بس اک نِگاہ میں قِصہ تمام ہوتا ہے
تو کیا یہ واقعی اتنا سا کام ہوتا ہے؟
کسی کے سرد رویے پہ خامشی کا لحاف
یہ انتقام بھی کیا انتقام ہوتا ہے
کبھی کبھی کوئی لقمہ کہیں کہیں کوئی کام
حلال ہوتے ہوئے بھی حرام ہوتا ہے
بس اک نِگاہ میں قِصہ تمام ہوتا ہے
تو کیا یہ واقعی اتنا سا کام ہوتا ہے؟
کسی کے سرد رویے پہ خامشی کا لحاف
یہ انتقام بھی کیا انتقام ہوتا ہے
کبھی کبھی کوئی لقمہ کہیں کہیں کوئی کام
حلال ہوتے ہوئے بھی حرام ہوتا ہے
ہجر کی راہ کسی کے لیے آسان نہیں
منع کرتا ہوں تو ہو جایا کرو، جان نہیں
اب میں چپ چاپ یہی دیکھ رہا ہوتا ہوں
کون اس بزم میں کس بات پہ حیران نہیں
اس کو چھوڑا ہے بہت سوچ سمجھ کر میں نے
سو پریشان تو رہتا ہوں، پشیمان نہیں
عشق نے جب بھی کسی دل پہ حکومت کی ہے
تو اسے درد کی معراج عنایت کی ہے
اپنی تائید پہ خود عقل بھی حیران ہوئی
دل نے ایسے مِرے خوابوں کی حمایت کی ہے
شہرِ احساس تِری یاد سے روشن کر کے
میں نے ہر گھر میں تِرے ذکر کی جرأت کی ہے
مولا! کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیو
دلبر نہیں تو پھر کوئی دیگر نہ دیجیو
اپنے سوال سہل نہ لگنے لگیں اسے
آتے بھی ہوں جواب تو فر فر نہ دیجیو
چادر وہ دیجیو اسے جس پر شکن نہ آئے
جس پر شکن نہ آئے وہ بستر نہ دیجیو
کیسی آسودگی جب تلک مر نہیں دیکھتے
جن کے پیشِ نظر عشق ہو، سر نہیں دیکھتے
جیسے میں دیکھتا ہوں جو مجھ کو دکھائی نہ دے
آپ کیوں اپنے من چاہے منظر نہیں دیکھتے
اور تو ایسی کوئی شکایت نہیں ہے، مگر
آپ میری جگہ خود کو رکھ کر نہیں دیکھتے
میں نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہو
لیکن اب ٹھان چکے ہو تو چلو اچھا ہو
ہم تو یہ بھی نہیں کہتے کہ ہمیں کیا مطلب
اس کو ہوتا ہے کوئی غم تو بھلے ہوتا ہو
تم سے ناراض تو میں اور کسی بات پہ ہوں
تم مگر اور کسی وجہ سے شرمندہ ہو