Showing posts with label جواد شیخ. Show all posts
Showing posts with label جواد شیخ. Show all posts

Tuesday, 31 October 2023

بس اک نگاہ میں قصہ تمام ہوتا ہے

 بس اک نِگاہ میں قِصہ تمام ہوتا ہے

تو کیا یہ واقعی اتنا سا کام ہوتا ہے؟

کسی کے سرد رویے پہ خامشی کا لحاف

یہ انتقام بھی کیا انتقام ہوتا ہے

کبھی کبھی کوئی لقمہ کہیں کہیں کوئی کام

حلال ہوتے ہوئے بھی حرام ہوتا ہے

Friday, 1 July 2022

ہجر کی راہ کسی کے لیے آسان نہیں

 ہجر کی راہ کسی کے لیے آسان نہیں

منع کرتا ہوں تو ہو جایا کرو، جان نہیں

اب میں چپ چاپ یہی دیکھ رہا ہوتا ہوں

کون اس بزم میں کس بات پہ حیران نہیں

اس کو چھوڑا ہے بہت سوچ سمجھ کر میں نے

سو پریشان تو رہتا ہوں، پشیمان نہیں

Friday, 3 December 2021

عشق نے جب بھی کسی دل پہ حکومت کی ہے

 عشق نے جب بھی کسی دل پہ حکومت کی ہے

تو اسے درد کی معراج عنایت کی ہے 

اپنی تائید پہ خود عقل بھی حیران ہوئی 

دل نے ایسے مِرے خوابوں کی حمایت کی ہے

شہرِ احساس تِری یاد سے روشن کر کے

میں نے ہر گھر میں تِرے ذکر کی جرأت کی ہے

Friday, 27 August 2021

مولا کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیو

 مولا! کسی کو ایسا مقدر نہ دیجیو

دلبر نہیں تو پھر کوئی دیگر نہ دیجیو

اپنے سوال سہل نہ لگنے لگیں اسے 

آتے بھی ہوں جواب تو فر فر نہ دیجیو

چادر وہ دیجیو اسے جس پر شکن نہ آئے 

جس پر شکن نہ آئے وہ بستر نہ دیجیو

Saturday, 5 December 2020

کیسی آسودگی جب تلک مر نہیں دیکھتے

 کیسی آسودگی جب تلک مر نہیں دیکھتے

جن کے پیشِ نظر عشق ہو، سر نہیں دیکھتے

جیسے میں دیکھتا ہوں جو مجھ کو دکھائی نہ دے

آپ کیوں اپنے من چاہے منظر نہیں دیکھتے

اور تو ایسی کوئی شکایت نہیں ہے، مگر

آپ میری جگہ خود کو رکھ کر نہیں دیکھتے

Wednesday, 30 September 2020

میں نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہو

 میں نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہو

لیکن اب ٹھان چکے ہو تو چلو اچھا ہو

ہم تو یہ بھی نہیں کہتے کہ ہمیں کیا مطلب

اس کو ہوتا ہے کوئی غم تو بھلے ہوتا ہو

تم سے ناراض تو میں اور کسی بات پہ ہوں

تم مگر اور کسی وجہ سے شرمندہ ہو

Sunday, 1 January 2017

درگزر جتنا کیا ہے وہی کافی ہے مجھے

درگزر جتنا کِیا ہے وہی کافی ہے مجھے
اب تجھے قتل بھی کر دوں تو معافی ہے مجھے
مسئلہ ایسے کوئی حل تو نہ ہو گا شاید
شعر کہنا ہی مگر غم کی تلافی ہے مجھے
دفعتاً اک نئے احساس نے چونکا سا دیا 
میں تو سمجھا تھا کہ ہر سانس اضافی ہے مجھے

آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیں

آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیں
لیکن ایسا تو نہ کہیے کہ "وفا" کچھ بھی نہیں
آپ کہیے تو نبھاتے چلے جائیں گے، مگر
اس تعلق میں اذیت کے سِوا کچھ بھی نہیں
میں کسی طرح بھی سمجھوتہ نہیں کر سکتا
یا تو سب کچھ ہی مجھے چاہیے یا کچھ بھی نہیں

