Showing posts with label احمد طاہر. Show all posts
Showing posts with label احمد طاہر. Show all posts

Friday, 1 July 2022

جو ان کی راہگزر کا غبار ہو جائے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


جو انِ کی راہگزر کا غبار ہو جائے

یہ خاکسار بشر تاجدار ہو جائے

سیاہ شب انہیںﷺ دیکھے تو آفتاب بنے

خزاں حضورﷺ کو چھو کر بہار ہو جائے

میرے رسولﷺ کا دل میں خیال آتے ہی

وجود سارا عبادت گزار ہو جائے

Thursday, 23 June 2022

آؤ مل بیٹھ کے آداب وفا طے کر لیں

 آؤ مل بیٹھ کے آدابِ وفا طے کر لیں

کس نے کس موڑ پہ ہونا ہے جدا، طے کر لیں

توڑ کر عہدِ وفا کون چلا جائے گا

کون لکھے گا، کسے جانِ وفا طے کر لیں

کب کہاں کون کسے کیوں کوئی کیسے کیونکر

کل کا ہر وہم ابھی بیٹھ ذرا طے کر لیں

Monday, 20 June 2022

ہوا ہے فیصلہ بستی جلائی جائے گی

 ہُوا ہے فیصلہ، بستی جلائی جائے گی

پھر اس کے بعد شبِ غم منائی جائے گی

امیرِ شہر کو رونا ہے جس قیامت پر

کسی غریب کے گھر میں اُٹھائی جائے گی

مجھے صفائی کا موقع بھلے ملے نہ ملے

سُنا ہے عام عدالت لگائی جائے گی

Sunday, 19 June 2022

نہ کوئی آنکھ ہو میلی نہ دل ہی کالا رہے

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


نہ کوئی آنکھ ہو میلی، نہ دل ہی کالا رہے

وہ نور دے کہ نہ کوئی بھٹکنے والا رہے 

شعور و فکر کے ایسے چراغ دے ہم کو 

جہالتوں کا کہیں ذکر، نہ حوالہ رہے

نہ رہگزر نہ کوئی رہنما ہو تیرے سوا

کوئی کلیسا و مندر ہو، نہ شوالا رہے

Monday, 25 April 2022

نگاہ شوق میں آ پردۂ گماں سے نکل

 نگاہِ شوق میں آ، پردۂ گماں سے نکل

میں اپنی ذات سے نکلوں تُو لامکاں سے نکل

بہت پکار چکا تجھ کو ہوش میں، اب تُو

مقامِ وجد و فنا میں مِری زُباں سے نکل

تُو جانتا ہے مِری پستیوں کو پھر بھی کبھی

مِری زمیں پہ اُتر، اپنے آسماں سے نکل