ہماری نیندیں بھی اڑ چکی ہیں، صنم بھی کروٹ بدل رہے ہیں
اُدھر بھی جاگا ہے پیار دل میں، اِدھر بھی ارماں مچل رہے ہیں
ملا ہے جس دن سے پیار ان کا، ہر ایک شے ہے نثار مجھ پر
گلاب قدموں میں بچھ رہے ہیں، چراغ راہوں میں جل رہے ہیں
تمہاری آنکھوں میں پیار دیکھوں، تم آؤ تو میں بہار دیکھوں
تمہارے ہمراہ گھر سے نکلوں، سنا ہے موسم بدل رہے ہیں
ہماری سانسیں ٹھہر گئیں تو، تمہارے دل کو ملال کیوں ہے
یہیں رہے ہیں، یہیں رہیں گے، بس آج ہم گھر بدل رہے ہیں
شراب ایسی بھی ہے جہاں میں، جو ہوش میں آدمی کو لائے
وہ دیکھو جامِ رسولؐ پی کر، بہکنے والے سنبھل رہے ہیں
شبینہ ادیب کانپوری
No comments:
Post a Comment