Saturday, 17 October 2026

بگاڑ کر مری مٹی کھنگالتے کیا ہو

 بِگاڑ کر مِری مٹی کھنگالتے کیا ہو؟

سِتمگرو! مِری دُنیا اُجاڑتے کیا ہو؟

مِرے وجود سے جاں تو نکال لی تم نے

فرعونِ عصر! بتاؤ گے چاہتے کیا ہو؟

تمہارے چہروں کے تیور تو اور ہی کچھ ہیں

دلوں میں کیا ہے ہمیں یوں پچھاڑتے کیا ہو؟

عدُو تھے رات کو آئے وہ لے گئے سب کچھ

اے پہرہ دارو! یہ سرحد پہ جاگتے کیا ہو؟

گلی میں اپنی تو چُوہا بھی شیر ہوتا ہے

لڑو! ناں، بر سرِ میدان بھاگتے کیا ہو؟

وطن تو جان بھی مانگے تو دینی پڑتی ہے

گھروں میں چھُپ کے ہو بیٹھے سنبھالتے کیا ہو؟

یہ خوف ہے کہ یہ وحشت تمہارے سینے کی

مَرے ہوؤں کو بھلا اور مارتے کیا ہو؟

پہاڑ رکھ کے سروں پر بھرا نہیں ہے دل

ہمارے کاندھوں پہ یہ بوجھ لادتے کیا ہو؟

ہمارے دوست ہو یا کہ ہمارے دُشمن ہو؟

ہمیشہ اپنی مناتے ہو، مانتے کیا ہو؟

کوئی خُمار ہے؟ آؤ محاذ پر ملنے

غلام ہم نہیں ہم کو یہ ڈانٹتے کیا ہو؟

چلے ہو ہم کو مٹانے جہان سے بالکل

ہمارا شجرہ نسب تم بھی جانتے کیا ہو؟

شجر ہیں اوندھے پڑے پھُول بھی ہیں مسلے ہوئے

خون ہی خون ہے ہر سُو سنوارتے کیا ہو؟

سخن سرا میں سبھی مست و خُوش بڑے فیضی

تمہی یہ درد کے نشتر نکالتے کیا ہو؟


مبشر حسین فیضی

No comments:

Post a Comment