ہماری زیست میں کچھ ایسے مہ و شاں گزرے
زمیں پہ جیسے ستاروں کے کارواں گزرے
متاع زیست سمجھ کر اسے سمیٹ لیا
تِرے لیے جو ستم ہائے آسماں گزرے
خود اپنے حال پہ آنکھوں میں آ گئے آنسو
تِرے خیال میں کیا کیا نہیں گُماں گزرے
ہماری زیست میں کچھ ایسے مہ و شاں گزرے
زمیں پہ جیسے ستاروں کے کارواں گزرے
متاع زیست سمجھ کر اسے سمیٹ لیا
تِرے لیے جو ستم ہائے آسماں گزرے
خود اپنے حال پہ آنکھوں میں آ گئے آنسو
تِرے خیال میں کیا کیا نہیں گُماں گزرے
کب تلک چلتا رہے گا سلسلہ کشمیر کا
اب تو کرنا ہی پڑے گا فیصلہ کشمیر کا
خونِ ناحق بہہ رہا ہے خطۂ کشمیر میں
خُون سے بدلے گا اک دن زاویہ کشمیر کا
جنگ جاری ہی رہے گی اب یہ تھمنے کو نہیں
جب تلک ہوتا نہیں ہے تصفیہ کشمیر کا
کیسے کیسے خواب سہانے چھوڑ آئے
سب چہرے جانے پہچانے چھوڑ آئے
بارش بن کر جو برسے تھے آنگن میں
ہم ساون کے وہ نذرانے چھوڑ آئے
چھوٹے سے مخدوش گھروندے کی خاطر
شیش محل جیسے کاشانے چھوڑ آئے
ہماری حسرت وطن کو اپنی محبتوں سے نکھار دیں گے
نئی امیدوں کی روشنی سے ہم اس کی زُلفیں سنوار دیں گے
یہی وفاوں کا رہگزر ہے یہی ہمارے سفر کی منزل
جو قرض مٹی کا سر ہے اپنے وہ قرض سر سے اتار دیں گے
تِری ہی خاطر لٹا چکے ہیں ہزاروں تارے ہزار سورج
اگر ضرورت پڑی دوبارہ تو اپنی جانوں کو وار دیں گے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے لوگو محمدﷺ سے وفا کیوں نہیں کرتے
احکام شریعت کے ادا کیوں نہیں کرتے
جنت کی تمنا ہے اگر دل میں تمہارے
تم راہ ہدایت پہ چلا کیوں نہیں کرتے
یہ روح بھی زخمی ہے اور جسم بھی زخمی
قران سے زخموں کی دوا کیوں نہیں کرتے
روداد غم انہیں کو سنانے میں رہ گئے
جو لوگ با وقار زمانے میں رہ گئے
آتے میں رہ گئے، کبھی جاتے میں رہ گئے
اچھا سا کوئی شعر سنانے میں رہ گئے
جانا تھا جس کو پار وہ آخر چلے گئے
کچھ لوگ صرف اشک بہانے میں رہ گئے
تجھ کو اے دوست بلاؤں گا مگر شام کے بعد
داستاں اپنی سناؤں گا مگر شام کے بعد
غم کا احساس بڑھے درد کی خُوشبو پھیلے
پھول آنگن میں سجاؤں گا مگر شام کے بعد
حرف ہونٹوں کی طرح بات کیا کرتے ہیں
ایسی تحریر دکھاؤں گا مگر شام کے بعد