زہراب پینے والے امر ہو کے رہ گئے
نیساں کے چند قطرے گہر ہو کے رہ گئے
اہل جنوں وہ کیا ہوئے جن کے بغیر ہم
اہل خرد کے دست نگر ہو کے رہ گئے
صحرا گئے تو شہر میں اک شور مچ گیا
جب لوٹ آئے شہر بدر ہو کے رہ گئے
زہراب پینے والے امر ہو کے رہ گئے
نیساں کے چند قطرے گہر ہو کے رہ گئے
اہل جنوں وہ کیا ہوئے جن کے بغیر ہم
اہل خرد کے دست نگر ہو کے رہ گئے
صحرا گئے تو شہر میں اک شور مچ گیا
جب لوٹ آئے شہر بدر ہو کے رہ گئے