زعفرانی غزل
بکری مانگے گی اب نیا بکرا
"ناطے سب توڑ کر گیا بکرا "
چار دن میں گُھلا مِلا ایسے
جیسے ہو سب کا آشنا بکرا
ہو گیا ہضم گوشت کھاتے ہی
آنچ ہلکی پہ جب پکا بکرا
زعفرانی غزل
بکری مانگے گی اب نیا بکرا
"ناطے سب توڑ کر گیا بکرا "
چار دن میں گُھلا مِلا ایسے
جیسے ہو سب کا آشنا بکرا
ہو گیا ہضم گوشت کھاتے ہی
آنچ ہلکی پہ جب پکا بکرا
بہت اداس ہے تنہا دکھائی دیتا ہے
یہ زرد چاند تو ہم سا دکھائی دیتا ہے
سیاہ رات، سمندر کہ ڈوبتا سورج
ہمیں اس آنکھ میں کیا کیا دکھائی دیتا ہے
یہ کس نے چھیڑ دیا آرزو کے تاروں کو
کہ دل تو ہاتھ سے جاتا دکھائی دیتا ہے
بے رخی حد سے بڑھ گئی ہے جی
دل میں انی سی گَڑھ گئی ہے جی
سیکھنا تھا سبق کتابوں سے
زندگی ہم کو پڑھ گئی ہے جی
عشق میں یوں ہوئے ہیں خاک نشیں
انا سولی پہ چڑھ گئی ہے جی
کہ مزدوری ملنے لگے ہر کسی کو
معیشت کا پہیہ گھمانا پڑے گا
منی لانڈرنگ اور ٹیکسوں کے پیسے
غریبوں کا حق ہے دلانا پڑے گا
خزانوں پہ بیٹھے ہیں جو سانپ بن کے
انہیں اب کٹہرے میں لانا پڑے گا