بے حجابانہ کبھی دعوت دیدار بھی دے
لذت عشق بھی دے عشق کا آزار بھی دے
مسند علم و ادب پر متمکن فرما
نغمہ و شعر بھی دے خامۂ گلکار بھی دے
طاق ہر بزم میں رکھ شمع بنا کر مجھ کو
اور پروانہ صفت لذت آزار بھی دے
بے حجابانہ کبھی دعوت دیدار بھی دے
لذت عشق بھی دے عشق کا آزار بھی دے
مسند علم و ادب پر متمکن فرما
نغمہ و شعر بھی دے خامۂ گلکار بھی دے
طاق ہر بزم میں رکھ شمع بنا کر مجھ کو
اور پروانہ صفت لذت آزار بھی دے
بجھ چکی آگ مگر اب بھی جلن باقی ہے
میری آنکھوں میں شب غم کی چبھن باقی ہے
کانچ کے ظرف ضروری نہیں پینے کے لیے
اب بھی مٹی کے پیالوں کا چلن باقی ہے
ہونے والا ہے شب غم کا سویرا لیکن
اب بھی آنکھوں میں اندھیروں کی گھٹن باقی ہے
دوریاں ہی دوریاں ہیں قربتوں کے باوجود
اجنبی ہیں سب قریبی نسبتوں کے باوجود
رنگ و بو سے جان تو کاغذ میں پڑ سکتی نہیں
کاغذی گل کاغذی ہیں نکہتوں کے باوجود
سختیٔ صحرا نوردی ہی مسرت بخش ہے
دل نہیں لگتا قفس میں راحتوں کے باوجود
انجام شب غم کا لکھا اور ہی کچھ ہے
لگتا ہے کہ منظور خدا اور ہی کچھ ہے
شاید ابھی تشخیص مرض ہو نہیں پائی
بیماری ہے کچھ اور دوا اور ہی کچھ ہے
سب پیار کی تشہیر کیا کرتے ہیں لیکن
ماحول ہے کچھ اور فضا اور ہی کچھ ہے
خندۂ گل میں بھی پوشیدہ فغاں ہو جیسے
شاخِ گل، انجمنِ نوحہ گراں ہو جیسے
آپ نے کہہ دی وہی بات جو منہ پر تھی مِرے
آپ کے منہ میں بھی میری ہی زباں ہو جیسے
ایسا لگتا ہے شہنشاہ جہانگیر ہوں میں
ملکۂ عالیہ تم نور جہاں ہو جیسے