خودکشی کے لیے ماحول دیا جائے گا
اب مرے ہاتھ میں پستول دیا جائے گا
زندگی کوئی ڈراما تو نہیں ہے جس میں
سب کو تسلیم شدہ رول دیا جائے گا
ایک ہارے ہوئے ریلے کا سپہ دار ہے وہ
اس کو تحفے میں بھی کشکول دیا جائے گا
اب نہیں ہو گی کسی چھوٹے بڑے کی پرواہ
دل میں جو کچھ بھی ہوا بول دیا جائے گا
گھُن بھی گیہوں کی معیت میں پِسے جائیں گے
ساتھ اچھے کے برا تول دیا جائے گا
پیار میں بحث نہیں ہو گی کسی بھی شے پر
جو بھی طے ہو گا وہی مول دیا جائے گا
ایک بیتاب جہاں تاب کی خاطر تیمور
پھر کوئی بندِ قبا کھول دیا جائے گا
تیمور ذوالفقار
No comments:
Post a Comment