میں اپنی حسرتوں کا گلہ گھونٹتا رہا
ہر شخص مسکرا کے مجھے دیکھتا رہا
افسوس حادثات کی اتنی تھی تیرگی
سایہ بھی اپنا ساتھ وہاں چھوڑتا رہا
دشمن سا ہو گیا ہے مرا نفس اس لیے
میں زندگی کی جنگ سدا ہارتا رہا
میں اپنی حسرتوں کا گلہ گھونٹتا رہا
ہر شخص مسکرا کے مجھے دیکھتا رہا
افسوس حادثات کی اتنی تھی تیرگی
سایہ بھی اپنا ساتھ وہاں چھوڑتا رہا
دشمن سا ہو گیا ہے مرا نفس اس لیے
میں زندگی کی جنگ سدا ہارتا رہا
بکھر گئی ہیں کبھی کی رفاقتیں ساری
اٹھا کے طاق میں رکھو حکایتیں ساری
انا پرستی کے اس دور میں کہاں کا خدا
ہر آنکھ پی چکی فرعونی طاقتیں ساری
جنوں نے پاؤں جو پھیلائے اپنی چادر سے
لپٹ کے رہ گئیں قدموں سے وحشتیں ساری
خون کے دریا میں دہشت کے بھنور ڈالے گئے
دل میں انسانوں کے نفرت کے شرر ڈالے گئے
عیش کے لمحات ہیں اہلِ سیاست کے لیے
سختیوں میں عمر بھر اہلِ ہنر ڈالے گئے
مسکرانے کا عمل بھی یاد ہم کو اب نہیں
درد و غم کے بوجھ ہم پر اس قدر ڈالے گئے
تمام عمر کسی کا سہارا مل نہ سکا
میں ایسا دریا تھا جس کو کنارا مل نہ سکا
تباہیوں کے مناظر ہر آنکھ روشن تھے
محبتوں کا کہیں استعارا مل نہ سکا
کبھی جو سب کے لیے باعث محبت تھا
مجھے وجود وہ ایسا دوبارا مل نہ سکا