Showing posts with label وامق جونپوری. Show all posts
Showing posts with label وامق جونپوری. Show all posts

Saturday, 23 April 2022

زہراب پینے والے امر ہو کے رہ گئے

 زہراب پینے والے امر ہو کے رہ گئے

نیساں کے چند قطرے گہر ہو کے رہ گئے

اہل جنوں وہ کیا ہوئے جن کے بغیر ہم

اہل خرد کے دست نگر ہو کے رہ گئے

صحرا گئے تو شہر میں اک شور مچ گیا

جب لوٹ آئے شہر بدر ہو کے رہ گئے

Sunday, 23 August 2020

اس طرح سے کشتی بھی کوئی پار لگے ہے

اس طرح سے کشتی بھی کوئی پار لگے ہے
کاغذ کا بنا ہاتھ میں پتوار🛶 لگے ہے
آزاد لگے ہے، نہ گرفتار لگے ہے
دیوانے کو در آہنی دیوار لگے ہے
اک لاش ہے لیکن بڑی جانْدار لگے ہے
شعلہ سی کوئی چیز سرِ دار لگے ہے

دل توڑ کر وہ دل میں پشیماں ہوا تو کیا

دل توڑ کر وہ دل میں پشیماں ہُوا تو کیا
اک بے نیاز ناز پہ احساں ہوا تو کیا
اپنا علاج تنگئ دل وہ نہ کر سکے
میرا علاج تنگئ داماں ہوا تو کیا
جب بال و پر ہی نذرِ قفس ہو کے رہ گئے
صحن چمن میں شورِ بہاراں ہوا تو کیا

Saturday, 22 August 2020

دل کے ویرانے کو یوں آباد کر لیتے ہیں ہم

دل کے ویرانے کو یوں آباد کر لیتے ہیں ہم
کر بھی کیا سکتے ہیں؟ تجھ کو یاد کر لیتے ہیں ہم
جب بزرگوں کی دعائیں ہو گئیں بے کار سب
قرضِ خواب آور سے دل کو شاد کر لیتے ہیں ہم
تلخئ کام و دہن کی آبیاری کے لیے
دعوت شیراز ابر و باد کر لیتے ہیں ہم

Friday, 27 January 2017

جینے کا لطف کچھ تو اٹھاؤ نشے میں آؤ

جینے کا لطف کچھ تو اٹھاؤ، نشے میں آؤ
ہنستے ہیں کیسے غم میں دکھاؤ، نشے میں آؤ
نشہ پلا کے خوب مرا حالِ دل سنا
کچھ تم بھی دل کی بات بتاؤ، نشے میں آؤ
تم ہوش میں جب آئے تو آفت ہی بن کے آئے
اب میرے پاس جب بھی تم آؤ، نشے میں آؤ

رہنا تم چاہے جہاں خبروں میں آتے رہنا

رہنا تم چاہے جہاں خبروں میں آتے رہنا
ہم کو احساسِ جدائی سے بچاتے رہنا
خود گزیدہ ہوں بڑا زہر ہے میرے اندر
اس کا تریاق ہے راتوں کو جگاتے رہنا
مدتوں بعد جو دیکھو گے تو ڈر جاؤ گے
اپنے کو آئینہ ہر روز دکھاتے رہنا

Monday, 23 January 2017

دیوانے دیوانے ٹھہرے کھیل گئے انگاروں سے

دیوانے، دیوانے ٹھہرے کھیل گئے انگاروں سے
آبلہ پائی اب کوئی پوچھے ان ذہنی بیماروں سے
بات تو جب ہے شعلے نکلیں بربطِ دل کے تاروں سے
شور نہیں نغمے پیدا ہوں تیغوں کی جھنکاروں سے
کس نے بسایا تھا اور ان کو کس نے یوں برباد کیا
اپنے لہو کی بو آتی ہے ان اجڑے بازاروں سے

رات کے سمندر میں غم کی ناؤ چلتی ہے

رات کے سمندر میں غم کی ناؤ چلتی ہے
دن کے گرم ساحل پر زندہ لاش جلتی ہے
اک کھلونا ہے گیتی، توڑ توڑ کے جس کو
بچوں کی طرح دنیا روتی ہے مچلتی ہے
فکر و فن کی شہزادی کس بلا کی ناگن ہے
شب میں خون پیتی ہے دن میں زہر اگلتی ہے

Saturday, 5 November 2016

ہو رہی ہے دربدر ایسی جبیں سائی کہ بس

ہو رہی ہے دربدر ایسی جبیں سائی کہ بس
کیا ابھی باقی ہے کوئی اور رسوائی کہ بس
آشنا راہیں بھی ہوتی جا رہی ہیں اجنبی
اس طرح جاتی رہی آنکھوں سے بینائی کہ بس
تا سحر کرتے رہے ہم،۔۔ انتظارِ مہرِ نو
دیکھتے ہی دیکھتے ایسی گھٹا چھائی کہ بس