کہاں ہٹتا ہے نگاہوں سے ہٹائے ہائے

کہاں ہٹتا ہے نگاہوں سے ہٹائے، ہائے 
وہی منظر کہ جسے دیکھ نہ پائے، ہائے 
کیا پتہ ساری تمنائیں دھواں ہو گئی ہوں
کچھ نکلتا ہی نہیں دل سے سوائے، ہائے 
یاد آتی ہوئی اک شکل پہ اللہ، اللہ 
دل میں اٹھتی ہوئی ہر ٹِیس پہ ہائے، ہائے 

Friday, 30 December 2016

جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے

جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے
ہم نے بس آپ کے لیے کیے تھے
تب کہیں جا کے اپنی مرضی کی
پہلے اپنوں سے مشورے کیے تھے
کبھی، اس کی نِگہ میسر تھی
کیسے کیسے مشاہدے کیے تھے

مرے حواس پہ حاوی رہی کوئی کوئی بات

مِرے حواس پہ حاوی رہی کوئی کوئی بات
کہ زندگی سے سوا خاص تھی کوئی کوئی بات
یہ اور بات، کہ محسوس تک نہ ہونے دوں
جکڑ سی لیتی ہے دل کو تِری کوئی کوئی بات
خوشی ہوئی، کہ ملاقات رائیگاں نہ گئی
اسے بھی میری طرح یاد تھی کوئی کوئی بات

کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے

کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے
پھر سارے کا سارا کیسے ہو سکتا ہے 
تجھ سے جب مل کر بھی اداسی کم نہیں ہوتی
تیرے بغیر گزارا کیسے ہو سکتا ہے
کیسے کسی کی یاد ہمیں زندہ رکھتی ہے
ایک خیال سہارا کیسے ہو سکتا ہے

Wednesday, 28 December 2016

نہیں کہ پند و نصیحت کا قحط پڑ گیا ہے

نہیں کہ پند و نصیحت کا قحط پڑ گیا ہے
ہماری بات میں برکت کا قحط پڑ گیا ہے
تو پھر یہ ردِ مناجات کی نحوست کیوں
کبھی سنا کہ عبادت کا قحط پڑ گیا ہے
ملال یہ ہے کہ اس پر کوئی ملول نہیں
ہمارے شہر میں حیرت کا قحط پڑ گیا ہے

عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیے

عرضِ الم بہ طرزِ تماشا بھی چاہیے
دنیا کو حال ہی نہیں حلیہ بھی چاہیے
دل یہ بھی چاہتا ہے کہ سب کچھ بیان ہو
اندر کی بات کا اِسے پردہ بھی چاہیے
اے دل! کسی بھی طرح مجھے دستیاب کر
جتنا بھی چاہیے اسے جیسا بھی چاہیے

نہیں ایسا بھی کہ یکسر نہیں رہنے والا

نہیں ایسا بھی کہ یکسر نہیں رہنے والا
دل میں یہ شور برابر نہیں رہنے والا
جس طرح خامشی لفظوں میں ڈھلی جاتی ہے
اس میں تاثیر کا عنصر نہیں رہنے والا
اب یہ کس شکل میں ظاہر ہو خدا ہی جانے
رنج ایسا ہے کہ اندر نہیں رہنے والا

Wednesday, 2 November 2016

ایک تصویر کہ اول نہیں دیکھی جاتی

ایک تصویر کہ اول نہیں دیکھی جاتی 
دیکھ بھی لوں تو مسلسل نہیں دیکھی جاتی 
دیکھی جاتی ہے محبت میں ہر اک جنبشِ دل 
صرف سانسوں کی ریہرسل نہیں دیکھی جاتی 
اک تو ویسے بڑی تاریک ہے خواہش نگری 
پھر طویل اتنی کہ پیدل نہیں دیکھی جاتی 

ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹے

ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹے
کہ جسے دیکھ کے ہر دیکھنے والا ٹوٹے
تُو اسے کس کے بھروسے پہ نہیں کات رہی 
چرخ کو دیکھنے والی! تِرا چرخہ ٹوٹے 
اپنے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹے کب تک 
ایک انسان کی خاطر کوئی کتنا ٹوٹے 

یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہا

یہ وہم جانے میرے دل سے کیوں نکل نہیں رہا
کہ اس کا بھی مِری طرح سے جی سنبھل نہیں رہا
کوئی ورق دکھا جو اشکِ خوں سے تر بتر نہ ہو 
کوئی غزل دکھا جہاں وہ داغ جل نہیں رہا 
میں ایک ہجرِ بے مراد جھیلتا ہوں رات دن 
جو ایسے صبر کی طرح ہے جس کا پھل نہیں رہا