Tuesday, 20 December 2016

سڑکوں پہ گھومنے کو نکلتے ہیں شام سے

سڑکوں پہ گھومنے کو نکلتے ہیں شام سے
آسیب اپنے کام سے،۔ ہم اپنے کام سے
نشّے میں ڈگمگا کے نہ چل، سیٹیاں بجا
شاید کوئی ”چراغ“ اتر آئے،۔۔ بام سے
دَم کیا لگا لیا ہے کہ سارے دکان دار
چکھنے میں لگ رہے ہیں مجھے تُرش آم سے
غصے میں دوڑتے ہیں ٹرک بھی لدے ہوئے
میں بھی بھرا ہوا ہوں بہت انتقام سے
دشمن ہے ایک شخص بہت ایک شخص کا
ہاں عشق ایک نام کو ہے ایک نام سے
میرے تمام عکس مِرے کرّ و فر کے ساتھ
میں نے بھی سب کو دفن کیا دھوم دھام سے
مجھ بے عمل سے ربط بڑھانے کو آئے ہو
یہ بات ہے اگر تو گئے تم بھی کام سے
ڈر تو یہ ہے ہوئی جو کبھی دن کی روشنی
اس روشنی میں تم بھی لگو گے عوام سے
جس دن سے اپنی بات رکھی شاعری کے بیچ
میں کٹ کے رہ گیا شعرائے کرام سے

رئیس فروغ

No comments:

Post a Comment