بہت اداس ہے تنہا دکھائی دیتا ہے
یہ زرد چاند تو ہم سا دکھائی دیتا ہے
سیاہ رات، سمندر کہ ڈوبتا سورج
ہمیں اس آنکھ میں کیا کیا دکھائی دیتا ہے
یہ کس نے چھیڑ دیا آرزو کے تاروں کو
کہ دل تو ہاتھ سے جاتا دکھائی دیتا ہے
فقط یہ ہم ہی نہیں خواہشوں کے صحرا میں
تمام دشت ہی پیاسا دکھائی دیتا ہے
وہ دل سے گزرا تھا اک بار خواب کی صورت
اسی لیے تو شناسا دکھائی دیتا ہے
نہ دیکھا خونِ تمنا، نہ آستیں پہ لہو
ہے پھر بھی دعویٰ کہ خاصا دکھائی دیتا ہے
وہ لوٹ آیا ہے اب اعتبار کر لو غزل
وفا کے ہاتھ میں کاسا دکھائی دیتا ہے
غزالہ فیضی
No comments:
Post a Comment