Wednesday, 9 February 2022

پھانس جو چبھ گئی ہے دل سے نہ نکالی جائے گی

 پھانس جو چبھ گئی ہے دل سے نہ نکالی جائے گی

یادِ جاناں سے کوئی شب اب نہ خالی جائے گی

اس کو دیکھا تو پھر دیکھتے ہی رہ گئے ہم صاحب

میری جاں تیری شبیہہ آنکھوں سے نہ نکالی جائے گی

دم نکل جائے گا کوئی دم میری ہے سانس باقی

تیری تصویر مگر اس دل سے نہ نکالی جائے گی

اس کی آمد نے دل میں جو بٹھا کر رکھی ہے فضا

اس کو چھونے کی یہ خواہش اب نہ نکالی جائے گی

کیسی آواز ہے یہ کہ بجتے ہیں کہیں دور گھنگرو

میرے کانوں سے اس کی آواز نہ نکالی جائے گی

روح پر چھائی ہے ازلوں سے اس کی وہ مہک

میری سانسوں سے بھی وہ خوشبو نہ نکالی جائے گی

دیکھ لی ہم نے بھی محبت محسوس کر لیا ہے غم

اب میری جاں! قربت کی کوئی تدبیر نہ نکالی جائے گی


فیصل ملک

No comments:

Post a Comment