Showing posts with label اویس رضوی. Show all posts
Showing posts with label اویس رضوی. Show all posts

Saturday, 13 December 2025

حسن احمد کی ضیا کی بات ہو تو نعت ہو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


حسنِ احمد کی ضیا کی بات ہو تو نعت ہو

مدحتِ محبوب کی سوغات ہو تو نعت ہو

ذکر ان کا جب بھی آئے، ہر زباں پر ہو درود

جب کبھی خیر البشر کی بات ہو تو نعت ہو

ان کے جلووں کی ضیا سے ہے منور کائنات

ہر طرف انوار کی برسات ہو تو نعت ہو

Thursday, 29 August 2024

بیاں میں کروں اس طرح حمد تیری ملے دل کو راحت خدائے محمد

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بیاں میں کروں اس طرح حمد تیری، ملے دل کو راحت خدائے محمدؐ

کرم ناتواں پر ہو ، بندہ ہوں تیرا، ہو مجھ پر عنایت، خدائے محمدؐ

تِرے در پہ یہ عرض اور التجا ہے، سلامت رہیں سب عزیز و اقارب

جو بیمار و لاچار ہیں تیرے بندے، ملے ان کو طاقت خدائے محمدؐ

خدایا کرم کر تجھے سب خبر ہے تِری رحمتوں کے سہارے ہیں جیتے

مِرا بخت جاگے میں پہنچوں مدینے، کھلے میری قسمت خدائے محمدؐ

Monday, 19 August 2024

نبی کے عشق میں اس طرح کام ہوتا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نبیؐ کے عشق میں اس طرح کام ہوتا ہے 

درودﷺ ہوتا ہے لب پر سلام ہوتا ہے 

سخن سرائی پہ ان کی عطائیں ہوتی ہیں

نبیؐ کے لطف و کرم سے کلام ہوتا ہے

بچھا کے رکھا ہے دامانِ قلب و جاں اپنا

مِرے حضورؐ کا اس میں قیام ہوتا ہے 

Friday, 2 September 2022

اب کے برس بھی ہونٹوں پہ ان کی ثنا رہی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


اب کے برس بھی ہونٹوں پہ انِ کی ثنا رہی

اب کے برس بھی وجد میں گھر کی فضا رہی

اب کے برس بھی مدح کے کھلتے رہے گلاب

اب کے برس بھی کشتِ دل و جاں سوا رہی

اب کے برس بھی لب پہ ترانہ تھا نعت کا

اب کے برس بھی چار سُو مہکی صبا رہی