Showing posts with label سیما فریدی. Show all posts
Showing posts with label سیما فریدی. Show all posts

Monday, 29 April 2024

در و دیوار کا بدلا ہوا حلیہ لکھیں

 در و دیوار کا بدلا ہوا حلیہ لکھیں

اس حویلی کا کوئی دوسرا نقشہ لکھیں

نہ کنیزوں کا وہ جھرمٹ نہ بہی خواہوں کا

دل کی مانند محل کو بھی اکیلا لکھیں

پار جو ہم نے کیا آگ کا دریا وہ تھا

زندگی اب تجھے بیتا ہوا لمحہ لکھیں

Saturday, 23 March 2024

وفا میں پیکر ایثار بننا کتنا مشکل ہے

 وفا میں پیکر ایثار بننا کتنا مشکل ہے

کسی کے پیار کا حقدار بننا کتنا مشکل ہے

مسائل ہر قبیلے کے سمجھ لینا تو ہے آساں

قبیلے کا مگر سردار بننا کتنا مشکل ہے

تصادم ہے یہاں باہم مفادات خصوصی ہیں

یہاں پر غیر جانبدار بننا کتنا مشکل ہے

Tuesday, 9 January 2024

کہیں بہار کہیں خار زار کی صورت

 کہیں بہار، کہیں خار زار کی صُورت

جدھر بھی دیکھو وہی انتظار کی صورت

جسے بھی دیکھو مسائل کی بِھیڑ میں گُم ہے

ہر اک جبیں ہے کسی اشتہار کی صورت

ہتھیلیوں پہ نمایاں ہے جبر کی تحریر

اسی کو کہتے ہیں کیا اختیار کی صورت

Monday, 5 December 2022

حیات درد مسلسل بھی انتشار بھی ہے

حیات دردِ مُسلسل بھی، اِنتشار بھی ہے

قرار ڈھونڈنے والو! کہیں قرار بھی ہے؟

شمیم گُل سے سُلگتا ہے دامنِ احساس

کہ تیری نکہتِ پوشاک شعلہ بار بھی ہے

زمانہ خُود نظر آتا نہیں زمانے کو

کہ دل کا آئینہ آلودۂ غُبار بھی ہے

Thursday, 5 August 2021

اچھے اچھے پیارے پیارے لفظ یہ سارے آپ کے نام

 خوشبو پھول صبا اور شبنم دل کی دھڑکن تاج محل

اچھے اچھے پیارے پیارے لفظ یہ سارے آپ کے نام

آپ کی دل کش قربت پا کر جاگ اٹھی ان کی تقدیر

رنگ برنگے پھولوں کے یہ جھلمل گجرے آپ کے نام

گلشن جاں کی پتی پتی موجِ نسیمِ عطر فشاں

رنگ بہاراں پھول شگوفے سب گلدستے آپ کے نام