Thursday, 16 September 2021

بے موت جان لے گا یہ جتنا عجیب ہے

 بے موت جان لے گا یہ جتنا عجیب ہے

دُکھ جس قدر شدید ہے، اتنا عجیب ہے

اس دل میں بس رہے ہیں کئی لوگ ایک ساتھ

ہر آدمی کا چاند پہ جانا عجیب ہے

اک دل کی طرح ہاتھ بھی خالی ہیں اب کی بار

اس پر تمہارے گاؤں کا رستہ عجیب ہے

کوئی گلی کہیں نہیں راہِ فرار کی

یا رب! تِرے جہان کا نقشہ عجیب ہے

کشتی کے مسئلے پہ بھی کچھ غور کیجیۓ

ہر بار یہ نہ کہیۓ کہ دریا عجیب ہے

اک تو وہ دل دُکھاتا ہے دن میں ہزار بار

اوپر سے خوش بھی رہتا ہے کتنا عجیب ہے

اے شخص! کائنات میں وہ سب تمہارے نام

جو کچھ جہاں کہیں پہ بھی جتنا عجیب ہے


رقیہ مالک

No comments:

Post a Comment