Showing posts with label فیصل ملک. Show all posts
Showing posts with label فیصل ملک. Show all posts

Monday, 20 June 2022

کھود کر صحن دل عشق دبایا جا سکتا تھا

کھود کر صحنِ دل، عشق دبایا جا سکتا تھا

اذیت تھی مِری جاں مگر مُسکرایا جا سکتا تھا

اسے میں روک لیتا تو شاید وہ رُک جاتا

اس طرح سے لیکن کتنا نبھایا جا سکتا تھا

دعائیں بدل سکتی ہیں مقدر کی تحریریں

گویا نصیبوں کا لکھا مٹایا جا سکتا تھا

Friday, 18 February 2022

اک آس کے دھندلے ورق پر بسرے لمحے

 ادھوریت


اک آس کے دھندلے ورق پر

بسرے لمحے اتارے ہیں

صحیفوں کی طرح اس پہ

کچھ الہام اتارے ہیں

ان کہی باتوں کی چبھن

Wednesday, 9 February 2022

پھانس جو چبھ گئی ہے دل سے نہ نکالی جائے گی

 پھانس جو چبھ گئی ہے دل سے نہ نکالی جائے گی

یادِ جاناں سے کوئی شب اب نہ خالی جائے گی

اس کو دیکھا تو پھر دیکھتے ہی رہ گئے ہم صاحب

میری جاں تیری شبیہہ آنکھوں سے نہ نکالی جائے گی

دم نکل جائے گا کوئی دم میری ہے سانس باقی

تیری تصویر مگر اس دل سے نہ نکالی جائے گی

Monday, 16 August 2021

ہاں سنبھال کر رکھا ہے

 سنبھال کر رکھا ہے


ہاں

سنبھال کر رکھا ہے

دل کے کونے میں تیرا دھیان

تیری پرچھائی سے ملنے والا گیان


ہاں

سنبھال کر رکھا ہے

Friday, 22 January 2021

مسند عقیدت سے اتار دئیے جاؤ گے

 مسندِ عقیدت سے اُتار دئیے جاؤ گے

چُپ رہو! وگرنہ مار دئیے جاؤ گے

یہ بستی گُونگوں کی بستی ہے

شور جو مچاؤ گے گاڑ دئیے جاؤ گے 

یہ کہنا ہے اس دور کے پیمبروں کا

گُزرو گے نہیں تو گُزار دئیے جاؤ گے 

Tuesday, 19 January 2021

درد ہوتے ہیں یادیں ہوتی ہیں

 درد ہوتے ہیں، یادیں ہوتی ہیں

کامیابیوں کے پیچھے، ماتیں ہوتی ہیں

جھُوٹے ہوتے ہیں وصل کے دن

سچی ہِجر کی راتیں ہوتی ہیں

بہت خوبصورت لہجوں کی تہہ میں

کچھ بہت کڑوی باتیں ہوتی ہیں

Saturday, 16 January 2021

کب سارا جہان مانگا ہے

 کب سارا جہان مانگا ہے

ایک ہی انسان مانگا ہے

تھوڑی سی روشنی کے لیے 

تھوڑا سا دالان مانگا ہے

فائدے کی بات کب کی ہے

میں نے تو نقصان مانگا ہے

Friday, 15 January 2021

ہم بھی گدھ جاتی ہیں

 ہم بھی گِدھ جاتی ہیں

کہ

اکثر چاندنی راتوں میں

دل کے مکینوں پر

دیوانگی بین کرتی ہے

اور یہ فرزانگی ہمیں

Thursday, 14 January 2021

دیکھ سوکھے ہوئے ہونٹوں پہ (اکھیاں نوں رہن دے)

٭ اکھیاں نوں رہن دے٭


“ویکھن دا چاہ سانوں

مُکھ پرتاویں نہ

نیڑے نیڑے وس ڈھولا

دُور دُور، جاویں نہ

اکھیاں نوں رہن دے

اکھیاں دے کول کول

Wednesday, 13 January 2021

وہ کہتی ہے تمہارا عشق بہت مشکل ہے جاناں

 مکالماتی نظم


وہ کہتی ہے

تمہارا عشق

بہت مُشکل ہے جاناں

میں کہتا ہوں

آسان ہوتا

تو کیا تم اختیار کر لیتیں؟

Friday, 13 November 2020

زندگی کی کیتلی میں دو کپ پانی جتنے دن ہیں

 زندگی کی کیتلی میں

دو کپ پانی جتنے دن ہیں

اور رویوں کی پتی ہے اس میں

کچھ محبت کی شکر اور

کہیں تھوڑا نایاب خالص دودھ

رشتوں کے جیسا ہے، کہ نایاب ہے