گلے سے لگ کر گِلہ گزاری میں شب گزاری
بچھڑنے والوں نے بے قراری میں شب گزاری
جو مر گئے ان کو دفن کرنے میں دن گزارا
جو بچ گئے ان کی غمگساری میں شب گزاری
دِکھا رہا تھا میں اپنی مرضی کے خواب اس کو
جو سچ کہوں تو فریب کاری میں شب گزاری
گلے سے لگ کر گِلہ گزاری میں شب گزاری
بچھڑنے والوں نے بے قراری میں شب گزاری
جو مر گئے ان کو دفن کرنے میں دن گزارا
جو بچ گئے ان کی غمگساری میں شب گزاری
دِکھا رہا تھا میں اپنی مرضی کے خواب اس کو
جو سچ کہوں تو فریب کاری میں شب گزاری
اُس تہی دست کے پاس کیا کچھ نہیں
جس کی دنیا میں تیرے سوا کچھ نہیں
یوں اذیت کو اس کے حوالے کیا
میں نے دیکھا اسے اور کہا کچھ نہیں
اس کو بھر دے گا ماضی کے انبار سے
وقت کے سامنے یہ خلا کچھ نہیں
محبت، عشق کی باتیں کتابوں میں ہی رہنے دو
وصالِ یار کے قصے حجابوں میں ہی رہنے دو
وجودِ مرمریں لے کر نہ کانٹوں کے قریب آؤ
گل و گلزار میں رکھو گلابوں میں ہی رہنے دو
وہ میرا ہو نہیں سکتا میں جس کا خواب بھی دیکھوں
اگر یہ ہی حقیقت ہے تو خوابوں میں ہی رہنے دو
بگڑے ہوئے کچھ کام بنانے میں لگے ہیں
ہم اپنی محبت کو منانے میں لگے ہیں
خود ہاتھ ملانے کا نہیں جن کو سلیقہ
آدابِ ملاقات سکھانے میں لگے ہیں
فی الحال ہمیں فکر نہیں سست روی کی
فی الحال اسے ساتھ چلانے میں لگے ہیں
اپنی عزت کا، مناجات کا، ڈر کا قصہ
بیچ چوپال سناتے نہیں گھر کا قصہ
کچھ پرندے ہیں مرے یار جو اکثر آ کر
مجھے رو رو کے سناتے ہیں شجر کا قصہ
میں سمندر میں بہت دور نکل آیا ہوں
اب تجھے کون سنائے گا بھنور کا قصہ
تیری طلب میں رنج اٹھانے کا ڈر نہیں
میں وہ ہدف ہوں جس کو نشانے کا ڈر نہیں
ہوں اپنی انتقام کی خُو سے ڈرا ہوا
دھوکہ تمہارے ہاتھ سے کھانے کا ڈر نہیں
ڈرہے کہ لاجواب نہ کر دوں کہیں اسے
جس کو مرے سوال اٹھانے کا ڈر نہیں
کوزہ گروں کو چاک گھمانا نہیں پڑا
میں خود بنا، کسی کو بنانا نہیں پڑا
کل شب ہوا نے میرا اشارہ سمجھ لیا
اٹھ کر مجھے چراغ بجھانا نہیں پڑا
آنکھوں نے کچھ نیا بھی دکھانا نہیں مجھے
اور خواب ان میں کوئی پرانا نہیں پڑا
خودکشی کے لیے ماحول دیا جائے گا
اب مرے ہاتھ میں پستول دیا جائے گا
زندگی کوئی ڈراما تو نہیں ہے جس میں
سب کو تسلیم شدہ رول دیا جائے گا
ایک ہارے ہوئے ریلے کا سپہ دار ہے وہ
اس کو تحفے میں بھی کشکول دیا جائے گا