دل کے زخموں پہ وہ مرہم جو لگانا چاہے
واجبات اپنے پرانے وہ چکانا چاہے
میری آنکھوں کی سمندر میں اترنے والا
ایسا لگتا ہے مجھے اور رُلانا چاہے
دل کے آنگن کی کڑی دھوپ میں اک دوشیزہ
مرمریں بھیگا ہوا جسم سکھانا چاہے
دل کے زخموں پہ وہ مرہم جو لگانا چاہے
واجبات اپنے پرانے وہ چکانا چاہے
میری آنکھوں کی سمندر میں اترنے والا
ایسا لگتا ہے مجھے اور رُلانا چاہے
دل کے آنگن کی کڑی دھوپ میں اک دوشیزہ
مرمریں بھیگا ہوا جسم سکھانا چاہے
زعفرانی کلام
آج تک ہوتا رہا ہے میرے ارمانوں کا خون
دس برس کے بعد آخر مل گیا ہے ٹیلی فون
لے کے میں ڈیمانڈ نوٹس ہکا بکا رہ گیا
اور مِری آنکھوں سے خوشیوں کا سمندر بہہ گیا
ڈاکیے نے دی مبارک کچھ عجب انداز سے
بحث کیا کرتا میں اس سرکاری حیلہ باز سے
گناہ گار ہوں یا رب عذاب نازل کر
نہیں تو بے گناہی کا ثواب نازل کر
کتاب دے کے جو بھیجے ہیں تُو نے پیغمبر
پیمبرانِ سخن پر کتاب نازل کر
ہمارے دور کے مہوش ادا سے باغی ہیں
تو کوئی آیتِ شرم و حجاب نازل کر
رنگ مزاح
معشوق جو ٹھگنا ہے تو عاشق بھی ہے ناٹا
اس کا کوئی نقصان، نہ اس کو کوئی گھاٹا
تیری تو نوازش ہے کہ تُو آ گیا، لیکن
اے دوست مرے گھر میں نہ چاول ہے نہ آٹا
لڈن تو ہنی مون منانے گئے لندن
چل ہم بھی کلفٹن پہ کریں سیر سپاٹا
رنگ مزاح
میں لحاف ہوں کسی اور کا، مجھے اوڑھتا کوئی اور ہے
میری بابرہ تو شریف ہے، تیری بابرہ کوئی اور ہے
میں شکار ہوں کسی اور کا، مجھے مارتا کوئی اور ہے
میں رقیب ہوں کسی اور کا، مجھے تاڑتا کوئی اور ہے
مجھے چکروں میں پھنسا دیا، مجھے عشق نے تو رلا دیا
میں تو مانگ تھی کسی اور کی، مجھے مانگتا کوئی اور ہے
رنگ مزاح
میں شکار ہوں کسی اور کا مجھے مارتا کوئی اور ہے
مجھے جس نے بکری بنا دیا وہ تو بھیڑیا کوئی اور ہے
کئی سردیاں بھی گزر گئیں میں تو اس کے کام نہ آ سکا
میں لحاف ہوں کسی اور کا، مجھے اوڑھتا کوئی اور ہے
مجھے چکروں میں پھنسا دیا مجھے عشق نے تو رلا دیا
میں تو مانگ تھی کسی اور کی مجھے مانگتا کوئی اور ہے
رنگ مزاح
جب بھی تجھے دیکھا کسی بحران میں دیکھا
نسیان میں دیکھا، کبھی ہذیان میں دیکھا
گوبھی بھی ہے گر پھول تو بس اتنا بتا دے
کالر میں کبھی یا کبھی گلدان میں دیکھا؟
ایسا نہ ہو ببن کو کوئی چیل اچک لے
ننگا اسے دیکھا کبھی بنیان میں دیکھا