Showing posts with label غزالہ فیضی. Show all posts
Showing posts with label غزالہ فیضی. Show all posts

Saturday, 6 January 2024

بکری مانگے گی اب نیا بکرا

 زعفرانی غزل


بکری مانگے گی اب نیا بکرا

"ناطے سب توڑ کر گیا بکرا "

چار دن میں گُھلا مِلا ایسے

جیسے ہو سب کا آشنا بکرا

ہو گیا ہضم گوشت کھاتے ہی

آنچ ہلکی پہ جب پکا بکرا

Wednesday, 6 October 2021

بہت اداس ہے تنہا دکھائی دیتا ہے

 بہت اداس ہے تنہا دکھائی دیتا ہے

یہ زرد چاند تو ہم سا دکھائی دیتا ہے

سیاہ رات، سمندر کہ ڈوبتا سورج

ہمیں اس آنکھ میں کیا کیا دکھائی دیتا ہے

یہ کس نے چھیڑ دیا آرزو کے تاروں کو

کہ دل تو ہاتھ سے جاتا دکھائی دیتا ہے

Wednesday, 16 June 2021

بے رخی حد سے بڑھ گئی ہے جی

 بے رخی حد سے بڑھ گئی ہے جی

دل میں انی سی گَڑھ گئی ہے جی

سیکھنا تھا سبق کتابوں سے

زندگی ہم کو پڑھ گئی ہے جی

عشق میں یوں ہوئے ہیں خاک نشیں

انا سولی پہ چڑھ گئی ہے جی

Monday, 1 February 2021

معیشت کا پہیہ گھمانا پڑے گا

  کہ مزدوری ملنے لگے ہر کسی کو

معیشت کا پہیہ گھمانا پڑے گا

منی لانڈرنگ اور ٹیکسوں کے پیسے

غریبوں کا حق ہے دلانا پڑے گا

خزانوں پہ بیٹھے ہیں جو سانپ بن کے

انہیں اب کٹہرے میں لانا پڑے گا

Monday, 3 August 2020

محبت مار دیتی ہے

محبت مار دیتی ہے

محبت مار دیتی ہے
زمیں میں گاڑ دیتی ہے
نہ اپنا دن ہی رہتا ہے
نہ اپنی رات رہتی ہے
کوئی پرواہ دنیا کی
نہ فکرِ ذات رہتی ہے

آؤ بھیگیں بارش میں بیخودی کا موسم ہے

آؤ بھیگیں بارش میں بے خودی کا موسم ہے
شعر کہنا واجب ہے، شاعری کا موسم ہے
میری زندگی ہو تم، چاند سے حسیں ہو تم
جھوٹ سچ چلے گا سب دل لگی کا موسم ہے
دل کے پاس رکھنا بھی بے رخی برتنا بھی
یاد سب دلاتا ہے جو ابھی کا موسم ہے

آؤ بات کرتے ہیں

آؤ بات کرتے ہیں

زندگی کی راہوں میں
یونہی آنے جانے میں
لوگ کتنے ملتے ہیں
بات ہم سے کرتے ہیں
کوئی اس میں جھوٹی ہے اور کوئی سچی ہے
دل پہ ہاتھ رکھ دے جو بات وہ ہی اچھی ہے

بات سے بات گو نکالی گئی

داستاں پھر بھی ہے ادھوری سی
بات سے بات گو نکالی گئی
ہم نے ہر دن کیا تھا تیرے نام
ہاں مگر رات بھی چرا لی گئی
لڑکھڑائی زبان جس لمحے
بات تم سے نہ پھر سنبھالی گئی