عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حسنِ احمد کی ضیا کی بات ہو تو نعت ہو
مدحتِ محبوب کی سوغات ہو تو نعت ہو
ذکر ان کا جب بھی آئے، ہر زباں پر ہو درود
جب کبھی خیر البشر کی بات ہو تو نعت ہو
ان کے جلووں کی ضیا سے ہے منور کائنات
ہر طرف انوار کی برسات ہو تو نعت ہو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حسنِ احمد کی ضیا کی بات ہو تو نعت ہو
مدحتِ محبوب کی سوغات ہو تو نعت ہو
ذکر ان کا جب بھی آئے، ہر زباں پر ہو درود
جب کبھی خیر البشر کی بات ہو تو نعت ہو
ان کے جلووں کی ضیا سے ہے منور کائنات
ہر طرف انوار کی برسات ہو تو نعت ہو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بیاں میں کروں اس طرح حمد تیری، ملے دل کو راحت خدائے محمدؐ
کرم ناتواں پر ہو ، بندہ ہوں تیرا، ہو مجھ پر عنایت، خدائے محمدؐ
تِرے در پہ یہ عرض اور التجا ہے، سلامت رہیں سب عزیز و اقارب
جو بیمار و لاچار ہیں تیرے بندے، ملے ان کو طاقت خدائے محمدؐ
خدایا کرم کر تجھے سب خبر ہے تِری رحمتوں کے سہارے ہیں جیتے
مِرا بخت جاگے میں پہنچوں مدینے، کھلے میری قسمت خدائے محمدؐ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نبیؐ کے عشق میں اس طرح کام ہوتا ہے
درودﷺ ہوتا ہے لب پر سلام ہوتا ہے
سخن سرائی پہ ان کی عطائیں ہوتی ہیں
نبیؐ کے لطف و کرم سے کلام ہوتا ہے
بچھا کے رکھا ہے دامانِ قلب و جاں اپنا
مِرے حضورؐ کا اس میں قیام ہوتا ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
اب کے برس بھی ہونٹوں پہ انِ کی ثنا رہی
اب کے برس بھی وجد میں گھر کی فضا رہی
اب کے برس بھی مدح کے کھلتے رہے گلاب
اب کے برس بھی کشتِ دل و جاں سوا رہی
اب کے برس بھی لب پہ ترانہ تھا نعت کا
اب کے برس بھی چار سُو مہکی صبا رہی