Showing posts with label رئیس فروغ. Show all posts
Showing posts with label رئیس فروغ. Show all posts

Wednesday, 14 May 2025

شاہیں صفت یہ تیرے جواں اے فضائے پاک

 شاہیں صفت یہ تیرے جواں (ہوا بازِ وطن)


شاہیں صفت یہ تیرے جواں اے فضائے پاک

ان غازیوں پہ سایہ فگن ہے خدائے پاک

شاہیں صفت یہ تیرے جواں اے فضائے پاک

سینوں میں صبر و ضبط و سکونو رضاکا نور

چہروں پہ لطف و مہر و خلوص و وفا کا نور

پیشانیوں پہ جذبۂ بے انتہا کا نور

Wednesday, 16 November 2022

جینے کی مزدوری کو بیگار کہوں یا کام کہوں

 جینے کی مزدوری کو بیگار کہوں یا کام کہوں

نقد مرگ عطا ہوتا ہے صلہ کہوں، انعام کہوں

خوف کو میں نے ہنر بنایا دیکھ ایسا چالاک ہوں میں

تیرا نام نہیں لیتا ہوں، برکھا رت کی شام کہوں

اپنا حال نہ جانے کیا ہے ویسے بات بنانے کو

دنیا پوچھے درد بتاؤں، تُو پوچھے آرام کہوں

Sunday, 12 June 2022

آنکھیں جن کو دیکھ نہ پائیں سپنوں میں بکھرا دینا

 آنکھیں جن کو دیکھ نہ پائیں، سپنوں میں بکھرا دینا

جتنے بھی ہیں روپ تمہارے، جیتے جی دِکھلا دینا

رات اور دن کے بِیچ کہیں پر جاگے سوئے رستوں میں

میں تم سے اِک بات کہوں گا، تم بھی کچھ فرما دینا

اب کی رُت میں جب دھرتی کو برکھا کی مہکار مِلے

میرے بدن کی مٹی کو بھی رنگوں میں نہلا دینا

Tuesday, 11 May 2021

آنکھوں کے کشکول شکستہ ہو جائیں گے شام کو

 آنکھوں کے کشکول شکستہ ہو جائیں گے شام کو

دن بھر چہرے جمع کئے ہیں کھو جائیں گے شام کو

سارے پیڑ سفر میں ہوں گے اور گھروں کے سامنے

جتنے پیڑ ہیں اتنے سائے لہرائیں گے شام کو

دن کے شور میں شامل شاید کوئی تمہاری بات بھی ہو

آوازوں کے اُلجھے دھاگے سُلجھائیں گے شام کو

Monday, 7 December 2020

اپنے ہی شب و روز میں آباد رہا کر​

 اپنے ہی شب و روز میں آباد رہا کر​

ہم لوگ برے لوگ ہیں ہم سے نہ ملا کر​

​شاید کسی آواز کی خوشبو نظر آئے​

آنکھیں ہیں تو خوابوں کی تمنا بھی کیا کر​

​باتوں کے لیے شکوۂ موسم ہی بہت ہے

کچھ اور کسی سے نہ کہا کر نہ سنا کر​

Tuesday, 20 December 2016

سڑکوں پہ گھومنے کو نکلتے ہیں شام سے

سڑکوں پہ گھومنے کو نکلتے ہیں شام سے
آسیب اپنے کام سے،۔ ہم اپنے کام سے
نشّے میں ڈگمگا کے نہ چل، سیٹیاں بجا
شاید کوئی ”چراغ“ اتر آئے،۔۔ بام سے
دَم کیا لگا لیا ہے کہ سارے دکان دار
چکھنے میں لگ رہے ہیں مجھے تُرش آم سے

تمہارے ساتھ ہمارا سفر عجب ہے میاں

تمہارے ساتھ ہمارا سفر عجب ہے میاں
شجر شجر پہ امربیل کیا غضب ہے میاں
ذرا بھی تیز ہوا شعلۂ نوا تو یہ لوگ
یہی کہیں گے کہ درویش بے ادب ہے میاں
بلند بانگ تِرے نغمہ گر ہزار سہی
ہمارے پاس تو اک حرفِ زیر لب ہے میاں

اپنے ہی شب و روز میں آباد رہا کر

اپنے ہی شب و روز میں آباد رہا کر
ہم لوگ برے لوگ ہیں ہم سے نہ ملا کر
شاید کسی آواز کی خوشبو نظر آئے
آنکھیں ہیں تو خوابوں کی تمنا بھی کیا کر
باتوں کے لیے شکوۂ موسم ہی بہت ہے
کچھ اور کسی سے نہ کہا کر، نہ سنا کر

