Thursday, 12 November 2020

خودکشی کے لیے ماحول دیا جائے گا

 خودکشی کے لیے ماحول دیا جائے گا

اب مرے ہاتھ میں پستول دیا جائے گا

زندگی کوئی ڈراما تو نہیں ہے جس میں

سب کو تسلیم شدہ رول دیا جائے گا

ایک ہارے ہوئے ریلے کا سپہ دار ہے وہ

اس کو تحفے میں بھی کشکول دیا جائے گا

اب نہیں ہو گی کسی چھوٹے بڑے کی پرواہ

دل میں جو کچھ بھی ہوا بول دیا جائے گا

گھُن بھی گیہوں کی معیت میں پِسے جائیں گے

ساتھ اچھے کے برا تول دیا جائے گا

پیار میں بحث نہیں ہو گی کسی بھی شے پر

جو بھی طے ہو گا وہی مول دیا جائے گا

ایک بیتاب جہاں تاب کی خاطر تیمور

پھر کوئی بندِ قبا کھول دیا جائے گا


تیمور ذوالفقار

No comments:

Post a Comment