Showing posts with label کوثر صدیقی. Show all posts
Showing posts with label کوثر صدیقی. Show all posts

Tuesday, 3 February 2026

بے حجابانہ کبھی دعوت دیدار بھی دے

 بے حجابانہ کبھی دعوت دیدار بھی دے

لذت عشق بھی دے عشق کا آزار بھی دے

مسند علم و ادب پر متمکن فرما

نغمہ و شعر بھی دے خامۂ گلکار بھی دے

طاق ہر بزم میں رکھ شمع بنا کر مجھ کو

اور پروانہ صفت لذت آزار بھی دے

Friday, 28 November 2025

بجھ چکی آگ مگر اب بھی جلن باقی ہے

 بجھ چکی آگ مگر اب بھی جلن باقی ہے

میری آنکھوں میں شب غم کی چبھن باقی ہے

کانچ کے ظرف ضروری نہیں پینے کے لیے

اب بھی مٹی کے پیالوں کا چلن باقی ہے

ہونے والا ہے شب غم کا سویرا لیکن

اب بھی آنکھوں میں اندھیروں کی گھٹن باقی ہے

Saturday, 2 August 2025

دوریاں ہی دوریاں ہیں قربتوں کے باوجود

 دوریاں ہی دوریاں ہیں قربتوں کے باوجود

اجنبی ہیں سب قریبی نسبتوں کے باوجود

رنگ و بو سے جان تو کاغذ میں پڑ سکتی نہیں

کاغذی گل کاغذی ہیں نکہتوں کے باوجود

سختیٔ صحرا نوردی ہی مسرت بخش ہے

دل نہیں لگتا قفس میں راحتوں کے باوجود

Monday, 28 July 2025

انجام شب غم کا لکھا اور ہی کچھ ہے

 انجام شب غم کا لکھا اور ہی کچھ ہے

لگتا ہے کہ منظور خدا اور ہی کچھ ہے

شاید ابھی تشخیص مرض ہو نہیں پائی

بیماری ہے کچھ اور دوا اور ہی کچھ ہے

سب پیار کی تشہیر کیا کرتے ہیں لیکن

ماحول ہے کچھ اور فضا اور ہی کچھ ہے

Sunday, 26 May 2024

خندۂ گل میں بھی پوشیدہ فغاں ہو جیسے

خندۂ گل میں بھی پوشیدہ فغاں ہو جیسے

شاخِ گل، انجمنِ نوحہ گراں ہو جیسے

آپ نے کہہ دی وہی بات جو منہ پر تھی مِرے

آپ کے منہ میں بھی میری ہی زباں ہو جیسے

ایسا لگتا ہے شہنشاہ جہانگیر ہوں میں

ملکۂ عالیہ تم نور جہاں ہو جیسے