Showing posts with label صدیق نقوی. Show all posts
Showing posts with label صدیق نقوی. Show all posts

Tuesday, 13 January 2026

میں اپنی حسرتوں کا گلہ گھونٹتا رہا

 میں اپنی حسرتوں کا گلہ گھونٹتا رہا

ہر شخص مسکرا کے مجھے دیکھتا رہا

افسوس حادثات کی اتنی تھی تیرگی

سایہ بھی اپنا ساتھ وہاں چھوڑتا رہا

دشمن سا ہو گیا ہے مرا نفس اس لیے

میں زندگی کی جنگ سدا ہارتا رہا

Tuesday, 16 September 2025

بکھر گئی ہیں کبھی کی رفاقتیں ساری

 بکھر گئی ہیں کبھی کی رفاقتیں ساری

اٹھا کے طاق میں رکھو حکایتیں ساری

انا پرستی کے اس دور میں کہاں کا خدا

ہر آنکھ پی چکی فرعونی طاقتیں ساری

جنوں نے پاؤں جو پھیلائے اپنی چادر سے

لپٹ کے رہ گئیں قدموں سے وحشتیں ساری

Saturday, 18 January 2025

خون کے دریا میں دہشت کے بھنور ڈالے گئے

 خون کے دریا میں دہشت کے بھنور ڈالے گئے

دل میں انسانوں کے نفرت کے شرر ڈالے گئے

عیش کے لمحات ہیں اہلِ سیاست کے لیے

سختیوں میں عمر بھر اہلِ ہنر ڈالے گئے

مسکرانے کا عمل بھی یاد ہم کو اب نہیں

درد و غم کے بوجھ ہم پر اس قدر ڈالے گئے

Thursday, 21 April 2022

تمام عمر کسی کا سہارا مل نہ سکا

تمام عمر کسی کا سہارا مل نہ سکا

میں ایسا دریا تھا جس کو کنارا مل نہ سکا

تباہیوں کے مناظر ہر آنکھ روشن تھے

محبتوں کا کہیں استعارا مل نہ سکا

کبھی جو سب کے لیے باعث محبت تھا

مجھے وجود وہ ایسا دوبارا مل نہ سکا