Showing posts with label ضیاء الحق قاسمی. Show all posts
Showing posts with label ضیاء الحق قاسمی. Show all posts

Tuesday, 11 April 2023

دل کے زخموں پہ وہ مرہم جو لگانا چاہے

 دل کے زخموں پہ وہ مرہم جو لگانا چاہے 

واجبات اپنے پرانے وہ چکانا چاہے 

میری آنکھوں کی سمندر میں اترنے والا 

ایسا لگتا ہے مجھے اور رُلانا چاہے 

دل کے آنگن کی کڑی دھوپ میں اک دوشیزہ 

مرمریں بھیگا ہوا جسم سکھانا چاہے 

Friday, 24 September 2021

ہآج تک ہوتا رہا ہے میرے ارمانوں کا خون

زعفرانی کلام


آج تک ہوتا رہا ہے میرے ارمانوں کا خون

دس برس کے بعد آخر مل گیا ہے ٹیلی فون

لے کے میں ڈیمانڈ نوٹس ہکا بکا رہ گیا

اور مِری آنکھوں سے خوشیوں کا سمندر بہہ گیا

ڈاکیے نے دی مبارک کچھ عجب انداز سے

بحث کیا کرتا میں اس سرکاری حیلہ باز سے

Saturday, 19 December 2020

گناہگار ہوں یا رب عذاب نازل کر

 گناہ گار ہوں یا رب عذاب نازل کر

نہیں تو بے گناہی کا ثواب نازل کر

کتاب دے کے جو بھیجے ہیں تُو نے پیغمبر

پیمبرانِ سخن پر کتاب نازل کر

ہمارے دور کے مہوش ادا سے باغی ہیں

تو کوئی آیتِ شرم و حجاب نازل کر

Monday, 7 December 2020

معشوق جو ٹھگنا ہے تو عاشق بھی ہے ناٹا

 رنگ مزاح


معشوق جو ٹھگنا ہے تو عاشق بھی ہے ناٹا

اس کا کوئی نقصان، نہ اس کو کوئی گھاٹا

تیری تو نوازش ہے کہ تُو آ گیا، لیکن

اے دوست مرے گھر میں نہ چاول ہے نہ آٹا

لڈن تو ہنی مون منانے گئے لندن

چل ہم بھی کلفٹن پہ کریں سیر سپاٹا

Sunday, 6 December 2020

میں لحاف ہوں کسی اور کا مجھے اوڑھتا کوئی اور ہے

 رنگ مزاح


میں لحاف ہوں کسی اور کا، مجھے اوڑھتا کوئی اور ہے

میری بابرہ تو شریف ہے، تیری بابرہ کوئی اور ہے

میں شکار ہوں کسی اور کا، مجھے مارتا کوئی اور ہے

میں رقیب ہوں کسی اور کا، مجھے تاڑتا کوئی اور ہے

مجھے چکروں میں پھنسا دیا، مجھے عشق نے تو رلا دیا

میں تو مانگ تھی کسی اور کی، مجھے مانگتا کوئی اور ہے

Saturday, 5 December 2020

میں شکار ہوں کسی اور کا مجھے مارتا کوئی اور ہے

 رنگ مزاح


میں شکار ہوں کسی اور کا مجھے مارتا کوئی اور ہے

مجھے جس نے بکری بنا دیا وہ تو بھیڑیا کوئی اور ہے

کئی سردیاں بھی گزر گئیں میں تو اس کے کام نہ آ سکا

میں لحاف ہوں کسی اور کا، مجھے اوڑھتا کوئی اور ہے

مجھے چکروں میں پھنسا دیا مجھے عشق نے تو رلا دیا

میں تو مانگ تھی کسی اور کی مجھے مانگتا کوئی اور ہے

جب بھی تجھے دیکھا کسی بحران میں دیکھ

رنگ مزاح


 جب بھی تجھے دیکھا کسی بحران میں دیکھا

نسیان میں دیکھا، کبھی ہذیان میں دیکھا

گوبھی بھی ہے گر پھول تو بس اتنا بتا دے

کالر میں کبھی یا کبھی گلدان میں دیکھا؟

ایسا نہ ہو ببن کو کوئی چیل اچک لے

ننگا اسے دیکھا کبھی بنیان میں دیکھا