Showing posts with label بشریٰ بختیار. Show all posts
Showing posts with label بشریٰ بختیار. Show all posts

Friday, 23 June 2023

یا محمد آپ کے در سے مرا ناتا رہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یا محمدﷺ آپ کے در سے مِرا ناتا رہے

یا محمدﷺ آپ کے در سے کرم ملتا رہے

یا محمدﷺ آپ کی گلیوں کی خاکی خاک میں

آپﷺ تو ہیں نور رب کا اور اک ناپاک میں

یا محمدﷺ آپ کے قدموں میں ہی جیون بسے

آپ کی یادوں سے میرے دل کا یہ آنگن بسے

Sunday, 9 January 2022

دشت ہم تجھ سے تعلق کو نبھاتے کیسے

 دشت! ہم تجھ سے تعلق کو نبھاتے کیسے

ہم بھلا ان کی گلی چھوڑ کے جاتے کیسے

ان کی آنکھوں میں کوئی اور بسا تھا شاید

ہم سے وہ نظریں ملاتے تو ملاتے کیسے

ان کے چہرے پہ کسی اور کا حق تھا شاید

ہم تو قدموں سے توجہ کو ہٹاتے کیسے

Sunday, 15 August 2021

ہمارے دل میں وہی عکس یار اب بھی ہے

 ہمارے دل میں وہی عکسِ یار اب بھی ہے 

مراد یہ ہے کہ ہر پل بہار اب بھی ہے 

تمہاری آنکھ سے بس آنکھ ہی ملائی تھی 

ہماری روح میں اس کا خمار اب بھی ہے 

تمہیں تو فرق نہیں پڑتا ہم ملیں نہ ملیں

تمہارے دل پہ انا کا غبار اب بھی ہے

Monday, 26 July 2021

کسی کے نام کے کوئی گلاب بیچتا ہے

 کسی کے نام کے کوئی گلاب بیچتا ہے

کہیں پہ کوئی محبت کے باب بیچتا ہے

ہم اس کے شہر میں آئے تو ہم پہ راز کھلا

یہاں تو شہر کا ہر شخص خواب بیچتا ہے

تو اپنے دین کو روزی بنا کے پھرتا ہے

خدا کا قہر گناہ و ثواب بیچتا ہے

Thursday, 22 July 2021

شہر کے شہر بساتے ہوئے مر جاتے ہیں

 شہر کے شہر بساتے ہوئے مر جاتے ہیں

کارِ دنیا کو چلاتے ہوئے مر جاتے ہیں

لوگ بچھڑیں تو بسا لیتے ہیں دنیا پھر سے

ہم تو بس ہاتھ چھڑاتے ہوئے مر جاتے ہیں

جب سے تُو راہ کی دیوار سمجھتا ہے ہمیں

ہم تِری راہ میں آتے ہوئے مر جاتے ہیں

Wednesday, 21 July 2021

زندگی عشق کے مذہب میں بتانا چاہیں

 زندگی عشق کے مذہب میں بِتانا چاہیں

ہم تِرے ساتھ کبھی چاند پہ جانا چاہیں

ہم قوانین محبت میں تجھے لے آئیں

ہم تِرے نام کا اک ملک بسانا چاہیں

ہم یہ چاہیں کہ تِرے حسن کے پردے کھولیں

ہم تِرے خواب فرشتوں کو دِکھانا چاہیں

Tuesday, 20 July 2021

تہمت عشق جب اٹھا لی ہے

 تہمتِ عشق جب اٹھا لی ہے

پھر کیوں انصاف کا سوالی ہے

آج میں خود سے بحث کرتی رہی

اور اب میرا ذہن خالی ہے

تیرا کوئی نہ تھا مثالیہ یار

بے وفائی بھی تو مثالی ہے

Monday, 19 July 2021

زمین بیچ کے تارے بسانا چاہتے ہیں

 زمین بیچ کے تارے بسانا چاہتے ہیں

یہ کون لوگ خلاؤں میں جانا چاہتے ہیں

کبھی وہ شعر کہا کرتا تھا ہمارے لیے

ہم اس کے شعر اسی کو سنانا چاہتے ہیں

وہ چاہے جھوٹ میں اقرار تو کرے اک بار

ہم اس کے جھوٹ پہ ایمان لانا چاہتے ہیں

Saturday, 24 April 2021

ہمارے نقش بناؤ بہت اداسی ہے

 ہمارے نقش بناؤ بہت اُداسی ہے

اُداسیوں کو بُلاؤ بہت اداسی ہے

سُنا ہے خواب دکھانے میں آپ ماہر ہو

ہمیں بھی خواب دکھاؤ بہت اداسی ہے

بہت اداسی مِری جان ہی نہ لے جائے

مِرے ہی شعر سناؤ بہت اداسی ہے