عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کِتنا بسیط دوستو عنوانِ نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "
محشر میں اپنے نعت نگاروں میں گنیۓ گا
آقاﷺ مِرے بھی ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
سر سبز کشتِ شعر ہے لطفِ کریم سے
میری بھی شعر گوئی پہ بارانِ نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کِتنا بسیط دوستو عنوانِ نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "
محشر میں اپنے نعت نگاروں میں گنیۓ گا
آقاﷺ مِرے بھی ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے
سر سبز کشتِ شعر ہے لطفِ کریم سے
میری بھی شعر گوئی پہ بارانِ نعت ہے
دیکھنے والا کوئی پہلے سا منظر ہی نہیں
یا کوئی رنگ مِری جاں مِرے اندر ہی نہیں
اے مصور! مِری تصویر تخیل سے بنا
میرے چہرے کے خد و خال میسر ہی نہیں
اب تِرے ہجر سے میں دل کو لگا بیٹھا ہوں
اب تِرے چھوڑ کے جانے کا کوئی ڈر ہی نہیں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
زلفِ سرکارؐ سے جب چاند چمکتا ہو گا
مہر بھی دیکھ کے آنکھوں کو جھپکتا ہو گا
رشک سے قطرۂ شبنم اسے تکتا ہو گا
چشمِ سرکارؐ سے آنسو جو چھلکتا ہو گا
میرے سرکارؐ جہاں سے بھی گزرتے ہوں گے
راستہ خلد کی خوشبو سے مہکتا ہو گا
راس ہے درد مجھے تیر اٹھا لائے تھے
میرے زخموں کی وہ تدبیر اٹھا لائے تھے
ایک دم پھیل گیا دود مِرے کمرے میں
یار میرے مِری تحریر اٹھا لائے تھے
میں نے جب پوچھا کہاں خون اگلتی ہے زمیں
بس کہ جلتا ہوا کشمیر اٹھا لائے تھے
چراغ ایسے ہواؤں میں بیٹھ جاتے ہیں
فقیر جیسے سراؤں میں بیٹھ جاتے ہیں
لگا کے مہر کو اک صبح کے تعاقب میں
یہ چاند تارے خلاؤں میں بیٹھ جاتے ہیں
ابھی شجر تو مکمل کٹا نہیں ہے ناں
تنے کی ادھ موئی چھاؤں میں بیٹھ جاتے ہیں