دیے منڈیروں پہ رکھ رہی ہوں زمیں پہ کلیاں بچھا رہی ہوں
کبھی تو آؤ گے لوٹ کر تم، اسی لیے گھر سجا رہی ہوں
کبھی تو اترے گا چاند چھت پر کبھی تو چمکے گی میری قسمت
کبھی تو جاگے گی یاد بن کر تمہارے دل میں میری محبت
اسی لیے تو ہتھیلیوں پر میں آج مہندی لگا رہی ہوں
نہ میری غزلوں میں تتلیوں کے حسین رنگوں کی داستاں ہے