دیکھنے والا کوئی پہلے سا منظر ہی نہیں
یا کوئی رنگ مِری جاں مِرے اندر ہی نہیں
اے مصور! مِری تصویر تخیل سے بنا
میرے چہرے کے خد و خال میسر ہی نہیں
اب تِرے ہجر سے میں دل کو لگا بیٹھا ہوں
اب تِرے چھوڑ کے جانے کا کوئی ڈر ہی نہیں
تُو قبیلے کی کسی سانولی کو پائے گا
تُو تو سردار کی بیٹی کے برابر ہی نہیں
جب سے اے یار کہیں کوچ کیا ہے تُو نے
اس محلے میں تو لگتا ہے کوئی گھر ہی نہیں
جب سے روٹھی ہے مزمل وہ مِری جانِ بہار
دل کی شاخوں پہ کہیں کوئی گلِ تر ہی نہیں
مزمل شاہ
No comments:
Post a Comment