عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یا محمدﷺ آپ کے در سے مِرا ناتا رہے
یا محمدﷺ آپ کے در سے کرم ملتا رہے
یا محمدﷺ آپ کی گلیوں کی خاکی خاک میں
آپﷺ تو ہیں نور رب کا اور اک ناپاک میں
یا محمدﷺ آپ کے قدموں میں ہی جیون بسے
آپ کی یادوں سے میرے دل کا یہ آنگن بسے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یا محمدﷺ آپ کے در سے مِرا ناتا رہے
یا محمدﷺ آپ کے در سے کرم ملتا رہے
یا محمدﷺ آپ کی گلیوں کی خاکی خاک میں
آپﷺ تو ہیں نور رب کا اور اک ناپاک میں
یا محمدﷺ آپ کے قدموں میں ہی جیون بسے
آپ کی یادوں سے میرے دل کا یہ آنگن بسے
دشت! ہم تجھ سے تعلق کو نبھاتے کیسے
ہم بھلا ان کی گلی چھوڑ کے جاتے کیسے
ان کی آنکھوں میں کوئی اور بسا تھا شاید
ہم سے وہ نظریں ملاتے تو ملاتے کیسے
ان کے چہرے پہ کسی اور کا حق تھا شاید
ہم تو قدموں سے توجہ کو ہٹاتے کیسے
ہمارے دل میں وہی عکسِ یار اب بھی ہے
مراد یہ ہے کہ ہر پل بہار اب بھی ہے
تمہاری آنکھ سے بس آنکھ ہی ملائی تھی
ہماری روح میں اس کا خمار اب بھی ہے
تمہیں تو فرق نہیں پڑتا ہم ملیں نہ ملیں
تمہارے دل پہ انا کا غبار اب بھی ہے
کسی کے نام کے کوئی گلاب بیچتا ہے
کہیں پہ کوئی محبت کے باب بیچتا ہے
ہم اس کے شہر میں آئے تو ہم پہ راز کھلا
یہاں تو شہر کا ہر شخص خواب بیچتا ہے
تو اپنے دین کو روزی بنا کے پھرتا ہے
خدا کا قہر گناہ و ثواب بیچتا ہے
شہر کے شہر بساتے ہوئے مر جاتے ہیں
کارِ دنیا کو چلاتے ہوئے مر جاتے ہیں
لوگ بچھڑیں تو بسا لیتے ہیں دنیا پھر سے
ہم تو بس ہاتھ چھڑاتے ہوئے مر جاتے ہیں
جب سے تُو راہ کی دیوار سمجھتا ہے ہمیں
ہم تِری راہ میں آتے ہوئے مر جاتے ہیں
زندگی عشق کے مذہب میں بِتانا چاہیں
ہم تِرے ساتھ کبھی چاند پہ جانا چاہیں
ہم قوانین محبت میں تجھے لے آئیں
ہم تِرے نام کا اک ملک بسانا چاہیں
ہم یہ چاہیں کہ تِرے حسن کے پردے کھولیں
ہم تِرے خواب فرشتوں کو دِکھانا چاہیں
تہمتِ عشق جب اٹھا لی ہے
پھر کیوں انصاف کا سوالی ہے
آج میں خود سے بحث کرتی رہی
اور اب میرا ذہن خالی ہے
تیرا کوئی نہ تھا مثالیہ یار
بے وفائی بھی تو مثالی ہے
زمین بیچ کے تارے بسانا چاہتے ہیں
یہ کون لوگ خلاؤں میں جانا چاہتے ہیں
کبھی وہ شعر کہا کرتا تھا ہمارے لیے
ہم اس کے شعر اسی کو سنانا چاہتے ہیں
وہ چاہے جھوٹ میں اقرار تو کرے اک بار
ہم اس کے جھوٹ پہ ایمان لانا چاہتے ہیں
ہمارے نقش بناؤ بہت اُداسی ہے
اُداسیوں کو بُلاؤ بہت اداسی ہے
سُنا ہے خواب دکھانے میں آپ ماہر ہو
ہمیں بھی خواب دکھاؤ بہت اداسی ہے
بہت اداسی مِری جان ہی نہ لے جائے
مِرے ہی شعر سناؤ بہت اداسی ہے