Showing posts with label تیمور ذوالفقار. Show all posts
Showing posts with label تیمور ذوالفقار. Show all posts

Thursday, 2 September 2021

گلے سے لگ کر گلہ گزاری میں شب گزاری

 گلے سے لگ کر گِلہ گزاری میں شب گزاری

بچھڑنے والوں نے بے قراری میں شب گزاری

جو مر گئے ان کو دفن کرنے میں دن گزارا

جو بچ گئے ان کی غمگساری میں شب گزاری

دِکھا رہا تھا میں اپنی مرضی کے خواب اس کو

جو سچ کہوں تو فریب کاری میں شب گزاری

Monday, 19 July 2021

اس تہی دست کے پاس کیا کچھ نہیں

 اُس تہی دست کے پاس کیا کچھ نہیں

جس کی دنیا میں تیرے سوا کچھ نہیں

یوں اذیت کو اس کے حوالے کیا

میں نے دیکھا اسے اور کہا کچھ نہیں

اس کو بھر دے گا ماضی کے انبار سے

وقت کے سامنے یہ خلا کچھ نہیں

Friday, 7 May 2021

محبت عشق کی باتیں کتابوں میں ہی رہنے دو

 محبت، عشق کی باتیں کتابوں میں ہی رہنے دو

وصالِ یار کے قصے حجابوں میں ہی رہنے دو

وجودِ مرمریں لے کر نہ کانٹوں کے قریب آؤ

گل و گلزار میں رکھو گلابوں میں ہی رہنے دو

وہ میرا ہو نہیں سکتا میں جس کا خواب بھی دیکھوں

اگر یہ ہی حقیقت ہے تو خوابوں میں ہی رہنے دو

Friday, 18 December 2020

بگڑے ہوئے کچھ کام بنانے میں لگے ہیں

 بگڑے ہوئے کچھ کام بنانے میں لگے ہیں

ہم اپنی محبت کو منانے میں لگے ہیں

خود ہاتھ ملانے کا نہیں جن کو سلیقہ

آدابِ ملاقات سکھانے میں لگے ہیں

فی الحال ہمیں فکر نہیں سست روی کی

فی الحال اسے ساتھ چلانے میں لگے ہیں

Thursday, 17 December 2020

اپنی عزت کا مناجات کا ڈر کا قصہ

 اپنی عزت کا، مناجات کا، ڈر کا قصہ

بیچ چوپال سناتے نہیں گھر کا قصہ

کچھ پرندے ہیں مرے یار جو اکثر آ کر

مجھے رو رو کے سناتے ہیں شجر کا قصہ

میں سمندر میں بہت دور نکل آیا ہوں

اب تجھے کون سنائے گا بھنور کا قصہ

Wednesday, 16 December 2020

تیری طلب میں رنج اٹھانے کا ڈر نہیں

 تیری طلب میں رنج اٹھانے کا ڈر نہیں

میں وہ ہدف ہوں جس کو نشانے کا ڈر نہیں

ہوں اپنی انتقام کی خُو سے ڈرا ہوا

دھوکہ تمہارے ہاتھ سے کھانے کا ڈر نہیں

ڈرہے کہ لاجواب نہ کر دوں کہیں اسے

جس کو مرے سوال اٹھانے کا ڈر نہیں

Monday, 7 December 2020

کوزہ گروں کو چاک گھمانا نہیں پڑا

 کوزہ گروں کو چاک گھمانا نہیں پڑا

میں خود بنا، کسی کو بنانا نہیں پڑا

کل شب ہوا نے میرا اشارہ سمجھ لیا

اٹھ کر مجھے چراغ بجھانا نہیں پڑا

آنکھوں نے کچھ نیا بھی دکھانا نہیں مجھے

اور خواب ان میں کوئی پرانا نہیں پڑا

Thursday, 12 November 2020

خودکشی کے لیے ماحول دیا جائے گا

 خودکشی کے لیے ماحول دیا جائے گا

اب مرے ہاتھ میں پستول دیا جائے گا

زندگی کوئی ڈراما تو نہیں ہے جس میں

سب کو تسلیم شدہ رول دیا جائے گا

ایک ہارے ہوئے ریلے کا سپہ دار ہے وہ

اس کو تحفے میں بھی کشکول دیا جائے گا