دیوار و در کا نام تھا کوئی مکاں نہ تھا
میں جس زمین پر تھا وہاں آسماں نہ تھا
میں دشمنوں کی طرح رہا خود سے دور کیوں
اپنے سوا تو کوئی مِرے درمیاں نہ تھا
قدموں میں تپتی ریت تھی چاروں طرف تھی آگ
اور زندگی کے سر پر کوئی سائباں نہ تھا
دیوار و در کا نام تھا کوئی مکاں نہ تھا
میں جس زمین پر تھا وہاں آسماں نہ تھا
میں دشمنوں کی طرح رہا خود سے دور کیوں
اپنے سوا تو کوئی مِرے درمیاں نہ تھا
قدموں میں تپتی ریت تھی چاروں طرف تھی آگ
اور زندگی کے سر پر کوئی سائباں نہ تھا
حیات ڈھونڈ رہا ہوں قضا کی راہوں میں
پناہ مانگنے آیا ہوں بے پناہوں میں
بدن ممی تھا نظر برف سانس کافوری
تمام رات گُزاری ہے سرد بانہوں میں
اب ان میں شعلے جہنم کے رقص کرتے ہیں
بسے تھے کتنے ہی فردوس جن نگاہوں میں
ٹپکتے شعلوں کی برسات میں نہاؤں گا
اب آ گیا ہوں تو اس شہر سے نہ جاؤں گا
کشش ہے گھر میں نہ باہر کی رونقیں باقی
یونہی رہا تو کہاں جا کے مسکراؤں گا
یہ گیلی گیلی سی خوشبو یہ نرم نرم نگاہ
تمہارے پاس رہا میں تو بھیگ جاؤں گا
باغِ دل میں کوئی غنچہ نہ کِھلا تیرے بعد
بھول کر آئی نہ اس سمت صبا تیرے بعد
تیری زلفوں کی مہک تیرے بدن کی خوشبو
ڈھونڈتی پھرتی ہے اک پگلی ہوا تیرے بعد
وہی میلے وہی پنگھٹ وہی جھولے وہی گیت
گاؤں میں پر کوئی تجھ سا نہ ملا تیرے بعد
زہر پیے مدہوش اندھیری رات
ناگن سی خاموش اندھیری رات
دن کی صورت مجھ کو بھی کھا جا آ کر
میں بھی ہوں بے ہوش اندھیری رات
شہروں میں خاموشی ہی خاموشی تھی
طوفاں تھا پُر جوش اندھیری رات