عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جو انِ کی راہگزر کا غبار ہو جائے
یہ خاکسار بشر تاجدار ہو جائے
سیاہ شب انہیںﷺ دیکھے تو آفتاب بنے
خزاں حضورﷺ کو چھو کر بہار ہو جائے
میرے رسولﷺ کا دل میں خیال آتے ہی
وجود سارا عبادت گزار ہو جائے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جو انِ کی راہگزر کا غبار ہو جائے
یہ خاکسار بشر تاجدار ہو جائے
سیاہ شب انہیںﷺ دیکھے تو آفتاب بنے
خزاں حضورﷺ کو چھو کر بہار ہو جائے
میرے رسولﷺ کا دل میں خیال آتے ہی
وجود سارا عبادت گزار ہو جائے
آؤ مل بیٹھ کے آدابِ وفا طے کر لیں
کس نے کس موڑ پہ ہونا ہے جدا، طے کر لیں
توڑ کر عہدِ وفا کون چلا جائے گا
کون لکھے گا، کسے جانِ وفا طے کر لیں
کب کہاں کون کسے کیوں کوئی کیسے کیونکر
کل کا ہر وہم ابھی بیٹھ ذرا طے کر لیں
ہُوا ہے فیصلہ، بستی جلائی جائے گی
پھر اس کے بعد شبِ غم منائی جائے گی
امیرِ شہر کو رونا ہے جس قیامت پر
کسی غریب کے گھر میں اُٹھائی جائے گی
مجھے صفائی کا موقع بھلے ملے نہ ملے
سُنا ہے عام عدالت لگائی جائے گی
عارفانہ کلام حمدیہ کلام
نہ کوئی آنکھ ہو میلی، نہ دل ہی کالا رہے
وہ نور دے کہ نہ کوئی بھٹکنے والا رہے
شعور و فکر کے ایسے چراغ دے ہم کو
جہالتوں کا کہیں ذکر، نہ حوالہ رہے
نہ رہگزر نہ کوئی رہنما ہو تیرے سوا
کوئی کلیسا و مندر ہو، نہ شوالا رہے
نگاہِ شوق میں آ، پردۂ گماں سے نکل
میں اپنی ذات سے نکلوں تُو لامکاں سے نکل
بہت پکار چکا تجھ کو ہوش میں، اب تُو
مقامِ وجد و فنا میں مِری زُباں سے نکل
تُو جانتا ہے مِری پستیوں کو پھر بھی کبھی
مِری زمیں پہ اُتر، اپنے آسماں سے نکل