Showing posts with label شبینہ ادیب. Show all posts
Showing posts with label شبینہ ادیب. Show all posts

Saturday, 3 June 2023

دیے منڈیروں پہ رکھ رہی ہوں زمیں پہ کلیاں بچھا رہی ہوں

 دیے منڈیروں پہ رکھ رہی ہوں زمیں پہ کلیاں بچھا رہی ہوں

کبھی تو آؤ گے لوٹ کر تم، اسی لیے گھر سجا رہی ہوں

کبھی تو اترے گا چاند چھت پر کبھی تو چمکے گی میری قسمت

کبھی تو جاگے گی یاد بن کر تمہارے دل میں میری محبت

اسی لیے تو ہتھیلیوں پر میں آج مہندی لگا رہی ہوں

نہ میری غزلوں میں تتلیوں کے حسین رنگوں کی داستاں ہے

Tuesday, 25 May 2021

تو کسی راستے کا مسافر رہے تیری ایک ایک ٹھوکر اٹھا لاؤں گی

 تُو کسی راستے کا مسافر رہے تیری ایک ایک ٹھوکر اٹھا لاؤں گی

اپنی بے چین پلکوں سے چن چن کے میں تیرے رستے کے پتھر اٹھا لاؤں گی

میں ورق پیار کا موڑ سکتی نہیں، زندگی! میں تجھے چھوڑ سکتی نہیں

تُو اگر میرے گھر تک نہیں آئے گا میں تیرے پاس ہی گھر اٹھا لاؤں گی

آنسوؤں کا یہ موسم چلا جائے گا، میرے لب پر تبسم بھی آ جائے گا

مجھ کو دل کی زمیں سے تم آواز دو آسماں اپنے سر پہ اٹھا لاؤں گی

Friday, 18 December 2020

میرے مسیحا میں جی اٹھوں گی دعائیں دے دے دوا سے پہلے

 میرے مسیحا میں جی اٹھوں گی دعائیں دے دے دوا سے پہلے

حیات میں نور بن کے آ جا، غموں کی کالی گھٹا سے پہلے

جو چاہتے ہیں مدد سبھی سے، ذلیل ہوتے ہیں وہ جہاں میں

نوازتی ہیں انہیں کو دنیا جو مانگتے ہیں خدا سے پہلے

وطن بچانے کا وقت ہے یہ، مکان بچانے کی فکر چھوڑو

میرے بھی ہاتھوں میں تیغ دے دو میرے بزرگوں حنا سے پہلے

ہمیشہ اک دوسرے کے حق میں دعا کریں گے یہ طے ہوا تھا

 ہمیشہ اک دوسرے کے حق میں، دعا کریں گے، یہ طے ہُوا تھا

ملیں کہ بچھڑیں مگر تم ہی سے وفا کریں گے، یہ طے ہوا تھا

کہِیں رہو تم، کہِیں رہیں ہم، مگر 💕محبت رہے گی قائم

جو یہ خطا ہے، تو عمر بھر یہ خطا کریں گے، یہ طے ہوا تھا

اداسیاں ہر گھڑی ہوں لیکن، حیات کانٹوں بھری ہو لیکن

خطوط پھولوں کی پتیوں پر لکھا کریں گے، یہ طے ہوا تھا

Thursday, 17 December 2020

ہماری نیندیں بھی اڑ چکی ہیں صنم بھی کروٹ بدل رہے ہیں

 ہماری نیندیں بھی اڑ چکی ہیں، صنم بھی کروٹ بدل رہے ہیں

اُدھر بھی جاگا ہے پیار دل میں، اِدھر بھی ارماں مچل رہے ہیں

ملا ہے جس دن سے پیار ان کا، ہر ایک شے ہے نثار مجھ پر

گلاب قدموں میں بچھ رہے ہیں، چراغ راہوں میں جل رہے ہیں

تمہاری آنکھوں میں پیار دیکھوں، تم آؤ تو میں بہار دیکھوں

تمہارے ہمراہ گھر سے نکلوں، سنا ہے موسم بدل رہے ہیں

Wednesday, 16 December 2020

واقعی کیا تمہیں ہم یاد نہیں آتے ہیں

 واقعی کیا تمہیں ہم یاد نہیں آتے ہیں؟

ہم تو آنکھوں کو تمہارے لیے چھلکاتے ہیں


بمبئ چھوڑ کے آباد کراچی کر لی

تم نے کس طرح یہ منظور جدائی کر لی

کیا وہاں دل کو یہاں جیسا سکوں ملتا ہے؟

کیا وہاں جھیل میں رنگین کنول کھلتا ہے؟

Wednesday, 18 November 2020

خموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں میں الفت نئی نئی ہے

 خموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں، دلوں میں الفت نئی نئی ہے

ابھی تکلف ہے گفتگو میں، ابھی محبت نئی نئی ہے

ابھی نہ آئے گی نیند تم کو، ابھی نہ ہم کو سکوں ملے گا

ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ، ابھی یہ چاہت نئی نئی ہے

بہار کا آج پہلا دن ہے، چلوچمن میں ٹہل کے آئیں

فضا میں خوشبو نئی نئی ہے، گلوں میں رنگت نئی نئی ہے