل کی اور چلے

بھولے بھٹکے بنجارے کو رستہ تو دِکھلاؤ نا 

Saturday, 22 January 2022

صبح کاذب سے ذرا پہلے جو فریادیں تھمیں

 صیدِ بے خبر


صبح کاذب سے ذرا پہلے جو فریادیں تھمیں

رت جگوں سے مضمحل سسکی

تہِ حلقوم دب کر رہ گئی

اک شکاری نے اچٹتی آنکھ سے دیکھا مجھے

مرغزارِ ہست کی شاداب پہنائی کے بیچ

Tuesday, 18 January 2022

ایک پیچیدہ مگر اندھی گلی

 بس ایک میں


ایک پیچیدہ مگر اندھی گلی

چار سُو پھیلا ہوا گہرا اندھیرا اور میں

نیند میں چلنے کی عادت ہے عجب

سامنے کچھ بھی نہیں

بس ایک تاریکی کی منزل اور میں

Tuesday, 11 January 2022

جو یوں مقتل سنوارا جا رہا ہے

 جو یوں مقتل سنوارا جا رہا ہے

تو کس جانب اشارہ جا رہا ہے

سزا سُولی پہ کب تک جھولنا ہے

ہمیں کب تک اُتارا جا رہا ہے

مِری قسمت میں آخر کیا لکھا ہے

مجھے پھر سے پکارا جا رہا ہے

Saturday, 1 January 2022

مرے محافظ چلاؤ گولی کہ میرا سینہ تنا ہوا ہے

 بے بس کا نوحہ


مِرے بدن کو ہدف بنانا تمہارا مرغوب مشغلہ ہے

مِرے محافظ! چلاؤ گولی کہ میرا سینہ تنا ہوا ہے

تمہاری وردی کے تار میں ہے مِرے ہی کھلیان کی کمائی

مِری مشقت کا چاند تارا تمہاری دستار میں جڑا ہے

مِری ہی خلعت پہن کے بیٹھے ہو مسندوں پر

Wednesday, 29 December 2021

ہماری سمت مت دیکھو

 ہماری سمت مت دیکھو


ہماری سمت مت دیکھو 

کہ ہم سب زرد ہوتی ساعتیں ہیں

اندھیری رات کی وہ نیلگوں ساعت

جو مشتِ تیرگی میں اک ستارے کی طرح 

روشن ہوئی اور جل بُجھی تھی

ہمارے ناخنوں کی مضمحل بے دھار جنبش

Tuesday, 28 December 2021

دراز دستوں کی سلطنت

 دراز دستوں کی سلطنت ہے


گُلِ تمنا بکھر چکا ہے

یہ شہر لاشوں سے بھر چکا ہے

دریدہ جسموں کی باس سے 

پُر ہوا کی پا کوب وحشتوں نے

گلی گلی میں دُہائی دی ہے

Saturday, 11 December 2021

چاند چہرہ آس کا جلتا دیا کچھ بھی نہیں

 چاند چہرہ، آس کا جلتا دِیا کچھ بھی نہیں

منزلِ شب کی مسافت کا صِلہ کچھ بھی نہیں

آگ میں نخلِ تمنا ڈھونڈنا بے سُود ہے

دشت میں ظالم بگولوں کے سوا کچھ بھی نہیں

وہ مِلا بھی تو مِری تنہائیاں بڑھ جائیں گی

حسنِ کم آمیز سے شکوہ گِلہ کچھ بھی نہیں

Thursday, 16 September 2021

شہر میں آہ و بکا ہے صاحب

 شہر میں آہ و بکا ہے صاحب

حشر کیسا یہ بپا ہے صاحب

کیسی افتاد پڑی ہے اب کے

فرد سے فرد جدا ہے صاحب

خوں ازل سے ہے بشر کا جاری

یہ تِری قدر و قضا ہے صاحب