کھود کر صحنِ دل، عشق دبایا جا سکتا تھا
اذیت تھی مِری جاں مگر مُسکرایا جا سکتا تھا
اسے میں روک لیتا تو شاید وہ رُک جاتا
اس طرح سے لیکن کتنا نبھایا جا سکتا تھا
دعائیں بدل سکتی ہیں مقدر کی تحریریں
گویا نصیبوں کا لکھا مٹایا جا سکتا تھا
کھود کر صحنِ دل، عشق دبایا جا سکتا تھا
اذیت تھی مِری جاں مگر مُسکرایا جا سکتا تھا
اسے میں روک لیتا تو شاید وہ رُک جاتا
اس طرح سے لیکن کتنا نبھایا جا سکتا تھا
دعائیں بدل سکتی ہیں مقدر کی تحریریں
گویا نصیبوں کا لکھا مٹایا جا سکتا تھا
ادھوریت
اک آس کے دھندلے ورق پر
بسرے لمحے اتارے ہیں
صحیفوں کی طرح اس پہ
کچھ الہام اتارے ہیں
ان کہی باتوں کی چبھن
پھانس جو چبھ گئی ہے دل سے نہ نکالی جائے گی
یادِ جاناں سے کوئی شب اب نہ خالی جائے گی
اس کو دیکھا تو پھر دیکھتے ہی رہ گئے ہم صاحب
میری جاں تیری شبیہہ آنکھوں سے نہ نکالی جائے گی
دم نکل جائے گا کوئی دم میری ہے سانس باقی
تیری تصویر مگر اس دل سے نہ نکالی جائے گی
سنبھال کر رکھا ہے
ہاں
سنبھال کر رکھا ہے
دل کے کونے میں تیرا دھیان
تیری پرچھائی سے ملنے والا گیان
ہاں
سنبھال کر رکھا ہے
مسندِ عقیدت سے اُتار دئیے جاؤ گے
چُپ رہو! وگرنہ مار دئیے جاؤ گے
یہ بستی گُونگوں کی بستی ہے
شور جو مچاؤ گے گاڑ دئیے جاؤ گے
یہ کہنا ہے اس دور کے پیمبروں کا
گُزرو گے نہیں تو گُزار دئیے جاؤ گے
درد ہوتے ہیں، یادیں ہوتی ہیں
کامیابیوں کے پیچھے، ماتیں ہوتی ہیں
جھُوٹے ہوتے ہیں وصل کے دن
سچی ہِجر کی راتیں ہوتی ہیں
بہت خوبصورت لہجوں کی تہہ میں
کچھ بہت کڑوی باتیں ہوتی ہیں
کب سارا جہان مانگا ہے
ایک ہی انسان مانگا ہے
تھوڑی سی روشنی کے لیے
تھوڑا سا دالان مانگا ہے
فائدے کی بات کب کی ہے
میں نے تو نقصان مانگا ہے
ہم بھی گِدھ جاتی ہیں
کہ
اکثر چاندنی راتوں میں
دل کے مکینوں پر
دیوانگی بین کرتی ہے
اور یہ فرزانگی ہمیں
٭ اکھیاں نوں رہن دے٭
“ویکھن دا چاہ سانوں
مُکھ پرتاویں نہ
نیڑے نیڑے وس ڈھولا
دُور دُور، جاویں نہ
اکھیاں نوں رہن دے
اکھیاں دے کول کول
مکالماتی نظم
وہ کہتی ہے
تمہارا عشق
بہت مُشکل ہے جاناں
میں کہتا ہوں
آسان ہوتا
تو کیا تم اختیار کر لیتیں؟
زندگی کی کیتلی میں
دو کپ پانی جتنے دن ہیں
اور رویوں کی پتی ہے اس میں
کچھ محبت کی شکر اور
کہیں تھوڑا نایاب خالص دودھ
رشتوں کے جیسا ہے، کہ نایاب ہے