شہر میں آہ و بکا ہے صاحب
حشر کیسا یہ بپا ہے صاحب
کیسی افتاد پڑی ہے اب کے
فرد سے فرد جدا ہے صاحب
خوں ازل سے ہے بشر کا جاری
یہ تِری قدر و قضا ہے صاحب
اب کے مشکل ہے بشر کا بچنا
سانپ انسان نما ہے صاحب
آدمی دست و گریباں ہر جا
اور تُو دیکھ رہا ہے صاحب
پوچھ مت حالِ پریشاں ہم سے
سانس لینا بھی سزا ہے صاحب
ہم سزا یاب ہیں جس کے باعث
کیا خبر کس کی خطا ہے صاحب
کیا خبر حدِ نظر سے آگے
کیسا طوفانِ بلا ہے صاحب
کس سے انسان پناہیں مانگے
ظلم جب فرماں روا ہے صاحب
خوں میں تر کیوں ہے وطن کی مٹی
پاک پرچم تو ہرا ہے صاحب
کوئی موسیٰ ہے نہ ابنِ مریم
کیسی سنسان فضا ہے صاحب
کوئی مہدی، کوئی ہادی آئے
اب تو بس ایک دعا ہے صاحب
کوئی امید نہیں ہے باقی
اب نگہبان خدا ہے صاحب
غضنفر عباس
No comments:
Post a Comment