Showing posts with label بدنام نظر. Show all posts
Showing posts with label بدنام نظر. Show all posts

Saturday, 18 May 2024

دیوار و در کا نام تھا کوئی مکاں نہ تھا

 دیوار و در کا نام تھا کوئی مکاں نہ تھا 

میں جس زمین پر تھا وہاں آسماں نہ تھا 

میں دشمنوں کی طرح رہا خود سے دور کیوں 

اپنے سوا تو کوئی مِرے درمیاں نہ تھا 

قدموں میں تپتی ریت تھی چاروں طرف تھی آگ 

اور زندگی کے سر پر کوئی سائباں نہ تھا 

Wednesday, 15 May 2024

حیات ڈھونڈ رہا ہوں قضا کی راہوں میں

 حیات ڈھونڈ رہا ہوں قضا کی راہوں میں

پناہ مانگنے آیا ہوں بے پناہوں میں

بدن ممی تھا نظر برف سانس کافوری

تمام رات گُزاری ہے سرد بانہوں میں

اب ان میں شعلے جہنم کے رقص کرتے ہیں

بسے تھے کتنے ہی فردوس جن نگاہوں میں

Monday, 13 May 2024

ٹپکتے شعلوں کی برسات میں نہاؤں گا

 ٹپکتے شعلوں کی برسات میں نہاؤں گا 

اب آ گیا ہوں تو اس شہر سے نہ جاؤں گا 

کشش ہے گھر میں نہ باہر کی رونقیں باقی 

یونہی رہا تو کہاں جا کے مسکراؤں گا 

یہ گیلی گیلی سی خوشبو یہ نرم نرم نگاہ 

تمہارے پاس رہا میں تو بھیگ جاؤں گا 

Sunday, 12 May 2024

باغ دل میں کوئی غنچہ نہ کھلا تیرے بعد

 باغِ دل میں کوئی غنچہ نہ کِھلا تیرے بعد

بھول کر آئی نہ اس سمت صبا تیرے بعد

تیری زلفوں کی مہک تیرے بدن کی خوشبو

ڈھونڈتی پھرتی ہے اک پگلی ہوا تیرے بعد

وہی میلے وہی پنگھٹ وہی جھولے وہی گیت

گاؤں میں پر کوئی تجھ سا نہ ملا تیرے بعد

Saturday, 11 May 2024

زہر پیے مدہوش اندھیری رات

 زہر پیے مدہوش اندھیری رات

ناگن سی خاموش اندھیری رات

دن کی صورت مجھ کو بھی کھا جا آ کر

میں بھی ہوں بے ہوش اندھیری رات

شہروں میں خاموشی ہی خاموشی تھی

طوفاں تھا پُر جوش اندھیری رات