سرخ دامن میں شفق کے کوئی تارا تو نہیں

سرخ دامن میں شفق کے کوئی تارا تو نہیں
ہم کو مستقبلِ زریں نے پکارا تو نہیں
دست و پا شل ہیں کنارے سے لگا بیٹھا ہوں
لیکن اس شورشِ طوفاں سے ہارا تو نہیں
اس غمِ دوست نے کیا کچھ نہ ستم ڈھائے مگر
غمِ دوراں کی طرح جان سے مارا تو نہیں

نئے گل کھلے نئے دل بنے نئے نقش کتنے ابھر گئے

نئے گل کھلے نئے دل بنے نئے نقش کتنے ابھر گئے
وہ پیمبرانِ صد انقلاب، جدھر جدھر سے گزر گئے
جو شہیدِ راہِ وفا ہوئے وہ اسی خوشی میں مگن رہے
کہ جو دن تھے ان کی حیات کے غمِ زندگی میں گزر گئے
ابھی ساتھ ساتھ تو تھے مگر مجھے میرے حال پہ چھوڑ کر
مِرے ہم جلیس کہاں گئے،۔ مِرے ہم صفیر کدھر گئے

Monday, 18 April 2016

کہیں ساقی کا فیض عام بھی ہے

کہیں ساقی کا فیض عام بھی ہے
کسی شیشے پہ میرا نام بھی ہے
وہ چشمِ مست مۓ بھی جام بھی ہے
پھِرے تو گردشِ ایام بھی ہے
نوائے چنگ و بربط سننے والو
پس پردہ بڑا کہرام بھی ہے

سجدہ کر کے قدم یار پہ قرباں ہونا​

سجدہ کر کے قدمِ یار پہ قرباں ہونا​
یوں لکھا تھا مِری قسمت میں مسلماں ہونا ​
جس کا مذہب ہو فقط یادِ صنم دیدِ صنم​
وہ نہیں جانتا کافر یا مسلماں ہونا ​
حُسن کو پُوجنا اور جامِ محبت پینا​
مشربِ عشق میں یوں صاحبِ ایماں ہونا ​

Wednesday, 21 October 2015

ہمارے میکدے کا اب نظام بدلے گا

ہمارے مے کدے کا اب نظام بدلے گا
ہم اپنا ساقی جو بدلیں گے، جام بدلے گا
ابھی تو چند ہی میکش ہیں باقی سب تشنہ
وہ وقت آ گیا ہے جب تشنہ کام بدلے گا
یہ الٹی الٹی ہوائیں ہیں وجہِ سست روی
ہوائیں بدلیں گی، طرزِ خرام بدلے گا

زباں تک جو نہ آئے وہ محبت اور ہوتی ہے

زباں تک جو نہ آئے وہ محبت اور ہوتی ہے
فسانہ اور ہوتا ہے، حقیقت اور ہوتی ہے
نہیں ملتے تو اک ادنیٰ شکایت ہے نہ ملنے کی
مگر مل کر نہ ملنے کی شکایت اور ہوتی ہے
یہ مانا، شیشۂ دل💝 رونقِ بازارِِ الفت ہے
مگر جب ٹوٹ جاتا ہے تو قیمت اور ہوتی ہے

آج کی شام ہے کس درجہ حسیں کتنی اداس

آج کی شام ہے کس درجہ حسِیں کتنی اداس
ہو بھری بزم میں تنہائی کا جیسے احساس
اٹھنے ہی والا ہے پھر کیا کوئی طوفاں نیا
پھر طبیعت ہوئی جاتی ہے زیادہ حساس
آج کیوں ان میں نہیں جرأتِ تعزیر، کہ ہم
منتظر کب سے کھڑے ہیں رسن و دار کے پاس

تجھ سے مل کے دل میں رہ جاتی ہے ارمانوں کی بات

تجھ سے مل کے دل میں رہ جاتی ہے ارمانوں کی بات
یاد رہتی ہے کسے ساحل پہ طوفانوں کی بات
وہ تو کہیے آج بھی زنجیر میں جھنکار ہے
ورنہ کس کو یاد رہ جاتی ہے دیوانوں کی بات
کیا کبھی ہو گی کسی کی تُو، مگر اے زندگی
جان دے کر ہم نے رکھ لی تیرے دیوانوں کی بات

مرے حوصلوں کو فضائے بال و پر کی تلاش ہے

مِرے حوصلوں کو فضائے بال و پر کی تلاش ہے
مِرے گلستاں کو نئے نظام گُل و شجر کی تلاش ہے
مجھے اس جنوں کی ہے جستجو جو چمن کو بخش دے رنگ و بُو
جو نوید فصل بہار ہو،  مجھے اس نظر کی تلاش  ہے
مجھے اس سحر کی ہو کیا خوشی جو ہو ظلمتوں میں گھِری ہوئی
مِری شام غم کو جو لوٹ لے مجھے اس سحر کی تلاش ہے