راتوں کو دن سپنے دیکھوں دن کو بتاؤں سونے میں

راتوں کو دن سپنے دیکھوں دن کو بِتاؤں سونے میں
میرے لیے کوئی فرق نہیں ہے ہونے اور نہ ہونے میں
برسوں بعد اسے دیکھا تو آنکھوں میں دو ہیرے تھے
اور بدن کی ساری چاندی چھپی ہوئی تھی سونے میں
دھرتی تیری گہرائی میں ہوں گے میٹھے سوت مگر
میں تو صَرف ہُوا جاتا ہوں کنکر پتھر ڈھونے میں

ہمہ وقت جو مرے ساتھ ہیں یہ ابھرتے ڈوبتے سائے سے

ہمہ وقت جو مِرے ساتھ ہیں یہ ابھرتے ڈوبتے سائے سے
کسی روشنی کے سراب ہیں کہ ملے ہر اپنے پرائے سے
خم جادہ سے میں پیادہ پا،۔ کبھی دیکھ لیتا ہوں خواب سا
کہیں دور جیسے دھواں اٹھا کسی بھولی بسری سرائے سے
اٹھی موجِ درد تو یک بہ یک مِرے آس پاس بکھر گئے
مہ نیم شب کے اِدھر اُدھر جو لرز رہے تھے کنائے سے

سفر میں جب تلک رہنا گھروں کی آرزو کرنا

سفر میں جب تلک رہنا گھروں کی آرزو کرنا
گھروں میں بیٹھ کر بیتے سفر کی گفتگو کرنا
رفوگر چاند نکلا ہے نہ تارے ہیں نہ جگنو ہیں
رفوگر اپنے ہاتھوں کے اجالے میں رفو کرنا
تمہیں دیکھیں نہ دیکھیں ایک عادت ہے کہ ہر شب کو
تمہارے خواب کی سونے سے پہلے آرزو کرنا

منزلوں سے شکستہ پا گزرے

منزلوں سے شکستہ پا گزرے
جلوہ جلوہ، ادا ادا، گزرے
آج موجِ سرور یوں گزری
جس طرح کوئی سانحہ گزرے
داغِ دل تو مہک ہی اٹھتا ہے
تم گزر جاؤ، یا صبا گزرے

Monday, 10 October 2016

جینے کی مزدوری کو بیگار کہوں یا کام کہوں

جینے کی مزدوری کو بیگار کہوں یا کام کہوں
نقد مرگ عطا ہوتا ہے، صلہ کہوں، انعام کہوں
خوف کو میں نے ہنر بنایا دیکھ ایسا چالاک ہوں میں
تیرا نام نہیں لیتا ہوں، برکھا رُت کی شام کہوں
اپنا حال نہ جانے کیا ہے ویسے بات بنانے کو
دنیا پوچھے درد بتاؤں، تُو پوچھے آرام کہوں

فضا اداس ہے سورج بھی کچھ نڈھال سا ہے

فضا اداس ہے سورج بھی کچھ نڈھال سا ہے
یہ شام ہے کہ کوئی فرش پائمال سا ہے
تِرے دیار میں کیا تیز دھوپ تھی، لیکن
گھنے درخت بھی کچھ کم نہ تھے خیال سا ہے
کچھ اتنے پاس سے ہو کر وہ روشنی گزری
کہ آج تک در و دیوار کو ملال سا ہے

فضا ملول تھی میں نے فضا سے کچھ نہ کہا

فضا ملول تھی، میں نے فضا سے کچھ نہ کہا
ہوا میں دھول تھی میں نے ہوا سے کچھ نہ کہا
یہی خیال، کہ برسے تو خود برس جائے
سو عمر بھر کسی کالی گھٹا سے کچھ نہ کہا
ہزار خواب تھے آنکھوں میں لالہ زاروں کے
ملی سڑک پہ تو بادِ صبا سے کچھ نہ کہا

Monday, 30 November 2015

ہاتھ ہمارے سب سے اونچے ہاتھوں ہی سے گلہ بھی ہے

ہاتھ ہمارے سب سے اونچے ہاتھوں ہی سے گِلہ بھی ہے
گھر ایسے کو سونپ دیا جو آگ بھی ہے اور ہوا بھی ہے
اپنی انا کا جال کسی دن پاگل پن میں توڑوں گا
اپنی انا کے جال کو میں نے پاگل پن میں بُنا بھی ہے
دِیے کے جلنے اور بجھنے کا بھید سمجھ میں آئے تو کیا
اسی ہوا سے جل بھی رہا تھا، اسی ہوا سے بجھا بھی ہے

جینے کی مزدوری کو بیگار کہوں یا کام کہوں

جینے کی مزدوری کو بے گار کہوں یا کام کہوں
نقد مرگ عطا ہوتا ہے، صلہ کہوں، انعام کہوں
خوف کو میں نے ہنر بنایا دیکھ ایسا چالاک ہوں میں
تیرا نام نہیں لیتا ہوں، برکھا رت کی شام کہوں
اپنا حال نہ جانے کیا ہے ویسے بات بنانے کو
دنیا پوچھے درد بتاؤں، تُو پوچھے آرام کہوں