Showing posts with label مزمل شاہ. Show all posts
Showing posts with label مزمل شاہ. Show all posts

Thursday, 30 November 2023

کتنا بسیط دوستو عنوان نعت ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کِتنا بسیط دوستو عنوانِ نعت ہے

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "

محشر میں اپنے نعت نگاروں میں گنیۓ گا

آقاﷺ مِرے بھی ہاتھ میں دیوانِ نعت ہے

سر سبز کشتِ شعر ہے لطفِ کریم سے

میری بھی شعر گوئی پہ بارانِ نعت ہے

Thursday, 2 December 2021

دیکھنے والا کوئی پہلے سا منظر ہی نہیں

 دیکھنے والا کوئی پہلے سا منظر ہی نہیں

یا کوئی رنگ مِری جاں مِرے اندر ہی نہیں

اے مصور! مِری تصویر تخیل سے بنا

میرے چہرے کے خد و خال میسر ہی نہیں

اب تِرے ہجر سے میں دل کو لگا بیٹھا ہوں

اب تِرے چھوڑ کے جانے کا کوئی ڈر ہی نہیں

Friday, 26 November 2021

زلف سرکار سے جب چاند چمکتا ہو گا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


زلفِ سرکارؐ سے جب چاند چمکتا ہو گا

مہر بھی دیکھ کے آنکھوں کو جھپکتا ہو گا

رشک سے قطرۂ شبنم اسے تکتا ہو گا

چشمِ سرکارؐ سے آنسو جو چھلکتا ہو گا

میرے سرکارؐ جہاں سے بھی گزرتے ہوں گے

راستہ خلد کی خوشبو سے مہکتا ہو گا

Thursday, 25 November 2021

راس ہے درد مجھے تیر اٹھا لائے تھے

 راس ہے درد مجھے تیر اٹھا لائے تھے

میرے زخموں کی وہ تدبیر اٹھا لائے تھے

ایک دم پھیل گیا دود مِرے کمرے میں

یار میرے مِری تحریر اٹھا لائے تھے

میں نے جب پوچھا کہاں خون اگلتی ہے زمیں

بس کہ جلتا ہوا کشمیر اٹھا لائے تھے

Saturday, 14 November 2020

چراغ ایسے ہواؤں میں بیٹھ جاتے ہیں

 چراغ ایسے ہواؤں میں بیٹھ جاتے ہیں

فقیر جیسے سراؤں میں بیٹھ جاتے ہیں

لگا کے مہر کو اک صبح کے تعاقب میں

یہ چاند تارے خلاؤں میں بیٹھ جاتے ہیں

ابھی شجر تو مکمل کٹا نہیں ہے ناں

تنے کی ادھ موئی چھاؤں میں بیٹھ جاتے ہیں