اُبھرتے سُورج کا سلام تیرے نام کر دیتا
دن کے سارے تام جھام تیرے نام کر دیتا
سردیوں کی دُھوپ ساری گرمیوں کی چھاؤں بھی
موسموں کی سرد شام تیرے نام کر دیتا
اختیار ہوتا گر اس بہار پر میرا
رنگ و بُو کی انتظام تیرے نام کر دیتا
دل کی کیفیت کو میں جب بیان کر سکتا
حسرتوں کے سب کلام تیرے نام کر دیتا
قید میں جو کر سکتا ان حسِین لمحوں کو
آنے والے سب ایّام، تیرے نام کر دیتا
میاں وقارالاسلام
No comments:
Post a Comment